دیوبند3/ اکتوبر (دانیال خان) اب وقت آ گیا ہے کہ مدارس اور خانقاہوں کو مل کر قوم کی رہنمائی کرنی چاہیے اور مسلکوں کے اختلافات کو بھلا کر قوم کو اتحاد بین المسلمین کی طرف لے کر چلنا چاہیے تاکہ مسلمانوں کے درپیش تمام مسائل کو مل جل کر حل کیا جا سکے -ان خیالات کا اظہار درگاہ خواجہ اجمیر شریف کے سابق ممبر اور راجستھان اقلیتی کانگریس کے سینئر لیڈر محمد الیاس قادری نے درگاہ پیران کلیر شریف سے واپسی پر منگلور روڈ پر واقع ایک ہوٹل میں صحافیوں سے گفتگوکے دوران کیا۔انہوں نے کہا کہ اتر پردیش و اتراکھنڈ میں آنے والے انتخابات میں کانگریس کثیر اکثریت سے حکومت بنائے گی اور مسلمانوں کے مسائل کو حل کرنے کے لیے کام کرے گی-
![]() |
| فوٹو۔ محمد الیاس قادری |
انہوں نے کہا کہ جب سے بی جے پی برسراقتدار آئی ہے کسانوں کا استحصال,قتل, بے روزگاری اور ریپ کے واقعات میں اضافہ ہواہے۔ محمد الیاس قادری نے کہا کہ جس صوبے میں بھی بی جے پی کی حکومت ہے وہاں پر کوئی ترقی کے کام نہیں ہوئے ہیں بلکہ سماج میں نفرت اور خوف و ہراس کا ماحول پیدا کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے یوپی کے ہاتھ رس میں ہوئی دلت لڑکی کی آبروریزی معاملہ میں پولیس کے رویہ کی مذمت کرتے ہوئے
کہ یہ بڑے افسوس کا مقام ہے کے مقتول لڑکی کے اہل خانہ کو نظر بد رکھا گیااور میڈیا و سیاسی لوگوں کو ان سے ملنے نہیں دیا گیا - انہوں نے کہا کہ پولیس اور ایڈمنسٹریشن وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کے ہاتھ کی کٹھ پتلی بنا ہوا ہے جبکہ راجستھان کے باراں میں جو لڑکی کے ساتھ حادثہ ہوا اس پر حکومت نے فوری طور ملزمان کے خلاف سخت کاروائی کی ہے۔
الیاس قادری نے کہا کہ اتراکھنڈ میں عام آدمی پارٹی صرف بی جے پی کو فائدہ پہنچانے کے لیے سرگرم ہے یہی نہیں بھیم آرمی اوراسعد الدین اویسی کی پارٹی ایم آئی ایم بھی بی جے پی کے اشاروں پر کام کر رہی ہے،اس لئے کسی کے بہکاوے میں نہ آکر اب اقلیتوں اور کمزور طبقوں کو ایک ساتھ مل کر کانگریس کا ساتھ دینا چاہیے تاکہ بی جے پی کو مرکز اور صوبوں سے بے دخل کیا جا سکے۔ انہوں نے تمام مسلک ملک کے علما ء سے اپیل کی کہ وہ وقت کی ضرورت کو دیکھتے ہوئے کانگریس کے لئے قوم کو بیدار کریں۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں