ہردوئی/رسول پورآنٹ(یواین اے نیوز17جون2020)صحافی ''روزنامہ آگ''ذوالفقارندوی کے ماموں مولانا نعمان کاطویل علالت کے بعد گزشتہ دوشنبہ کوچار بج کر20منٹ پرچینئی کے ضلع ترنامل میں واقع اپنے مکان پرانتقال ہو گیا۔واضح رہے کہ مولانا نعمان کا آبائی وطن ضلع ہردوئی کے مشہور گاؤں رسول پور آنٹ ہے۔ لیکن وہ تقریباً38 سال سے ترنامل کی جامع مسجد میں امامت کافریضہ انجام دے رہے تھے۔ان کی عمر تقریباً63 سال تھی۔ پسماندگان میں بیوہ، پانچ بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔ان کا ایک بیٹا دوبئی میں مقیم ہے جو کورونا مہاماری کی وجہ سے اپنے والد کی تدفین میں شرکت نہ کرسکا۔ ان کی تدفین کل ترنامل قبرستان میں لاک ڈاؤں کی گائڈ لائن کے تحت ہوئی۔
کئی سالوں سے وہ کڈنی کے عارضے میں مبتلا تھےجس کا علاج ملک سے لیکر بیرون ملک بھی مسلسل چل رہا تھا اور کافی افاقہ بھی تھا لیکن پچھلے ایک ہفتہ سے مرض نے ان کے اوپر پوری طریقہ سے قابو پالیااور دوشنبہ کو وہ اپنے مالک حقیقی سے جاملے۔ مولانا نعمان امام ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بہترین اور بے لوث عامل بھی تھے۔موصوف کے اندر انسانی ہمدردی کا جذبہ ان کےباندر کوٹ کوٹ کر بھرا تھا۔کنبہ پروری میں وہ ایک مثال تھے اور وقت کے اتنے پابند تھے کہ علاقہ لوگ ان کو دیکھ کر ٹائم کا اندازہ لگالیا کرتے تھے۔اللہ سے دعاہے کہ مرحوم کے درجات بلند کرے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں