تازہ ترین

ہفتہ، 5 ستمبر، 2020

حکومت بہار کی اردو کو ختم کرنے کی سازش آئین کے خلاف اردو کی بقا و تحفظ کے لیے ملی و سیاسی جماعتوں کی مشترکہ پریس کانفرنس میں دانشوران کا اظہارِ خیال

کشن گنج(یو این اے نیوز 5اگست 2020)  مزار چوک مجلس اتحاد المسلمین کے دفتر میں اردو کی بقا و تحفظ کے لیے ملی و سیاسی جماعتوں کی مشترکہ پریس کانفرنس منعقد ہوئی جس میں مختلف ملی تنظیموں کے ذمہ داران و سیاسی جماعتوں کے عہدیداران نے شرکت کی۔ مقررین نے کہا کہ اردو کے خلاف حکومت بہار کی سازش اور متعصبانہ رویہ آئین ہند کے خلاف ہے؛ لہذا حکومت سے مطالبہ ہے کہ وہ اردو کو دسویں جماعت میں پہلے کی طرح لازمی مضمون کے طور پر رکھے اور اردو کی ترقی کے لیے محبین اردو کے تمام تر مطالبات پورے کیے جائیں۔ 

اخترالایمان صوبائی صدر مجلس اتحاد المسلمین نے کہا کہ آئین ہند کے دفعہ 350 اے کے مطابق ریاستی سرکار کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر کسی کو اس کی مادری زبان میں بنیادی تعلیم حاصل کرنے کی سہولت فراہم کرے؛ لیکن حکومت بہار اردو کے تعلق سے جس طرح کے منصوبے بنارہی ہے وہ اردو کا گلا گھونٹنے کی ناپاک سازش ہے، انہوں نے نتیش کمار سرکار پر بولتے ہوئے کہا کہ نتیش سرکار اردو کی قاتل ہے اور ملک کی کسی زبان سے غداری ملک سے غداری کے مترادف ہے۔ 

جمعیۃ علماء ضلع کشن گنج کے صدر مولانا الیاس مخلص نے کہا کہ اردو ہماری مادری زبان ہونے کے ساتھ ساتھ آزادی ہند میں اہم کردار ادا کرنے والی مجاہدین آزادی کی تحریک کا حصہ ہے؛ لہذا اردو کے خلاف حکومت کی کوئی بھی پالیسی قابلِ قبول نہیں سمجھی جائے گی۔ مولانا شمیم ریاض ندوی بانی و محرک مجلس علمائے ملت کشن گنج نے کہا کہ اردو کی کوکھ سے جنم لے کر ہندی زبان پلی بڑھی ہے؛ لہذا اصولی بات یہ ہے کہ ہندی زبان کی بقا کے لیے اردو کی بقا لازمی اور ضروری ہے۔ 

مولانا آفتاب اظہر صدیقی صوبائی انچارج راشٹریہ علماء کونسل نے کہا کہ اردو کی چاشنی اور مٹھاس سے واقف ہوکر آج پوری دنیا اردو کی گرویدہ ہے اور مختلف ملکوں کے زبان دان اردو ادب کا شوق رکھتے ہیں؛ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ اردو کے وطن مادری میں ہی اس کے ساتھ تعصب کا برتاؤ کیا جارہا ہے۔ ہم اردو کے چاہنے والے لوگ بہار سرکار کی اردو مخالف سازشوں کو ناکام بناکر رہیں گے۔  رابطہ کمیٹی بہار کے ذمہ دار نور عارفین نے کہا کہ دسویں جماعت سے اردو کو لازمی مضمون سے خارج کرکے اختیاری مضمون کے زمرے میں ڈال دیا گیا ہے جو اردو کے خلاف ایک گہری سازش ہے، ہمارا مطالبہ ہے کہ اردو کو لازمی مضمون کے طور پر ہی رکھا جائے۔ 

اسرار احمد صدر انجمن تحفظ اردو نے کہا کہ اردو ہماری مادری زبان ہے، اس سے ہماری تہذیب زندہ ہے، اس سے ہماری شناخت قائم ہے؛ لہذا ہم اردو کے خلاف حکومت کی ہر سازش کے خلاف ہیں اور اردو کی بقا و تحفظ کے لیے آخری دم تک لڑتے رہیں گے۔ ان کے علاوہ سفیر الدین راہی ڈائریکٹر اوریکل انٹرنیشنل اسکول نے بھی اردو کی بقا و تحفظ کے لیے پرزور آواز اٹھائی۔ پریس کانفرنس میں مظہر الحسن خازن مجلس اتحاد المسلمین بہار، مولانا عبدالوکیل فریدی قاسمی صدر مجلس علمائے ملت رائے پور اور حافظ محمد جنید وغیرہ بھی شریک رہے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad