ازقلم: مولانا محمد رضوان حسامی و کاشفی(ناظم اعلیٰ مرکز تحفظ اسلام ہند)
محترم قارئین کرام! جب رمضان المبارک کا مقدس مہینہ ہمارے سروں پر سایہ فگن ہوتا ہے تو عجیب سماں رہتا ہے، اللہ تعالیٰ کی رحمتیں، انوار وبرکات برستی ہوئی نظر آتی ہیں، عموماً یہ دیکھنے میں آتا ہے کہ رمضان المبارک میں غیر معمولی طور پر عبادتوں کی کثرت ہو جاتی ہے،گھروں سے تلاوت قرآن پاک کی آوازیں گونجتی ہیں، حتیٰ کہ مسلمانوں کا ماحول ہی بدل جاتا ہے، سروں پر ٹوپیاں، جسموں پر اسلامی لباس، ہاتھوں میں تسبیح آجاتی ہے، اور گھروں میں حتیٰ الامکان ٹی وی وغیرہ کوبند کر دیا جاتا ہے، یا کم از کم فحش فلموں اور سیریلوں اور ڈراموں کو دیکھنے اور گانے وغیرہ سننے سے پرہیز کیا جاتا ہے، نیز مساجد میں نمازیوں کی تعداد بڑھ جاتی ہے، ''لیکن اس بار لاک ڈاؤن کی وجہ سے وہ ماحول نظر نہیں آیا'' البتہ اکابر علماء کرام کی ہدایات اور حکومت کی پالیسیوں کو سامنے رکھتے ہوئے مسلمان گھروں میں ہی عبادتوں، ریاضتوں، اور دعاؤں وغیرہ میں لگے رہے۔جسے دیکھ کر یا سن کر بڑی خوشی محسوس ہوتی رہی، دل باغ باغ ہو جاتا، اور مستقبل میں اسلامی اقدار و دینی ماحول کے پھیلنے اور پھولنے کی امیدیں وابستہ ہو جاتیں۔
لیکن جیسے ہی رمضان المبارک کا مقدس مہینہ گزرتا ہے مسلمانوں کی حالت ہی بدل جاتی ہے، سب کچھ بر عکس ہو جاتا ہے، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ صرف رمضان کے مسلمان تھے! ہمیشہ کے نہیں، مساجد ویران ہو جاتی ہیں، گھروں کا ماحول بے دینی میں بدل جاتا ہے، گانوں، باجوں، فلموں، سیریلوں، اور ڈراموں کے ذریعہ بے حیائی اور عیاری و مکاری کا دور دورہ شروع ہو جاتا ہے، جسموں سے اسلامی لباس، اور سروں سے ٹوپیاں اتر جاتی ہیں، گھومنے پھرنے کے بہانے عورتیں بے پردہ نظر آتی ہیں۔
جسے دیکھ کر بہت افسوس ہوتا ہے، آنکھیں نمدیدہ و آبدیدہ ہو جاتی ہیں، اور دل چیخ چیخ کر کہتا ہے،؎
حقیقت خرافات میں کھو گئی
یہ امت روایات میں کھو گئی
اور اکبر الہ آبادی نے کہا تھا ؎
مجھ پہ کچھ وجہ عتاب آپ کو اے جان نہیں
نام ہی نام ہے ورنہ میں مسلمان نہیں
میرے اسلام کو بس اک قصۃئ ماضی سمجھو
ہنس کہ بولی کہ تو پھر مجھ کو بھی راضی سمجھو
معزز قارئین! رمضان المبارک کا مہینہ صرف عمدہ و لذیذ غذائیں کھانے پینے کے لیے یا چند دن کچھ عبادتیں کرلینے کے لیے نہیں آیا تھا، بلکہ ہم مسلمانوں کو ہمیشہ کے لیے متقی و پرہیزگار بنانے کے لیے آیا تھا۔اس لیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے روزے کا بنیادی مقصد ہی تقویٰ فرمایا ہے۔(سورۃ البقرہ:183) اگر رمضان کے روزے رکھنے کے باوجود ہم میں تقویٰ پیدا نہیں ہوا، یعنی اللہ کا ڈر اور خوف پیدا نہیں ہوا، عبادتوں کا ذوق و شوق ہم میں نہیں آیا، نبی کریم ؐ کی سنتوں پر مر مٹنے کا جذبہ ہم میں پیدا نہیں ہوا، غریبوں، مسکینوں کے ساتھ ہمدردی کا وصف ہم میں نہیں آیا، گناہوں سے بچنے کی طاقت و قوت ہم میں پیدا نہیں ہوئی، تو ہمیں سوائے بھوکا اور پیاسا رہنے کے کچھ حاصل نہیں ہوا۔
رمضان المبارک کا مہینہ مکمل طور پر ہمیں اسلام کے سانچے میں ڈھالنے کے لیے آیا تھا، اللہ تبارک و تعالیٰ ہر سال رمضان کا مہینہ ایک یاد دہانی کے طور پر بھیجتا ہے۔جس طرح تم رمضان کے مہینے میں پاکیزہ زندگی گزارتے ہو، تقویٰ وطہارت والی اسلامی زندگی گزارتے ہو ٹھیک اسی طرح غیر رمضان میں بھی گزارو!یاد رکھیں! فرض نمازیں جس طرح رمضان میں فرض تھیں اسی طرح غیر رمضان میں بھی فرض ہیں۔گناہوں اورخطاؤں سے بچنا جیسا رمضان میں ضروری تھا ٹھیک اسی طرح غیر رمضان میں بھی بچنا ضروری ہے۔جس طرح رمضان میں غریبوں، مسکینوں، کا خیال رکھنا چاہیے اسی طرح غیر رمضان میں بھی رکھنا چاہیے۔کیونکہ صرف رمضان کا مہینہ ختم ہوا ہے عبادتیں ختم نہیں ہوئیں!
اگر ہم صرف رمضان میں عبادتیں و غیرہ کرکے چھوڑ دیتے ہیں تو ہم نے بہت برا کیا، کیونکہ حضرت بشر حافی رحمۃ اللہ علیہ سے کہا گیا کہ کچھ لوگ رمضان میں عبادت و مجاہدہ کرتے ہیں اور رمضان کے بعد چھوڑ دے تے ہیں۔تو بشر حافی علیہ الرحمہ نے فرمایا: کہ بڑے برے ہیں وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کو صرف رمضان میں جانتے ہیں۔(مفتاح الافکار) (یعنی صرف رمضان میں اللہ تعالیٰ کی عبادتیں و غیرہ کرتے ہیں اور رمضان جاتے ہی سب کچھ چھوڑ دیتے ہیں) ایسے لوگ آج کے زمانے بکثرت پائے جاتے ہیں۔ اللہم احفظنا منہم جب حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے تاریخی جملہ ارشاد فرمایا تھا:''من کان یعبد محمدا فإن محمداً قد مات ومن کان یعبد اللہ فإن اللہ حی لا یموت'' کہ جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کرتا تھا تو وہ سن لے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم وصال فرما گئے اور جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا تھا تو وہ سن لے کہ اللہ تعالیٰ زندہ ہے اس کو کبھی موت نہیں آتی۔اسی سے ہمارے بزرگوں نے اخذ کرتے ہوئے بڑی قیمتی بات ارشاد فرمائی ہے:''من کان یعبد رمضان فإن رمضان قد انقضی ومن کان یعبد اللہ فإن اللہ حی لا یموت'' کہ جو رمضان کا بندہ بنکر رمضان کی عبادت کرتا تھا تو وہ سن لے کہ رمضان گزرگیا اور جو رحمان کی عبادت کرتا تھا تو وہ سن لے کہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے زندہ ہیں اور ہمیشہ زندہ رہیں گے۔
لہذٰا ہم تمام مسلمانوں کو چاہیے کہ رمضان کے بعد بھی تقویٰ و طہارت والی، صوم و صلوٰۃ والی پاکیزہ زندگی گزاریں۔فرائض کے ساتھ ساتھ نوافل اور قرآن پاک کی تلاوت، ذکر و اذکار، اور مسنون دعاؤں کا بھی پابندی سے اہتمام کریں۔اسلیے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک محبوب عمل وہ ہے جس میں مداومت یعنی پابندی ہو خواہ مقدار میں کم ہی کیوں نہ ہو۔(بخاری ومسلم)َامی جان حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے حضور اکرم ؐ کے عمل کے متعلق سوال کیا گیا کہ آپ ؐ ایام کو کسی خاص عمل کے لئے مخصوص فرمایا کرتے تھے؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نہیں، بلکہ آپ ؐ اپنے عمل میں مداومت (پابندی) فرماتے تھے۔ اگر کوئی ایسا کرسکتا ہے تو ضرور کرے۔(مسلم شریف) حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ؐ نے ان سے ارشاد فرمایا: اے عبداللہ! فلاں شخص کی طرح مت بنو جو راتوں کو قیام کرتا تھا لیکن اب چھوڑدیا۔ (بخاری ومسلم)َلہٰذا رمضان کا مہینہ ختم ہونے کے بعد بھی ہمیں برائیوں سے اجتناب اور اعمالِ صالحہ کا سلسلہ باقی رکھنا چاہیے کیونکہ اسی میں ہماری دنیا و آخرت کی کامیابی و کامرانی چھپی ہوئی ہے۔اللہ تعالیٰ ہم تمام کو مذکورہ بالا تحریر پر عمل کرنے کی توفیق نصیب فرمائے۔آمین ثم آمین
سبق پڑھ پھر صدات کا عدالت کا شجاعت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں