تازہ ترین

بدھ، 3 جون، 2020

مدارس اسلامیہ قوم و ملت کی امانت ہیں

بسم اللہ الرحمن الرحیم 

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
از. محمدضیاءالحق ندوی 

ہم امت مسلمہ کو اچھی طرح سے معلوم ہے کہ مدارس اسلامیہ دین کے محفوظ قلعےہیں،ان کی حفاظت واستقامت میں دین کااستحکام و استقامت مضمرہے، مدارس اسلامیہ کا اصل مقصدکلمۃاللہ کی سربلندی اوراس کی ترویج واشاعت ہے،اور یہ مدارس دین کی صحیح دعوت اوراسلامی تعلیمات کی نشرواشاعت اسی وقت کرسکتے ہیں جب تک یہ مکمل طورپرگندی سیاست سے آزاداورخودمختاررہیں گے،  اور ناظم ومہتمم صاحبان مدارس کوقوم و ملت کاسرمایہ سمجھیں گے،آج جب ہم اپنے سماج و سوسائٹی پر نظرڈالتے ہیں تو معاملہ اس کے برعکس نظرآتا ہے ،اکثر ناظم ومہتمم صاحبان مدارس اسلامیہ کوقوم وملت کاسرمایہ نہیں سمجھتے ہیں بلکہ اپنا موروثی جائداد سمجھتے ہیں،جس مدارس کے ناظم ومہتمم کی سوچ اتنی گھٹیاہو وہاں دین کی صحیح اشاعت کیسے ہوگی،وہاں سے قوم و ملت کے سربراہ و قدآور علماء اور اعلائے کلمۃاللہ کوبلندکرنےوالے کیسے نکلیں گے. 

مختصریہ کہ ابھی کچھ ایام قبل آپ کی نظروں سے تین مدرسےکا لیٹرپیڈ مع دستخط ناظم یا مہتمم مرورہوا ہوگا جس میں انسانیت سوز حکم جاری کیا گیا وہ یہ کہ خون جگر سے سینچنے والے  شب و روز ایک کردینے والے اپنے دو چنداساتذہ کو نہایت ہی مسرور ہوکرسبکدوشی کالیٹرتھما دیا گیا اوریہ تحریر کیا کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے مدرسہ مالی بحران کا شکار ہے اس وجہ سے مدرسہ آپ کو ڈپریشن سے بچانے کے لئے معزول کرتا ہے ، میں ایسے بےغیرت، انسانیت دشمن  سے  پوچھناچاہتاہوں جنہوں نے قوم وملت کے سرمایہ کواپنے باپ دادے کی جاگیر سمجھ لیا ہے کیا وہ اساتذہ و منسوبیں کو ڈپریشن سے بچارہے ہیں یامزید ڈپریشن میں مبتلا کررہے ہیں ؟ کیا مدرسین و منسوبین کو سبکدوش اور معزول کردینےسے مالی بحران اورمالی تنگی ختم ہوجائے گی؟
 کیا ارباب مدارس و جماعات اساتذہ کو تنخواہ اپنے مال خاص سے  اداکررہےتھے؟ نہیں ہرگز نہیں، دینی مدارس کےاخراجات زکاۃ ، عطیات،صدقات  اوراوقاف وغیرہ کی آمدنی سے پورے ہوتے ہیں،جن کی حصولیابی کےلئے یہ بیچارے مظلوم اساتذہ ہی اپنے آرام عیش اوراہل خانہ کوچھوڑکر چلچلاتی دھوپ ، موسلادھار بارش اور کڑاکے کی سردی میں  سفرکرتے ہیں اوردردر کی ٹھوکریں کھاتے ہیں،   اٹھنی چونی کے لئے جگہ جگہ پرنرم گرم کوسنتے ہیں پھرجاکر مدارس کے اخراجات پورے ہوتے ہیں یا کسی صاحب خیر کا تعاون ہوتا ہے،اور آپ ذمہ داران  تو اپنےگھروں میں پیرپسار کراپنی اہل وعیال، بال بچوں کے ساتھ  آرام فرمارہےہوتے ہیں، اے ناسمجھ  انسانو ،اوروقوم و ملت کے سرمایہ کو ترکہ سمجھنے والو! کیاایسے حالات میں اساتذہ کو سبکدوشی کالیٹردینا ظلم نہیں ہے؟اور نونہالان  کی زندگی کےساتھ کھیلواڑ نہیں ہے؟ سبکدوشی کالیٹرتھمانے سے پہلے کبھی آپ نے سوچا کہ اس سے  اساتذہ اور طلباءپرظلم ہوگا؟اے عوام وخواص کے مابین انسانیت کادرس دینے والو اور ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے والو  ایسے کٹھن وقت میں آج آپ  نے بھی انسانیت کا جنازہ نکال دیا 
 قول میں رنگ عمل کہاں . ....
کیاایسے ہی ادارہ سے انسانیت کاسبق ملےگا اور ایسے ہی کردار  سے آپ کے  درس پرعمل ہوگا؟اے قوم کے امین  حد ہوگئ آپ کی ، آپ  اورجہنم کےدرمیان کوئی پردہ حائل نہیں ہے اب بھی توہوش کاناخن لیجئے اورغور کیجیے کہ ہم نے کیاکردیا،اوراپنے ان بےچارے اساتذہ جوآج سے پہلے خون جگرسے باغ کو سینچ رہے تھے،جنہیں آپ نے نہایت ڈھٹائی اور چابک دستی  کےساتھ سبکدوشی کالیٹر تھمایا اور ان کے دلوں کومجروح کردیا انکی دل آزاری کیا ....یادر کھیئے! فرمان باری ہے" ومکروا ومکراللہ واللہ خیر الماکرین "آل عمران ٥٤
 اے منصب نطامت و اہتمام پر فائز بزرگوار
اگرآپ اپنے اساتذہ سےکہتےکہ ادارہ ایک دوماہ کی تنخواہ دینے سےقاصرہےتوضروروہ بھی اس فیصلہ کومانتے اورسراہتے وہ بھی اپنے سنیوں میں دل رکھتے ہیں  اس لئے اب بھی وقت ہے  انہیں منانے کی کوشش کیجیئے اپنی نادانی کااعتراف کیجیئے اوراس فیصلہ کوواپس لیجیے، اس کی فکر کیجئےکہ اگرحالات ایسے ہی رہینگے تو تعلیم وتعلم کاکیاحل نکلے گا؟اوراللہ پر توکل کرتے رہیے اپناکام آگے بڑھائیے ان شاءاللہ اللہ کی مددونصرت ایسی جگہ سے ضرور آئیگی جہاں آپ کا گمان بھی نہ ہوگا.
اللہ تبارک وتعالی ہم سبہوں کواس وبائی مرض سے محفوظ فرما اور ایسے ناظم ومہتمم کو صحیح سمجھ دے . آمین
 واللہ علی کل شئی قدیر

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad