ہاتھرس۔اسماعیل عمران ۔(یو این اے نیوز 4اکتوبر 2020)شاہین باغ کی دادی 82سالہ بلقیس بانوں سے اے اے اور این آر سی کے خلاف دنیابھر میں سب سے طویل اور پر امن احتجاج کی زندہ علامت بن چکے شاہین باغ کی دبنگ دادیوں میں سے بلقیس دادی دنیا کی 100 عظیم بااثر شخصیات میں نام شامل کرنے والی خاتون نے آج اے بی پی نیوز چینل کی نمائندہ مدیہا خان سے بات چیت میں کہا میں ہاتھرس کی لڑکی کے اہل خانہ سے ملنا چاہتی ہوں انکے دکھ درد میں شامل ہونا چاہتی ہوں ۔
حکومت سے اجازت چایتی ہوں کہ مجھے ہاتھرس کی بیٹی (منیشا )کے اہل خانہ سے ملنے دیا جائے ۔دادی نے کہا کہ سب کی بیٹی میری بیٹی ہے اس میں کوئی فرق نہیں ہے ۔ کل کے دن ہماری بیٹیوں کے ساتھ ہوگا ۔سب کا دکھ ہمارے سینے میں ایک جیسا ہے۔
مدیہا خان نے دبنگ دادی سے پوچھا جن لوگوں نے لڑکی کے ساتھ زیادتی کی انکے بارے میں اپ کیا کہنا چاہتی ہیں؟ دادی نے کہا انھیں پھانسی ہونی چاہیے کڑی سے کڑی سزا ہونی چاہیے ۔اسکی جگہ اگر میرا بیٹا بھی ہوتا تو اسکو بھی پھانسی دی جانی چاہیے۔دادی نے کہا ہاتھرس میں جو کچھ میڈیا والوں کے ساتھ ہوا ہے وہ غلط ہوا ہے کسی کو وہاں جانے نہیں دیا جارہا ہے یہ سب غلط ہورہا ہے ۔ہم مظلوم منیشا کے اہل خانہ سے ملنے کی اجازت چاہتے ہیں ۔
ہمیں انکے اہل خانہ سے ملنے دیا جائے ۔واضح رہے گزشتہ 14 ستمبر کےروز 20 سالہ دلت بیٹی کےساتھ گینگ ریپ ہوتا ہے ،اسکے اہل خانہ قریب کے اسپتال میں اسکے علاج کے لے جاتے ہیں جہاں حالت نازک پے نازک بنتی چلی جاتی ہے ،28ستمبر کو اسے ایک اچھے علاج کےلئے صفدر گنج اسپتال میں 3بجکر 30منٹ پر داخل کیا گیا ،اسے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے جواہر لال نہرو میڈیکل یونیورسٹی سے ریفر کیاگیا تھا۔ جہاں علاج شروع کیا گیا اسکے باوجود 29ستمبر کی صبح 6:25بجے انتقال ہوگیا۔واضح رہے ہاتھرس کی بیٹی کے انتقال کے بعد سے پورے ملک میں درندوں کو پھانسی دینے کے مطالبہ کو لیکر احتجاج جاری ہے

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں