تازہ ترین

پیر، 31 اگست، 2020

مسلمانوں میں کئی جگجیون رام ہیں مگر ایک بھی کاشی رام نہیں !

تحریر: مسعود جاوید بہوجن سماج پارٹی کے بانی دلت لیڈر کاشی رام جی کی بہت سی باتیں ہندوستانی مسلمانوں کے لئے سبق آموز ہو سکتی ہیں۔ مثال کے طور پر :- 

١-  کاشی رام سائیکل پر گھوم گھوم کر دلت سماج کے لوگوں سے صرف ایک روپیہ بطور چندہ مانگتے تھے۔ لوگوں نے پوچھا کہ اس مہنگائی کے دور میں ایک ایک روپے سے بھلا کون سی تنظیم کھڑی ہوگی ؟ انہوں نے جواب دیا کہ مطمح نظر پیسے جمع کرنا نہیں ہے اپنے سماج کے ہر فرد میں یہ احساس جگانا ہے کہ یہ برادری بھی سیاست میں حصہ لینے کے اہل ہے اپنی سیاسی جماعت قائم کرنے الیکشن میں بطور امیدوار کھڑا ہونے،کسی سیاسی پارٹی کی کارکردگی پر اپنی آزادانہ رائے رکھنے اور دلت سماج کے لئے اجتماعی فیصلہ کرنے کے نہ صرف اہل ہے بلکہ دستور ہند نے دوسری کمیونٹی کی طرح اس کمیونٹی کو بھی یہ حق دیا ہے۔ 

٢- کاشی رام نے جب اپنی برادری والوں سے اپنی پارٹی اور اپنے امیدوار کے حق میں ووٹ مانگا تو ان کے لوگوں نے کہا کہ آپ کے کہنے سے اگر آپ کی پارٹی کو ووٹ دوں تو میرا یہ ووٹ کسی گڑھے میں ڈالنے جیسا ہوگا۔۔۔۔ کاشی رام نے کہا کہ ہاں بالکل صحیح کہا اس لئے کہ جو آپ کو نظر آ رہا ہے اس کے اعتبار سے گڑھے میں ڈالنا ہی ہے۔ لیکن میری نظر وہ دیکھ رہی ہے جو آپ جیسے بے صبرے عجلت پسند نہیں دیکھ پا رہے ہیں ۔ اس وقت آپ کے  ووٹ سے گڑھے کا ایک تہائی حصہ بھرے گا اس کے بعد دوسرے  الیکشن میں دو تہائی سے بھی زیادہ اور تیسرے الیکشن میں زمین کی سطح سے ہم اتنے اوپر اٹھیں گے کہ ہماری اپنی  پہچان ہو گی ہماری حیثیت اور وقعت ہوگی آج تک سیاسی پارٹیوں نے ہمارے سماج کے لوگوں کو محض ووٹ بینک یعنی #مجبور #محض بنا رکھا ہے کل ہم #مختارکل ہوں گے۔ 

اس دور اندیشی اور اس طرح سماج کے لوگوں میں بیداری کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایک بار نہیں متعدد بار اتر پردیش میں بی ایس پی کی حکومت بنی۔ مایاوتی نے ایک منفرد نمایاں کام یہ کیا کہ دلت سماج جو اچھوت ہوا کرتے تھے ان کے لیڈروں کے لئے اور اپنے لئے نوئیڈا کے وسیع و عریض پارک میں قد آدم مجسمے نصب کرا دیا اس لئے کہ مایاوتی کو خوب معلوم تھا کہ نچلے طبقے کے لوگوں کے لئے تاریخ میں کوئی جگہ نہیں ہوگی ملک کی تعمیر و ترقی میں ان کے کردار کا کہیں ذکر نہیں ہوگا تو کیوں نہ  ہم اپنے دور اقتدار میں اپنے اور ان کے ناموں کو زندہ جاوید کر دیں۔ اب اقتدار میں کوئی بھی اۓ ان مجسموں کو گرانے کی جرأت نہیں کرے گا۔ 

مختلف عذر جواز اور تاویل کے پردے میں مسلمانوں اور دلتوں کی قدآور شخصیتیں اپنی اپنی کمیونٹی پر اس قدر اثر انداز ہوئیں کہ عام مسلمان اور دلت یہی سمجھنے لگا کہ ہندوستان میں ان کی زندگی کی سلامتی کی ضمانت دستور وقانون نہیں کانگریس کے ہاتھوں میں ہے۔ دلتوں کا سب سے نمایاں چہرہ بابو جگجیون رام تھے تو مسلمانوں کی ایک بہت بڑی تعداد کا نمایاں چہرہ جمعیت علماء ہند کے صدر مولانا اسعد مدنی تھے ان کے علاوہ وہ فل ٹائم مسلم سیاسی چہرے جن میں  زیادہ تر پرانے کانگریسی مسلم ایلیٹ کے سیاسی وارثین تھے۔ صدر جمہوریہ ذاکر حسین صاحب کے وارثین میں سے خورشید احمد ان کے بعد سلمان خورشید اسی طرح قدوائی خاندان سے محسنہ قدوائی وغیرہ۔ یہ سب اقتدار اعلیٰ کے ساۓ کی طرح قربت رکھتے تھے مگر پارٹی لائن سے ہٹ کر مجال نہیں کبھی زبان کھولیں۔ کانگریس بھی یہی سمجھتی رہی کہ یہڑ ہماری مٹھی میں ہیں اور ان کی مٹھی میں ہندوستانی مسلمان ! 

 کانگریس کا روایتی ووٹ بینک چونکہ یہی دو کمیونٹیز تھیں اس لئے سنکٹ کی ہر گھڑی میں کانگریس نے کبھی مسلمان اور دلت کمیونٹی کو گھاس نہیں ڈالا اس کے بجائے ان مسلم اور دلت شخصیتوں کا بھر پور استعمال کیا اور ان کے توسط سے اپنا دبدبہ قائم رکھا جیسے یہ خود مختار ووٹرز نہیں راجہ کے تحت زمینداروں کے بندھوا مزدور ہوں۔

مسلم قیادت کا فقدان کی ایک اور وجہ مسلمانوں کی واحد کیڈر بیسڈ تنظیم جماعت اسلامی کا ہندوستان میں سیاست کی بابت غیر دانشمندانہ موقف رہا۔ اسی ٨٠ فیصد غیر مسلم آبادی والے ملک ہندوستان میں اسلامی نظام ، اسلامی ریاست اور اقامت دین پر اصرار۔ جماعت کا فتویٰ کہ ہندوستان میں طاغوتی نظام ہے اس لئے اس کی ملازمت ناجائز ہے۔ اس فتویٰ پر عمل کرتے ہوئے کتنے مسلمانوں نے سرکاری نوکریوں سے استعفٰی دے دیا۔ جماعت کا فتویٰ کہ طاغوتی حکومت کی تشکیلِ کے پروسیس یعنی انتخابات میں حصہ لینا بطور امیدوار کھڑا ہونا سیاسی پارٹی کی تشکیل یا سیاسی پارٹیوں کے ساتھ اتحاد الائنس یہ سب ناجائز۔ چنانچہ وہ تعلیم یافتہ اور باشعور طبقہ جو جمعیت کی متبادل مسلم جماعت کے طور پر جماعت اسلامی کو دیکھنا چاہتا تھا سننا چاہتا تھا وہ اپنے آپ کو یتیم اور بے سہارا سمجھتے ہوئے بکھر گیا۔ 

اگر جماعت کی رہنمائی ملتی تو یہ طبقہ ایک مضبوط متبادل بن کر ابھر سکتا تھا اور اپنے بعد آنے والی نسل کے لئے سیاسی راہ ہموار کر سکتا تھا۔ لیکن افسوس جماعت اپنے غیر عملی نظریاتی موقف سے آج تک نہیں ہٹی اور خاردار انتخابی سیاست سے کنارہ کش ہوکر محفوظ راہ فرار "سکوت" میں سلامتی سمجھی۔  اس دوران کئی مسلم تنظیموں نے اپنے سیاسی وجود کو تسلیم کرانے کی کوشش کی لیکن ایک پائیدار تنظیم کے لئے جو تین اہم عناصر درکار ہوتے ہیں ان کا فقدان تھا۔  وہ تین عوامل ہیں ١- زمینی پکڑ ٢-  مذہبی وابستگی اور ٣-  کیڈر ۔ ان تینوں کے فقدان کی وجہ سے خاطر خواہ کامیابی میسر نہیں ہوئی۔ 
ان تمام باتوں کے علاوہ ہندوستان میں مسلم سیاسی  طاقت بننے کے لئے دو فیکٹزڑ ایک مثبت اور ایک منفی ہیں ایک اپنے اختیار میں ہے تو دوسرا اپنے اختیار سے باہر۔ جو اپنے اختیار سے باہر ہے اور جس کی وجہ سے   مسلمانوں کا دلتوں کے ساتھ موازنہ نہیں کیا جا سکتا وہ ہے ہمارا مذہب۔ اسلام ،مسلمان ،محمد ،عبداللہ، کام کے مسلمان ہوں یا نہ ہوں  ان ناموں سے غیر مسلموں کی ایک بڑی تعداد کو الرجی اور بیر ہے۔ دلت اس  منفی فیکٹر سے آزاد ہیں۔  دوسرا فیکٹر جو مثبت ہے اور اپنے اختیار میں ہے وہ ہے کیڈر بنانے کی سنجیدہ کوشش ۔

ہندوستانی مسلمانوں کا جس قدر اعتماد مذہبی رہنماؤں پر ہے وہ غیر مذہبی پر نہیں ہے۔ اس کی شاید یہ وجہ ہے کہ مذہبی گروہ ادنی اور متوسط طبقے کے ساتھ جڑا ہوتا ہے خواہ ان میں سے بعض مذہبی گروہ اپنی ذاتی منفعت اور مخصوص مفاد کے لئے پس پردہ ان کا سودا ہی کرتا ہو۔ جبکہ مسلم ایلیٹ شرفاء اور دانشوروں کا رویہ متوسط اور ادنیٰ طبقات کے ساتھ تحکمانہ ہوتا ہے۔ 

 اس لئے ایک بار پھر کیڈر بیسڈ مذہبی تنظیم  جماعت اسلامی کی کمی محسوس کرتا ہوں۔۔۔۔۔ انتخابی سیاست سے اس جماعت کی کنارہ کشی نے جو خلا پیدا کیا ہے اسے پر کرنے کے لئے اس جماعت کو یا کوئی اور حقیقی کیڈر بیسڈ جماعت کو میدان میں آنا ہوگا۔`

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad