تازہ ترین

جمعہ، 2 اکتوبر، 2020

ہاتھرس ڈی ایم کی غنڈہ گردی،گاؤں سے چھپ کر آئے لڑکے نے کہا بڑے ابو کے سینے پر ڈی ایم نے ماری لات ،فون چھین کر سب کو گھر میں کیا نظر بند!

ہاتھرس۔(یو این اے نیوز 2اکتوبر 2020)ہاتھرس ڈی ایم کا ایک اور نیا کار نامہ سامنے آیا ہے،. گاؤں سے بھاگ کر آئے  ایک لڑکے نے  کہا   اسے  متاثرہ لڑکی کے خاندان والوں نے بھیجا ہے . وہ میڈیا سے بات کرنا چاہتے ہیں لیکن انھیں نظر بند کردیا گیا ہے. ان کا موبائل چھین لیا گیا ہے، اور کمرے میں بند کردیا گیا ہے.

 واضح رہے ہاتھرس ریپ کانڈ میں پولیس اور انتظامیہ کے کام پر مسلسل سوالات کھڑے ہورہے ہیں. متاثرہ کے گاؤں کا پولیس نے  محاصرہ کر لیا ہے  کسی کو گاؤں سے باہر آنے کی  اور باہر سے گاؤں میں جانے کی اجازت نہیں دی گئی ہے ادھر  گاؤں سے چھپ کر میڈیا کے پاس آئے لڑکے نے   پولیس انتظامیہ پر سنگین الزامات لگایا ہے . لڑکے نے کہا ہے کہ متاثرہ لڑکی کا خاندان میڈیا سے بات کرنا چاہتا ہے لیکن انھیں گھر میں قید کردیا گیا ہے۔ 


ہرکسی کے فون  چھین لئے گئے ہیں  ۔لڑکے نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ  بڑے ابو (تاؤ) کے  سینے پر ڈی ایم نے لات ماری ہے ،جس سے وہ بیہوش ہوگئے، پولیس گاؤں کے لوگوں کو کہیں آنے جانے نہیں دے رہی ،لوگوں کے فون چھین کر انھیں کمروں میں بند کردیا ہے ،کسی کے پاس فون تک نہیں ہے،سب بہت ڈرے ہوئے ہیں، پریشان ہیں اور رو رہے ہیں لیکن انکی کوئی سن نہیں رہا ہے۔


ڈی ایم من مانی کررہے ہیں ۔لڑکے نے کہا ہم کسی طرح چھپ کر میڈیا کے پاس پہنچے ہیں متاثرہ لڑکی کے گھر والے نے ہمیں آپ تک بھیجا ہے کہا ہے میڈیا والوں کو بلا لاؤ ہمیں ان لوگوں سے بات کرنی ہے ۔واضح رہے متاثرہ لڑکی کے انتقال کرجانے کے بعد پولیس انتظامیہ نے گھر والوں کی اجازت کے بغیر  ہندو رسم رواج کےخلاف  اسکی لاش کو رات ہی میں آگ کے حوالے کردیا ،جس سے ملک کی عوام اور سیاسی جماعتوں کا  ملک بھر میں احتجاج جاری ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad