کشن گنج / رائے پور 2/ اکتوبر بہار میں ۰۲۰۲ء کے اسمبلی انتخابات کے اعلان کے بعد سے ہی جوڑ توڑ کی سیاست نے زور پکڑ لیا ہے، کہیں کانگریس اور آر جے ڈی کے درمیان سیٹوں کی تقسیم پر بات نہیں بن پارہی ہے تو کہیں پپو یادو کانگریس کو اپنے ساتھ اتحاد کی دعوت دیتے نظر آرہے ہیں؛ ان سب کے بیچ ایک بدنام زمانہ پارٹی ایم آئی ایم بھی بہار میں انتخابات لڑنے کے لیے بہت اتاؤلی ہوئی جارہی ہے،
بہار اسمبلی انتخابات میں ایم آئی ایم نے دو مرحلوں میں کل پچاس سیٹوں کی فہرست جاری کردی ہے؛ اسی بیچ ایم آئی ایم کا ایک گمنام پارٹی سماجوادی ڈیموکریٹک جنتا دل سے اتحاد بھی ہوگیا جس پر پورے ہندوستان میں ایم آئی ایم کے چاہنے والوں نے خوب خوشیاں منائی؛ گویا یہ اتحاد بہار میں اویسی کی حکومت بنانے کا پیش خیمہ ہو۔ حالانکہ سماجوادی ڈیموکریٹک پارٹی کی بہار کے کسی بھی کونے میں کوئی حیثیت نہیں ہے،
تو پھر ایم آئی ایم نے اس سے اتحاد کیوں کیا؛ اس لیے کہ کوئی دوسری مضبوط پارٹی ایم آئی ایم کو چارہ نہیں ڈال رہی تھی؛ بلکہ کوئی بھی پارٹی ایم آئی ایم سے گٹھ بندھن کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتی، اور اس کی واحد وجہ ایم آئی ایم کا تشدد پسند سیاسی نظریہ ہے، خیر ہم اس اتحاد کو ان دونوں پارٹیوں کے ذریعے بہار کے ووٹروں کو گمراہ کرنے کی ساش سمجھتے ہیں، اس سے صرف اور صرف این ڈی اے کو فائدہ ہوگا۔ مولانا عبدالوکیل قاسمی (سماجی خدمت گار) نے اخباری بیان میں ان خیالات کا اظہار کیا۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں