تازہ ترین

پیر، 8 جون، 2020

مسجدیں کھولنے کے نام پر یوگی سرکار کا چھلاوا،مسلمانوں کے ساتھ ہوا بھدا مذاق،قاضی شہر نے ۔۔۔۔

پانچ کی شرط ختم کرکے مسجد میں جگہ کی گنجائش  کے مطابق نماز پڑھنے کی اجازت کا مطالبہ : مفتی اشفاق احمد اعظمی

اعظم گڑھ(یواین اے نیوز8جون2020)قاضی شہر مفتی اشفاق احمد اعظمی نے کہا کہ ایس ڈی ایم نظام آباد نے  میٹنگ کرکے ہر مسجد میں کیپسٹی کے اعتبار سے  سوشل ڈسٹنسنگ اور دیگر احتیاطی تدابیر کا لحاظ کرتے ہوئے نماز پڑھنے کی اجازت دی اور مسلمانوں سے 6 جون کو تیاری کرنے کے لیے کہا ، مسلمانوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی دوسرے دن تیاریاں شروع ہوگئیں ،6 فٹ دوری پر نشان لگنے  لگے دن بھر بھی نہیں گزرا کی ڈی ایم صاحب اعظم گڈھ کی طرف سے نمازیوں کی تعداد پانچ لوگوں تک محدود کر دی گئی اور کہا گیا کہ نماز اور جمعہ دونوں میں صرف پانچ آدمی ایک ساتھ نماز پڑھیں گے اس سے زیادہ نہیں ، مسلمانوں کو سخت مایوسی ہوئی حکومت کے دہرا معیار پر مسلمانوں کو دکھ اور غصہ ہوا مسجد میں بار بار جماعت کا نظم کرنا ممکن نہیں ہے ، اس لئے سرکاری اعلان کا کوئی فائدہ مسجد کو نہیں ملے گا واضح رہے کہ ہر عبادت گاہ کا الگ نظام ہوتا ہے ، مندر کی طرح مسجد ، گرجا گھر  اور گردوارہ میں پوجا کا طریقہ یکساں نہیں ہوتا ، مندر کو سامنے رکھ کر اگر گائیڈ لائن تیار کی جائے گی تو مسجد میں وہ گائیڈ لائن نہیں چل سکتی ، ایسا لگتا ہے کہ حکومت کا منشا صرف مندروں  کو سہولت دینا تھا

 اس لئے پانچ پانچ  آدمی کی اجازت دیکر سینکڑوں آدمیوں کے لیے مندر کا دروازہ کھول دیا گیا مگر یہ گائڈ لائن مسجد کے لئے بیکار ہے ، مسجد میں نماز چار آدمی اذان کرکے پہلے سے نماز ادا کر رہے ہیں اس کے بعد مسجد بند کر دی جاتی تھی کھولنے  کے اعلان کے بعد بھی اگر وہی  پانچ آدمی رہے تو کھولنے کے کیا معنی ہوں گے ؟اعلان ایک مذاق ہے اور مسلمانوں کے ساتھ دھوکہ کے سوا کیا ہوگا ؟ انہوں نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ مسجدوں کو پہلے کی طرح بند رکھیں وقت پر اذان دیں اور چار آدمی نماز پڑھ لیں  بقیہ لوگ پہلے کی طرح گھر پر جماعت کے ساتھ نماز کا اہتمام جاری رکھیں مسجد میں پانچ پانچ آدمی کر کے مختلف جماعت ہرگز نہ کریں اس سے اولا مسجد اور جماعت کی اہمیت پامال ہوگی ،دوسرے مسجد کو محفوظ رکھنا مشکل ہوجائے گا وائرس کے خطرات بڑھ جائیں گے ایک وقت میں نظام بنانا اور قابو پانا آسان ہے بار بار نظام انتہائی دشوار اور بے قابو ہو گا 

تمام مسلمانوں علماء کرام ، معزز  شخصیات اور مسلم تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ حکومت سے مطالبہ کریں کہ مندر کی سہولت کی طرح مسجد میں بھی سہولت کیپسٹی کے اعتبار سے دیں ، سوشل ڈینسٹنسگ و دیگر احتیاطی تدابیر کے لزوم کیساتھ پانچ کی شرط ختم کرکے نماز پڑھنے کی اجازت دیں ،مسلمان اپنی مسجدوں کو اس وقت تک پہلے کی طرح بند رکھیں  جب تک حکومت اجازت نہیں دیتی ہے اور اپنا مطالبہ برابر پیش کرتے رہیں ، پانچ کی تعداد محدود کرکے مسجد کو کھولنا اور نہ کھولنا دونوں برابر ہے مسلمانوں کے لیے ایسا کھولنا قابل قبول نہیں ہے اس لیے حکومت فیصلہ پر نظر ثانی کرے اور مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس نہ پہنچائے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad