تازہ ترین

ہفتہ، 5 ستمبر، 2020

کیا عدالت صحابہ ایک عقیدہ ہے؟

 یاسر ندیم الواجدیاصحاب فتنہ کے تعلق سے میرے سلسلہء مضامین کے پہلے مضمون میں، میں نے یہ بات کہی تھی کہ عدالت صحابہ کا مسئلہ عقیدے سے تعلق رکھتا ہے۔ میرے مضمون کا جواب دینے والے شخص نے (واضح رہے کہ میری تحریرات کسی فرد واحد کے افکار کا جواب نہیں ہیں، بلکہ یہ رافضیت سے متاثر تنقیص صحابہ سے متعلق افکار کا جواب ہیں جن کو "صاحب فتنہ" نے سوشل میڈیا کے ذریعے عام نوجوانوں تک پہنچایا ہے اور ان کے ذہنوں کو اس حد تک آلودہ کر دیا ہے کہ وہ حضرت معاویہ کو علی الاعلان جہنمی کہنے لگے ہیں) تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ: "ارے بھائی عدالت صحابہ عقیدے کا نہیں اصول حدیث کا مسئلہ ہے اور وہ اس لیے ہے کہ صحابہ پر تحقیق کا دروازہ بند کر دیا جائے ورنہ بہت فساد مچ جاتا۔۔۔ اگر پہلے طبقہ کو ہی جرح و تعدیل کے اصول میں دیکھتے تو کون قابل یقین رہ جاتا"۔

 اس تبصرے میں پہلی بات تو یہ ہے کہ معترض کے بقول عدالت صحابہ عقیدے کا مسئلہ نہیں ہے، یہ خیال معترض کا اپنا نہیں ہے، بلکہ ان سے بہت پہلے مولانا مودودی خلافت وملوکیت میں اس نظریے کا اظہار کر چکے ہیں کہ یہ مسئلہ اصول حدیث کا ہے۔ (خلافت وملوکیت 303) ظاہر ہے کہ علماے امت نے ان کے اس نظریے کا تعاقب کرکے اس مسئلے کو دو اور دو چار کی طرح واضح کر دیا تھا۔ معترض کے اس تبصرے میں سب سے خطرناک چیز وہ نفسیات ہے، جس کو "صاحب فتنہ" نے اپنے بعض تلامذہ میں پیوست کر دیا ہے۔ کس رافضانہ انداز میں یہ کہا جا رہا ہے کہ اگر صحابہ کرام  کو جرح وتعدیل کے اصول میں دیکھا گیا تو کون قابل یقین رہ جاتا، گویا صحابہ کرام کی جماعت خدانخواستہ ایسے فاسقوں اور فاجروں کی جماعت ہے کہ حدیث رسول کا بھرم باقی رکھنے کے لیے ان سے صرف نظر کر لیا گیا، ورنہ جہاں ان کی چیکنگ ہوتی وہ کسی اوباش جماعت کے فرد نظر آتے،

 اگر بالفرض یہ بات درست ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث قابل اعتبار نہیں ہو سکتی تھی۔  اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اس فکر سے متاثر شخص تنقیص صحابہ سے ہوتا ہوا انکار حدیث کی وادی میں قدم رکھ دیتا ہے۔ "صاحب فتنہ" اس جانب بڑھ چکے ہیں ابھی تو دیکھیے اور کیا کیا گل کھلاتے ہیں۔

عدالت صحابہ کا مسئلہ صرف اصول حدیث سے تعلق نہیں رکھتا ہے بلکہ یہ ایک عقیدہ ہے اور اس کی سب سے پہلی علامت یہ ہے کہ اس مسئلے کو عقائد کی کتابوں میں بڑے پرزور انداز میں بیان کیا گیا ہے۔

 اصول فقہ میں شہادت کے باب میں اس مسئلہ کو ذکر کیا جاتا ہے اور اصول حدیث میں میں قبول روایت کے ضمن میں۔ علمائے متقدمین کی اس سلسلے میں اتنی عبارتیں ہیں کہ ان سب کو ذکر کیا جائے تو ایک کتاب تیار ہوجائے، اس لیے اختصار سے کام لیتے ہوئے اس مسئلے پر روشنی ڈالتا ہو۔

 عدالت کی تعریف کرتے ہوئے مشہور محقق ابن الہمام فرماتے ہیں کہ: "عدالت کا ادنیٰ درجہ کبیرہ گناہوں کا ترک، صغیرہ گناہوں پر عدم اصرار اور خلاف مروت کام سے اجتناب کرنا ہے"۔ (از مقدمہ فتح الملہم 14) الفاظ کے اختلاف کے ساتھ یہی تعریف تقریبا فقہاء اور محدثین کے یہاں معتبر ہے۔ ایک مشہور اور صحیح حدیث کے مطابق کبائر کی فہرست میں شرک اور سحر کے بعد قتل نفس کا تذکرہ ملتا ہے۔ لہذا قاتل وہ بھی ایک شخص کا نہیں بلکہ سینکڑوں لوگوں کا کبھی بھی عادل نہیں ہوسکتا۔ عادل کا پاکباز ومتقی اور پرہیزگار ہونا ضروری ہے۔

صحابہ کرام وصف عدالت سے اس طرح متصف ہیں کہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے: وَأَشْهِدُوا ذَوَيْ عَدْلٍ مِّنكُمْ۔ اپنے میں سے دو عدالت سے متصف لوگوں کو گواہ بناو۔ اس آیت سے یہ ثابت ہوا کہ گواہ کا عادل ہونا ضروری ہے۔ دوسری جگہ ارشاد باری ہے: مِمَّن تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَاءِ۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی فرماتے ہیں کہ: اس آیت میں اللہ تعالی نے گواہوں کا مرضی یعنی پسندیدہ ہونا بتایا ہے اور مرضی (پسندیدہ) ہونے کی تفسیر عدالت کے ساتھ کی جاتی ہے۔ (ازالة الخفاء 20)، کیونکہ شہادت کے لیے پہلی آیت کی روشنی میں عدالت لازمی ہے۔ 

 لہذا جس کو رضا حاصل ہوگی وہ عدالت سے متصف ضرور ہوگا۔ صحابہ کرام کی پوری جماعت کو رضي اللہ عنهم ورضوا عنہ کہہ کر اللہ تعالی نے رضا کا پروانہ عنایت کردیا، جس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ صحابہ کرام کا عدالت سے متصف ہونا ایک قطعی اور یقینی امر ہے۔ ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: رضا اللہ کی صفت قدیمہ ہے، اللہ تعالی اسی آدمی کے متعلق رضامندی کا اظہار کرے گا جس کے بارے میں اسے معلوم ہے کہ وہ موجبات رضا پر پورا اترے گا اور جس سے ایک دفعہ وہ راضی ہو گیا کبھی اس پر ناراض نہ ہو گا۔ (الصارم المسلول 577) 

صحابہ کرام کے بارے میں امت میں یہ عقیدہ کبھی نہیں رہا کہ وہ معصوم عن الخطاء ہیں، بتقاضائے بشریت ان سے گناہ کا صدور ممکن ہے، عام ضابطہ یہ ہے کہ اگر کسی عادل سے گناہ سرزد ہو جائے اور وہ توبہ کرلے تو اس کی عدالت میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ قاضی ابوبکر بن العربی لکھتے ہیں کہ: "گناہ عدالت کو ختم کرنے والے نہیں ہیں جبکہ ان سے توبہ کر لی جائے"۔ (الکفایہ 105) 

دلیل کا پہلا مقدمہ یہ ہے عدالت کا مطلب گناہوں سے اجتناب ہے، دوسرا مقدمہ یہ ہے کہ گواہ کے لیے عادل ہونا ضروری ہے، تیسرا مقدمہ یہ ہے کہ گواہ مرضی ہوتا ہے اور رضا کی تفسیر عدالت ہے، چوتھا مقدمہ یہ ہے کہ اللہ کی رضا جس کو حاصل ہو اس کی عدالت قطعی اور یقینی ہے، پانچواں مقدمہ یہ ہے کہ صحابہ کرام کو اللہ کی رضا حاصل ہے، لہذا نتیجہ یہ نکلا کہ صحابہ کرام کی عدالت قرآنی نصوص کے مطابق قطعی اور یقینی ہے۔ عدالت صحابہ پر پیش کی جانے والی بہت سی دلیلوں میں سے یہ صرف ایک دلیل ہے۔ صرف اسی ایک دلیل سے یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ عدالت صحابہ کا مسئلہ عقیدے سے تعلق رکھتا ہے، متقدمین میں بھی کسی نے اس مسئلے میں اختلاف نہیں کیا ہے۔

 ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں کہ: "اہل سنت کا اتفاق ہے کہ تمام صحابہ عادل ہیں، اس مسئلے میں چند بدعتیوں کے سوا کسی کا اختلاف نہیں ہے"۔ (الاصابہ ج1 ص2)۔ علامہ سبکی فرماتے ہیں ہیں کہ: "فیصلہ کن بات یہ ہے کہ ہم صحابہ کی عدالت کا یقین رکھتے ہیں اور بکواس کرنے والوں کی بکواس اور باطل پرستوں کی کج بحثوں کی طرف توجہ نہیں کرتے۔ (تحریر الاصول 2/260) علامہ تفتازانی اپنی کتاب شرح عقائد میں لکھتے ہیں کہ "صحابہ پر نکتہ چینی کرنا اگر قطعی دلیلوں کے خلاف ہے تو کفر ہے ورنہ تو بدعت وفسق"۔ 

یہی وجہ ہے کہ "صاحب فتنہ" نے امت کے متفقہ فیصلوں سے اپنے آپ کو بچانے کے لیے صحابی کی تعریف کے نام پر ایک کتابچہ ہی لکھ دیا اور اس شرذمہ نے حضرت معاویہ اور دیگر صحابہ کرام کی صحابیت کا انکار کرکے ان پر طعن و تشنیع کے دروازے وا کر دیے۔ 

اب میں معترض کی مذکورہ بالا تشویشناک عبارت کی طرف آتا ہوں اور انہیں اور ان کے واسطے سے "صاحب فتنہ" سے متاثر ہونے والے تمام لوگوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ صحابہ کرام پر جرح و تعدیل کے ضابطے اس لیے لاگو نہیں ہوتے کہ اللہ کی طرف سے ان کے تعدیل و تزکیہ کے بعد اب کسی محدث کے تعدیل و تزکیہ کی چنداں ضرورت نہیں رہ گئی، محدثین ان کی تعدیل سے اس لیے باز نہیں آئے کہ پھر انہیں حدیث کہاں سے ملے گی جیسا کہ معترض کا خیال ہے۔ 

اپنے مضمون میں معترض مشہور زمانہ #لا_فخریہ اسٹائل میں لکھتے ہیں کہ: کیوں بھائی عقیدے میں خبر واحد مقبول کیوں نہیں ہے؟ کیا ایک صحابی عادل نہیں ہے جو آپ کو عقیدے کے لیے متواترحدیث چاہیے؟ کیا اب ایک صحابی پر اعتبار نہیں ہے جو جماعت چاہیے"۔ 

میں اسی لیے لکھتا آیا ہوں کہ انہیں اور ان جیسے لوگوں کو اس طرح کے علمی مباحث میں پڑنے سے پہلے اصول و مناہج کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ کسی حدیث کے رد و قبول کے لیے  جہاں راوی میں عدالت کی ضرورت ہے، وہیں ضبط واتقان بھی ضرورت ہے۔ لہذا اگر کسی عادل راوی کی حدیث قرآن کے حکم کے خلاف ہے تو یہی کہا جائے گا کہ اس راوی سے بھول چوک ہوئی ہے، اِ

س سے اس کی عدالت پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ حضرت عائشہ نے حضرت عمر اور ان کے صاحبزادے عبداللہ کی حدیث کو مسترد کر دیا تھا اور ساتھ میں یہ بھی فرمایا تھا کہ: "مجھے معلوم ہے کہ آپ لوگ جھوٹ نہیں بول رہے ہیں، لیکن سننے میں کبھی غلطی بھی ہو جایا کرتی ہے" (صحیح مسلم 2146)۔ 

لہذا ایسی کوئی بھی روایت جو عدالت صحابہ جیسے قطعی مسئلے سے ٹکرائے گی، وہ اگر صحیح ہو گی تو اس میں تاویل کی جائے گی، یا پھر کسی راوی کے ضبط میں خلل مان کر اس روایت کو مسترد کر دیا جائے گا جیسا کہ حضرت عائشہ کے عمل سے ثابت ہے۔ فقہائے صحابہ میں حضرت عمر اور ابن عباس کا بھی یہی منہج رہا ہے اور ائمہ اربعہ کا بھی یہی موقف ہے، مضمون کی تنگ دامانی ان کی عبارتیں نقل کرنے سے مانع ہے۔ جب صحیح سند سے مروی خبر واحد کے بارے میں یہ حکم ہے تو تاریخی روایات کیا حیثیت رکھتی ہیں۔ 

معترض آگے کہتے ہیں کہ "اگر مان بھی لیا جائے کہ عدالت صحابہ عقیدہ کا مسئلہ ہے اور عقیدہ متواتر روایات سے بنتا ہے لہذا ایسی خبر واحد کو رد کر دیا جائے گا جو عدالت صحابہ سے ٹکرائے گی تو جناب آپ نے جو اپنا موقف رکھا ہے اس میں تو کوئی متواتر روایت نہیں ہے اس کی تو پوری کی پوری بنیاد ہی تاویل اور صریح روایات واسلاف کے فہم کے انکار پر رکھی ہے"۔ 

ہمارے قارئین کو اس اعتراض کا جواب خود بخود سمجھ میں آگیا ہوگا۔ لیکن کچھ لوگوں کی فہم عالی کا کیا کیجیے، جب تک الٰم کے بھی ہجّے نہ کیے جائیں ان کے لیے یہ سمجھنا مشکل ہوتا ہے۔ لہذا عرض ہے کہ ہم نے تاویل کے ذریعے عدالت صحابہ کے عقیدے کو ثابت نہیں کیا ہے، یہ عقیدہ تو قرآن سے ثابت ہے، ہم نے اس عقیدے سے ٹکرانے والی حدیث میں ایسی تاویل کی ہے جو دوسری نصوص سے ہم آہنگ ہے،

ہو سکتا ہے کہ وہ کچھ تاریخی روایات کے خلاف ہو، لیکن ایسی تاریخی روایات جو قرآن کے خلاف ہوں دیوار پر مار دیے جانے کے لائق ہوتی ہیں۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad