تازہ ترین

پیر، 8 جون، 2020

استغفار،دنیاوی مصائب سےنجات کابہترین ذریعہ ہے

 از:محمدضیاءالحق ندوی 
بسم اللہ الرحمن الرحیم
استغفار ایک ایساعمل ہے جس پر اللہ جل شانہ کا وعدہ ہےکہ امت استغفار کےذریعے عذاب سے محفوظ رہے گی،آج ہم مسلمان جوطرح طرح کے عذاب  کے شکارہیں ،اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم اللہ جل شانہ سےصدق دل سے استغفارنہیں کرتے، استغفار کیا ہے؟استغفارلغت میں مغفرت طلب کرنےکوکہتے ہیں،یعنی جب انسان سے اللہ جل شانہ کی نافرمانی ہوجائے اور انسان اس نافرمانی پرنادم وپشیمان ہواکہ میں نےاپنےرب جل جلالہ کی نافرمانی کی ہےاورپھراللہ جل شانہ سے اپنےگناہوں کی معافی مانگنے لگے توشریعت میں  اس کواستغفارکہتےہیں.قرآن واحادیث میں استغفارکی بڑی اہمیت ہے چنانچہ اللہ جل شانہ کا ارشاد ہے "اوراللہ ایسانہیں ہےکہ ان کواس حالت میں عذاب دےجب تم ان کے درمیان موجودہو،اوراللہ اس حالت میں بھی ان کو عذاب دینےوالانہیں جب وہ استغفارکرتے ہوں" الانفال ٣٣آیت کریمہ سے ہمیں معلوم ہواکہ نزول عذاب  سے دوچیز مانع ہیں، ایک پیغمبر کاموجود ہونا اوردوسری استغفار کرتےرہنا، پہلی چیزتو اٹھالی گئ اوردوسری چیز باقی ہے لہذا استغفار سےاپنے طرزعمل کی اصلاح کرنی چاہیئے کیونکہ انسان گناہوں و عصیان کا پتلا ہے ،کیونکہ ہمہ وقت گناہوں سے پاک رہنا فرشتوں کی صفت ہے،ہمیشہ گناہوں میں مستغرق رہناشیطان کی عادت وخصلت ہے،اور گناہوں پرنادم وپشیمان ہوکرتوبہ واستغفارکرنا اور معصیت کی راہ ترک کرکے شاہراہ ہدایت میں قدم رکھنااولادآدم کا خاصہ ہے،انسان سےکوئی لغزش اورگناہ سرزد ہو یا نہ ہو پھربھی کثرت سے استغفارکرتے رہناچاہیے، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوفرماتے ہوئےسنا " خداکی قسم میں دن میں ستر مرتبہ سے زیادہ استغفار کرتاہوں"صحیح بخاری کتاب الدعوات. رقم الحدیث ٦٣٠٧ استغفار دنیاوی مصائب و آلام سے نجات کا بہترین ذریعہ ہے،دنیامیں انسان  بسااوقات مالی بحران کا شکارہوتاہے،توکبھی کسی اور بیماریوں سےدوچار ہوتا ہے،آج پوراملک بد امنی کاشکارہے،کسی کی جان ومال محفوظ نہیں، عذاب خداوندی کبھی قتل وغارت گری کی صورت میں ظاہرہوتاہے، کبھی سیلاب اور کبھی زلزلوں کی صورت میں تو کبھی قحط کی صورت میں،اوراس عذاب خداوندی کےسدباب کی ہر ناکام کوشش کی جاتی ہے،لیکن اپنےبداعمالیوں کی طرف کوئی نہیں جھانکتاہے کہ ہم نےاللہ کو ناراض کیا جس کی وجہ سے یہ عذاب آیا ہے،ایسے وقت میں یہ سبق دیاگیا ہےکہ انسان اپنےطرزعمل پرنظرثانی کرکےگناہوں سے بازآجائے،اوردنیامیں پیش آنے والی مصیبتوں کےوقت اپنےگناہوں سے توبہ واستغفار کرے  ،اوراپنےطرزعمل کی اصلاح کرے دنیامیں جو مصیبتیں آتی ہیں یہ منجانب اللہ ہوتی ہیں ارشاد باری ہے " اور اس بڑےعذاب سے پہلے بھی ہم انہیں کم درجے کے عذاب کامزہ بھی ضرور چکھائیں گے شاید یہ باز آجائیں " السجدہ ٢١  
مولانارومی رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں:

 ہرچہ برتوآیدازظلمات غم
 غم چوں بینی زوداستغفارکن
 آن زیباکی وگستاخی است ہم
 غم بامرخالق آیدکارکن. 

ترجمہ :اےانسان جوکچھ تم پر مصائب وآفات اور ظلمات غم آتے ہیں وہ تیری بیباکی،نافرمانی اور گستاخی کی وجہ سے آتے ہیں ،لہذاجب تم غم اور مصائب وآلام دیکھو توبہ و استغفار کروکیونکہ غم ظلمات اورآفات ومصائب اللہ جل شانہ کےحکم سے آتاہے.استغفار کےذریعہ اللہ جل شانہ رنج وغم دور فرمادیتےہیں اور رزق میں برکت عطافرماتے ہیں، ارشادباری ہے"چنانچہ میں نےکہاکہ:اپنےپروردگارسے مغفرت مانگو،یقین جانو وہ بہت بخشنےوالا ہے، وہ تم پرآسمان سےخوب بارشیں برسائےگا،اور تمہارے مال اور اولاد میں ترقی دےگا ،اورتمہارےلئے باغات پیداکرےگا،اور تمہاری خاطرنہریں مہیا کردےگا."نوح ١٠ تا ١٢  " حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہماسے مروی ہےکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:من لزم الاستغفار جعل اللہ لہ من کل ھم فرجا،ومن كل ضيق مخرجا،ورزقه من حيث لا يحتسب"ابن ماجه كتاب الأدب. رقم الحدیث ٣٨١٩جواستغفارکواپنے  اوپر لازم کرلیتاہے تواللہ جل شانہ اس کوہررنج وغم سےنجات دیتاہے ،اور اس کےلئےہرتنگی سےنکلنے کی راہ نکال دیتاہے،اوراس کوایسی جگہ سے رزق عطا فرماتا ہے جس کاوہ گمان بھی نہیں کرسکتاہے"یاد رکھیئے! جہاں استغفار کےفوائد وثمرات بے شمارہیں ،گناہ بخش دیئےجاتےہیں، بلائیں اور مصبیتں ٹال دی جاتی ہیں اوررزق میں برکت عطاکردی جاتی ہیں تووہیں استغفارکے وقت چندباتوں کاخیال رکھنا بھی ضروری یےوہ یہ کہ بوقت استغفاراللہ جل شانہ کوقادر مطلق سمجھیں اور اس کی طرف صدق دل سے  عاجزی وانکساری کےساتھ   رجوع کریں  اور خشوع وخضوع کے ساتھ اللہ جل شانہ کے احکامات کوسمجھیں اور اس پر عمل پیراہوں. اللہ تبارک وتعالی ہمیں خوب خوب استغفار کی توفیق نصیب فرما. آمین

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad