جو چھاؤں دیتا ہے مجھ کو گھنا شجر بن کر
میں اس کا ساتھ نبھا تی ہوں اس کا گھر بن کر
فضائے علم و ہنر رأس آگئی ہے مجھے
خدا کرے کہ رہوں حرف معتبر بن کر
تو چاند ہے تو دعا ہے کبھی غروب نہ ہو
افق میں بھی رہوں مطلعء سحر بن کر
غلط سمجھتی تھی میں اس کو راز داں اپنا
جو ایک سایہ سا ابھرا تھا ہمسفر بن کر
امید و بیم سے جب آزاد ہو گئی عنبر
تو کامیاب ہوئی صاحب نظر بن کر
ڈاکٹر عنبر عابد
بھوپال

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں