بسم اللہ الرحمن الرحیم
از قلم:عبداللہ ندوی
انسانی جسم کا اہم ترین جزو دل ہے، اگر یہ زندہ و تابندہ ہے اور اس کے اندر زندگی کی تھوڑی سی بھی رمق باقی ہے تو انسان زندہ رہتا ہے، اور اگر خدانخواستہ یہ مرگیا تو انسان بھی اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے، ٹھیک اسی طرح انسان کی اصلاح، کامیابی و کامرانی، فساد اور بگاڑ کا دارومدار بھی دل پر ہی منحصر ہے، اگر دل صحیح ہے تو انسان کا سارا کردار، اخلاق، کیریکٹر، بردباری، عفو درگزر، سخاوت و فیاضی، ہمدردی، غمگساری، نیک نیتی، المختصر اس کےسارے اعمال اور اس کی ساری جدوجہد، محنت اور کوشش صحیح راستے اور جادۂ حق کی طرف رواں دواں ہوگی، اور اگر دل میں فساد، بگاڑ، کدورت، نفرت و عداوت، خود غرضی، خود بینی، مفاد پرستی، بغض و حسد، کینہ اور انانیت جنم لے لے تو سارا انسان اور اس کے اخلاق و کردار بگڑ جاتے ہیں، پھر تو وہ بظاہر انسانی شکل و صورت اور ہئیت کے باوجود حیوانیت، نفسانیت، اور درندگی کا شکار بن جاتے ہیں، اس کی سوچ اور سمجھ کا مادہ ختم ہو جاتا ہے، جائز و ناجائز، حلال و حرام، حق اور باطل کی تمیز یکسر ختم ہو جاتی ہے، اور وہ بلا خوف و خطر دھڑلے سے گناہ کر کے اپنے پروردگار کو ناراض کر بیٹھتا ہے، رفتہ رفتہ وہ گناہوں کا رسیا اور عادی بن جاتا ہے، اور گناہوں کے دلدل میں ایسا پھنستا ہے کہ نکلنے کا راستہ ہی بھول جاتا ہے، چنانچہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد گرامی ہے ( ألا و إن فى الجسد مضغة إذا صلحت صلح الجسد كله و إذا فسدت فسد الجسد كله ألا وهى القلب ) صحیح بخاری، یاد رکھو جسم میں ایک ٹکڑا ہے اگر یہ ٹھیک رہا تو سارا جسم ٹھیک ہے اور اگر یہ بگڑ گیا تو سارا جسم بگڑ جائے گا، توجہ سے سن لو اس ٹکڑے کا نام ہے " دل " اگر دل میں جذبہ اطاعت،بندگی اور غلامی کے ساتھ خلوص و اخلاص، حسن نیت، للہیت، اور اصلاح کا جذبہ موجزن ہو، ریاکاری، اور دکھلاوا نہ ہو، کوئی دنیوی غرض اور مقصد پوشیدہ نہ ہو تو ہر نیک کام اور خواہشات باعث اجر و ثواب ہے، اللہ تعالٰی کے ہاں اس کا اجر و ثواب دس گنا سے ستر گنا بلکہ سات سو گنا تک اضافہ ہوتا رہتا ہے، رسول پاک صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے ( كل عمل ابن آدم يضاعف، الحسنة عشر أمثالها إلى سبعتمائة ضعف ) صحیح مسلم، اولاد آدم کی ہر نیکی دس گنا سے لیکر سات سو گنا تک بڑھا دی جاتی ہے، اگر نیک کام انجام دیتے وقت کوئی دنیوی لالچ،حرص، طمع، دکھلاوا یاشہرت و ناموری کا ذرہ برابر بھی خیال دل میں گردش کرنے لگے تو نہ صرف بڑی سے بڑی نیکی ضائع و برباد ہو جاتی ہے بلکہ روز قیامت الٹا وبال جان بن جائے گی،اللہ رب العزت نے اخروی نجات کیلئے سب سے اہم رول اور کردار دل کی پاکیزگی و طہارت کو قرار دیا ہے جیسا کہ باری تعالٰی کا فرمان ہے ( يوم لا ينفع مال ولا بنون، إلا من أتى الله بقلب سليم ) سورة الشعراء 89/88 اس دن نہ مال کوئی فائدہ دےگا اور نہ اولاد، بجز اس کے کہ کوئی شخص قلب سلیم لئے ہوئے اللہ کے حضور پیش ہو،
محترم قارئین : تو آئیے دیکھتے ہیں کہ جب انسان کی اصلاح یا بگاڑ، اعمال صالحہ، طاعت و بندگی کی قبولیت یا عدم قبولیت، اور اخروی نجات یا عذاب کا معاملہ اصلا دل پر منحصر ہے تو برے کاموں کا انسان کے دل پر کیا کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟
01 : ہر انسان کا دل اللہ رب العزت کی کبریائی، عظمت و رفعت، الفت و محبت سے لبریز اور سرشار ہو تا ہے، البتہ معاصی کے ارتکاب سے یہ عظمت ، رفعت ومحبت آہستہ آہستہ ختم ہو تی چلی جاتی ہے، کیونکہ یہ ممکن ہی نہیں بلکہ محال ہے کہ انسان کا دل خوف خدا سے لبریز ہو اور پھر وہ مرتکب گناہ بھی ہو، 02 :؛ بسا اوقات ارتکاب جرم، اور گناہوں کے بعد انسان کے دل میں ندامت و شرمندگی اور حیا کا خفیہ جذبہ بیدار ہو جاتا ہے لہذا وہ گناہ، خطا، غلطی، لغزش اور کوتاہی پر پچھتاتا ہے، بالآخر اسے توبہ و استغفار کی توفیق منجانب اللہ میسر ہو جاتی ہے، اور وہ گناہوں سے باز آجاتا ہے، لیکن مستقل گناہوں کا رسیا اور عادی انسان ان پاکیزہ جذبات سے خالی ہو تا ہے،چنانچہ گناہ گار ہو نے کے باوجود اسے کوئی ندامت و شرمندگی کا احساس ہی پیدا نہیں ہوتا، بلکہ الٹا اس پر فخر محسوس کرتا ہے، اس وجہ کر ان جرائم اور گناہوں کی پاداش میں اس کے دل پر سیاہ دھبہ پڑ جاتا ہے، رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے ( إن المؤمن إذا أذنب ذنبا كانت نكتة سوداء فى قلبه فإن تاب ونزع واستغفر صقل قلبه، فإن زاد زادت حتى تعلو قلبه " وذلك الران " جب بندہ مومن کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ دھبہ پڑ جاتا ہے، اگر توبہ و استغفار کر لے اور گناہ سے باز آجائے تو اس کا دل صاف شفاف ہو جاتا ہے، اور اگر گناہوں پر مصر رہا تو یہ سیاہ دھبہ بھی بڑھتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ اس کے سارے دل کو کالا کر دیتا ہے اور یہی وہ " ران " زنگ اور میل کچیل ہے، مسند امام احمد،
اور رب کائنات کا فرمان ہے ( كلا بل ران على قلوبهم ما كانوا يكسبون ) سورة المطففين 14 ہرگز نہیں بلکہ ان لوگوں کے دلوں پر ان کے برے اعمال کا زنگ چڑھ گیا ہے،
معزز قارئین کرام! مذکورہ بالا آیات کریمہ اور احادیث مبارکہ سے یہ بات صاف اور واضح ہو جاتی ہے کہ انسان کا دل صاف ستھرے کپڑے کی طرح سفید ہے، جوں جوں انسان گناہ کرتا جاتا ہے اس پر دھبے پڑتے جاتے ہیں، گناہ اور بدکاری میں مستقل گرفتار اور ملوث رہنے کی وجہ سے انسان کے دلوں سے گناہ کا احساس اور اس کی کراہیت ہی ختم ہو جاتی ہے، پھر اللہ تعالی انسان کے دلوں پر مہر لگا دیتے ہیں اور وہ مستقل ہدایت ربانی سے محروم ہو جاتا ہے، جیسا کہ ارشاد باری تعالٰی ہے ( ختم الله على قلوبهم و على سمعهم و على أبصارهم غشاوة ) سورة البقره 7
، قارئین! آج ہم جس کسمپرسی کے عالم میں زندگی بسر کر رہے ہیں سب ہماری ہی کرتوتوں کا نتیجہ ہے، دعاء گو ہوں کہ اللہ رب العزت چھوٹے بڑے تمام ہی گناہوں سے ہماری حفاظت فرمائے اور کار خیر کی توفیق عطا فرمائے آمین یارب العالمین، أعاذ ناالله بفضله وكرمه من ذلك.

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں