تازہ ترین

بدھ، 9 ستمبر، 2020

اعظم گڑھ کے پریمی جوڑے کو مندر میں شادی کرنا پڑا مہنگا ، کنبہ بنا دشمن ، جان سے مارنے کی دھمکی ۔پولیس سے مانگی سیکورٹی

 اعظم گڑھ۔ (یو این اے نیوز 9ستمبر 2020) گھر والوں کی مرضی کے خلاف ، گھر سے بھاگ کر مندر میں شادی کرنا اور پھر کورٹ میں جاکر قانونی کاروائی کا مکمل کرنا پریمی جوڑے کو مہنگا پڑ گیا ، کنبہ کے لوگ  ابھی بھی ان دونوں کو الگ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔  ایک دوسرے سے تعلقات ختم نہ کرنے پر انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔  مجبور جوڑے نے   منگل کو ایس پی سے ملاقات کر سیکورٹی کی درخواست کی ہے  دونوں کا دعوی ہے کہ ان کے کنبہ کے افراد انہیں کبھی بھی جان سے مار کرسکتے ہیں۔ 

 اگر پولیس تحفظ فراہم کرتی ہے تو ٹھیک ، ورنہ وہ مر جائیں گے لیکن ایک دوسرے کا ساتھ  نہیں چھوڑیں گے۔ گمبھیر پور تھانہ علاقے میں مظفر پور  رہائشی ایک شخص کے ماسی کا گھر رانی کے سرائے تھانہ علاقے کے گاؤں پنڈہا گاؤں میں ہے۔  کہا جاتا ہے کہ جب مذکورہ شخص کی بیٹی روشنی والد کے ماسی کے  گھر آئی تو اسے وہیں کے اشونی کمار نامی نوجوان سے پیار ہوگیا۔  محبت میں شادی کی اور دونوں نے ایک ساتھ مرنے جینے کا فیصلہ کرلیا ۔ جب ان  دونوں  کنبہ کے لوگوں کو اس بات کا علم ہوا تو   وہ اس شادی پر راضی نہیں ہوئے۔


 اس کے بعد دونوں گھر سے بھاگ گئے اور 3 جون 2020 کو ضلعی ہیڈکوارٹر کے بھنور ناتھ مندر میں جاکر شادی کرلی۔ اہل خانہ اس شادی کو غیر قانونی ثابت نہ کرسکیں انہوں نے جاکر کورٹ میرج بھی کرلی۔  بالغ ہونے کی وجہ سے انھیں کوئی دقت پیش نہیں آئی ،اس شادی کے بعد اشونی کے اہل خانہ  خاموش ہوگئے۔  دونوں ایک ساتھ رہنے لگے۔

 ایس پی آفس پہنچنے والے پریمی جوڑے نے الزام لگایا کہ روشنی کے والدین انہیں حال ہی میں یہاں سے لے گئے تھے، انہوں نے کہا کہ وہ جلد ہی رخصتی کردینگے   لیکن اب وہ اس کی رخصتی نہیں کر رہے ہیں۔ بلکہ وہ مختلف طریقوں سے اذیتیں دے رہے ہیں اور دھمکی بھی دے رہے ہیں کہ اگر شادی کو نہیں  توڑتی  اور اپنے شوہر کے ساتھ گئی  تو وہ انھیں جان سے مار ڈالیں گے۔  روشنی کے والد کے ماموں بھی گھر والوں کے ساتھ ملے ہوئے  ہیں۔  روشنی کسی طرح فرار ہوکر اپنے شوہرکے پاس  پہنچی تو ، دونوں منگل کو ایس پی سے ملے  اور انصاف کی درخواست کی

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad