تازہ ترین

بدھ، 3 جون، 2020

ہر لمحہ ہے مومن کی نئی شان

بسم اللہ الرحمن الرحیم   

          از:  محمد طاسین ندوی    
باری تعالی نے  جن و انس کو عبادت کے لئے اس دنیائے آب وگل میں وجود بخشا چنانچہ فرمان باری ہے "میں نے جنات و انسان کی تخلیق صرف اپنی عبادت کے لئے کیا ہے "  ذاریات ٥٦
لیکن حضرت انسان ایسا بھولا کہ کچھ یادہی نہ رہا اپنے شب و روز، اقتصاد ومعاش،
کاروبار اور حرفت و صنعت  میں ایسا گم ساہوگیاکہ کچھ  یاد نہ رہ سکا کہ قسام ازل نے ہمیں کیوں وجود بخشا تھا؟ کیاخالق کائنات نے ہماری اتنی عمدہ تخلیق محض اس لئے فرمائی کے کھائیں پیئیں،لہوولعب،لاف گزاف،لغویات،ہوس رانی میں اپنی زندگی کا آفتاب و ماہتاب اور نیر تاباں کو غروب کردیں ؟ یقینا ہر ذی ہوش عقل سلیم کا حامل ،دین اسلام کے شدھ بدھ رکھنے والے کا جواب نفی میں ہوگا کہ ہرگز نہیں، ہمیں عدم سے وجود میں لانے  کا مقصدتو بہت ہی اعلی و ارفع ہے کہ ہم اپنے پروردگار کی بندگی کریں اور عطاءکردہ دستور اور آئین کہ تحت اپنی اپنی زندگی گزارکر عالم جاودانی کی طرف عازم سفر ہوجائیں اصل ھدف ومنشود یہی ہے لیکن اہل سنت  متفق ہیں کہ " الایمان یزید بالطاعات وینقص بالمعاصی " ایمان اطاعت و فرمانبرداری والے عمل سے فروغ پاتا ہے بڑھتا ہے اور معصیت وگناہ سے گھٹتاہے اس کے اندر کمی پیدا ہوتی ہے، الغرض یہ کہ گردو نواح کے واقعات و حالات آفات و آلام سے ایمان کے اندر اضافہ ہوتا ایمان بڑھتاہے اس نمو کو ہر علی الاطلاق ہر خاص و عام محسوس نہیں کرتا ہے بلکہ جس کے اندورن کچھ نہ کچھ ایمان کا رمق ہو اور جذبۂ ایمانی سے کسی درجہ میں سر شار ہو تب جاکر اس اضافہ، زیادتی، نمو سے محظوظ ہوتا ہے.

 قارئین کرام! جس وبا اور آفت ناگہانی سے دنیا دوچار ہے مساجد، عبادت گاہیں،  سب کے سب تقریبا ٧٤یوم سے بند پڑے تھے مساجد، مصلے،عبادت گاہوں میں باجماعت عبادت کرنے پر پابندی عائد تھی اب سعودی عربیہ اور دیگر ممالک نے اجازت  دیا  کہ مصلیان احتیاطی تدابیر کے ساتھ اورچند شروط و قیود کا پابند ہوکر خانۂ خدا میں باجماعت نماز ادا کرسکتے ہیں. اس قرار داد کا سننا تھا کہ امت مسلمہ کا ایمان پھر بڑھا اور نمازیوں نے ایسی دوڑ لگائی کہ ہم پہلے پہنچیں تو ہم پہلے پہنچیں کچھ ویڈیوز سے یہ محسوس ہوا کہ گویا کوئی مسابقہ یا مقابلہ ہیکہ ہر شخص کو فکر ہے کہ بازی میں جیتوں مختصر یہ کہ وہ لوگ جونماز باجماعت کے عادی و پابند تھے ان کے چہرے کی رعنائی اس بات پر غماز تھی کہ کوئی متاع گمشدہ ہاتھ آگیا ہو اور ایسا کیوں نہ ہو، جماعت، جمعہ سارے اجتماعی اعمال و اذکار سے کچھ دنوں سے ایسے دور تھے جیسے کہ سالہاسال سے ہم سے گنج گرامایاں چھن گیا ہو. حالات کا ساز گار ہونا اللہ تعالی کی نعمتوں میں سے ایک عظیم اور بیش بہا نعمت ہے ، جس نعمت کا احساس اس مہاماری اور لاک ڈاؤن کی توسیع کے زمانے میں بڑی شدت سے ہورہا ہے یہ سارے نتائج و ثمرات جو آفت ناگہانی،مساجد و دانشگاہ سے دوری کی شکل میں درپیش تھی اور کچھ باقی ہے یہ ہمارے کردار کشی، اپنے کو گناہوں میں مستغرق رکھنے اور مظلوموں کی آہ و بکا گریہ وزاری مفلسوں، بے کسوں، یتیموں، بیواؤن کے ساتھ غیر اسلامی سلوک کے  واضح  نتائج ہیں ۔
اب بھی وقت باقی ہے اپنے کو سنبھالنے کا کہ ہم اپنے اخلاق کو اخلاق فاضلہ بنائیں نبوی صفات سے اپنے کو متصف کریں اور ہر وہ عمل جس کے کر گزرنے میں ہمیں ذرا بھی دریغ نہ تھا اس سے باز آجائیں اسلاف سے پائے ہوئے میراث کو محفوظ رکھیں اگر ہم نے میراث اسلاف کو گنوادیا ہلاک و برباد کردیا تو بلا و آزمائش میں کھرا اترنا دشوار ہوسکتا ہے زمین اپنی وسعت کے باوجود تنگ ہوسکتی ہے نوع بنوع کے ابتلاء و امتحان سے گزرنا پڑسکتا ہے، علامہ اقبال رحمہ اللہ  نےبہت ہی عمدہ عکاسی کیا ہے
گنوادی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی
ثریا سے زمیں پر آسماں نے     ہم کو دے مارا
اگرہم نے اسلاف کے بتائے ہوئے نسخۂ کیمیا پر عمل کیا تو مصائب و آلام آئیں گے ،ابتلاء و آزمائش کے پہاڑ راستہ روکیں گے لیکن ان شاء اللہ سب کے سب سمندر کے جھاگ کہ مانند بہتے ہوئے کنارہ کشی  اختیار کر لیں گے اور اصل الاصول باقی رہ جائیں گے
اللہ ہم سبہوں کو قرآن و سنت اور اسلاف امت کے بتائے ہوئے طریقہ پر گامزن رہنے کی توفیق دے . آمین یاربناالموفق

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad