تازہ ترین

بدھ، 10 جون، 2020

جو چھاؤں دیتا ہے مجھ کو گھنا شجر بن کر

جو چھاؤں دیتا ہے مجھ کو گھنا شجر بن کر 
میں اس کا ساتھ نبھا تی  ہوں اس کا گھر بن کر 


فضائے علم و ہنر رأس آگئی ہے مجھے
خدا کرے کہ رہوں حرف معتبر بن کر

تو چاند ہے تو دعا ہے  کبھی غروب نہ ہو 
افق میں بھی رہوں مطلعء سحر بن کر 

غلط  سمجھتی تھی میں اس کو راز داں اپنا 
جو ایک سایہ سا ابھرا تھا ہمسفر بن کر 

امید و بیم سے جب آزاد ہو گئی عنبر 
تو کامیاب ہوئی صاحب نظر بن کر 

ڈاکٹر عنبر عابد 
بھوپال

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad