تازہ ترین

جمعرات، 23 اپریل، 2020

آخر کب رہا ہوں گے تبلیغی جماعت سے وابستہ افراد ؟

نام نہاد سیکولر اور مسلم لیڈران کی خاموشی سوالوں کے گھیرے میں، اہل خانہ ادھر اُدھر فریاد کرنے پر مجبور
جونپور۔حاجی ضیاء الدین(یو این اے نیوز 23اپریل 2020)تبلیغی جماعت سے وابسطہ تقریبا ً 70افراد کو مختلف مقامات پر 21 روز کی کو رنٹائن کی مدت پوری ہو نے کے بعدپرساد انسٹی ٹیویٹ میں کو رنٹائن کیا گیا ہے جن میں سر سید احمد انٹر کالج میں ۴۱ روز کو رنٹائن کی مد ت پوری کر چکے تبلیغی افراد شامل ہیں پرساد انسٹی ٹیوٹ کو انتظامیہ کی جانب سے عارضی جیل بھی بنا یا گیا ہے بعض تبلیغی افراد پر انتظامیہ کی جانب سے متدد دفعات میں مقدمات درج ہو ئے ہیں۔ 

 دارالعلوم دیو بند کے ایک درجن سے زائد طلبہ بھی کو رنٹائن کی مدت پوری ہونے کے بعد رہائی کے منتظر ہیں تووہیں کو رنٹائن ہوئے افراد کے اہل خانہ اپنوں کی رہائی کولے کر خوف بھری خاموشی کے ساتھ یہاں وہاں فریا د کر تے ہو ئے نظر آرہے ہیں لیکن ان کی آواز نقارخانے میں طوطی کے مانند ثابت ہو رہی ہے اقلیت کے نام پر دم بھرنے والے لیڈران اور اپنی پارٹی کو مسلم پا رٹی بتانے والے اور ہفتوں ٹیلی ویزن ڈیبیٹ کرا نے والے بھی خاموش تماشائی بنے ہیں تو وہیں مسلم پارٹیوں میں خاموشی بر پا ہے۔ 

واضح رہے کہ ضلع میں پہلا کو رو نا مثبت نوجوان ۳۲ مارچ کو پایا گیا تھا جس کو علاج کے بعد رپورٹ منفی آنے پر رہا کر دیا گیا اس کے بعد ۱۳ مارچ کوبنگلہ دیش کی جماعت جس میں ۴۱ بنگلہ دیشی کے ساتھ ۲ ہندستانی جس میں ایک بنگال اور ایک رانچی کا فرد شامل تھا تمام لو گوں کو سرائے خواجہ تھانہ حلقہ کے لا ل دروزاہ محلہ سے حراست میں لیا گیا جن کے خون کا نمونہ جانچ کے لئے بھیجا گیا تو رانچی کے شہری کے علاوہ ایک بنگلہ دیشی کو ر نا مثبت پا یا گیا علاج کے بعد رپورٹ منفی آگئی ہے انتظامیہ کی جانب سے دستاویزات جمع نہ کر نے کی بات کہتے ہو ئے متعلقہ دفعات میں ان تمام پر مقدمہ درج کیا گیا 

وہیں تبلیغ انتظامیہ کے مطابق ۴۱ / مارچ کو بنگلہ دیش کی جماعت آئی تھی اور ان کے دستاویزات ذمہ داروں کی بیماری کی وجہ سے تھوڑی تاخیر سے ۹۲ مارچ کو جمع کرا ئے گئے تھے۔۸۲ مارچ کو ہی دیوبند سے طلبہ بذریعہ بس جونپور پہنچے تھے جن میں ایک طالب علم کو رو نا مثبت پایا گیا تھا جس کی رپورٹ منفی آگئی ہے تو وہیں دہلی سے آئی ایک دیگر جماعت کا ایک فرد بھی کو رونا مثبت پایا گیاجس کو علاج کے لئے وارانسی بھیجا گیا ہے وہیں سر سید انٹر کالج میں موبائل سے جماعت والوں کا ٹکٹ نکالنے والے کو کورنٹائن کر دیا گیا ہے اس کے علاوہ ۸۲/ افراد جو سر سید احمد انٹر کالج میں کو رنٹائن تھے ان تمام کی ۴۱ روز کی مدت پو ری ہو نے کے بعد پر ساد اسنٹی ٹیوٹ بھیج دیا گیا ہے جہاں پر تمام افراد کی طبی جانچ بھی ہو ئی ہے اس کے علاوہ تبلیغی جماعت کے افراد جن میں گو لر گھاٹ، بڑی مسجد، بھنڈاری،پوٹر یا، نو پیڑواں، ملہنی اور دیگر مقامات کے افرد شامل ہیں کو رنٹائن ہو ئے ہیں جن میں بعض ایسے بھی ہیں جو خود کو عارضہ قلب کے مریض بتا رہے ہیں۔

کو رنٹائن کی مدت پوری کر لینے والے افراد کے اہل خانہ اپنوں کی رہائی کے لئے فکر مند ہیں۔لوگوں کا کہنا ہے کہ عام مسلمان اور تبلیغی افراد کے سامنے بظاہر اللہ کی مدد کا سہا را ہے کوئی بھی کچھ بولنے سے گریز کر تے ہو ئے بس اتنا ہی کہتے ہیں کہ ہمیں اللہ کی ذات پر یقین ہے مظلوم کے ساتھ ہر دور میں اللہ کی مدد شامل رہی ہے ہمیں ایک دن  
اللہ کی مدد ملے گی اتنا ضرور ہے کہ جن کو ہم نے ووٹ دیا تھا پرا مید ہو نا فطری بات ہے لیکن جمہوریت میں وقت بدلتا ہے وہیں خود کو سیکولر کہے جانے والے نام نہاد سیکولر لیڈر اور مسلم لیڈران خاموش ہیں مسلمانوں کے نام پر دم بھرنے والے لیڈران کو رنٹائن ہیں یا سیاسی داؤ پیچ کے تحت خود بھی سیاسی خوف کے سائے میں جی رہے ہیں کچھ کہنا تو مشکل ہوگا لیکن عام مسلمانوں میں نام نہاد سیکولر لیڈران کی  خاموشی سوالوں کے گھیرے میں ضرور ہے۔ 

وہیں بعض ایسے بھی ہیں جن کے اہل خانہ سیاسی لیڈران کا حوالہ دیتے ہو ئے خود کی حمایت میں انتظامیہ کو فون کر نے کی بات بلند بانگ ہو کر کر تے ہیں لیکن زمینی سطح پر سب کچھ ہو ا ہوائی ثابت ہو رہی ہے تبلیغی جماعت سے وابسطہ افرادکب رہاہوں گے اس بابت تحصیل سطح پرا نتطامیہ کی جانب سے کوئی معقول جواب نہیں مل پاتا ہے۔ نمائندہ انقلاب نے اس ضمن میں ایم پی جو نپور شیام سنگھ یا دو سے رابطہ کیا تو انھوں نے کہا کہ تبلیغی افراد کے کو رنٹائن مدت پو ری ہو نے پر ان کی رہائی کے لئے انتظامیہ تک بات پہنچا دی گئی ہے کوئی معقول جواب نہیں ملا ہے۔وہیں شاہ گنج رکن اسمبلی اور سابق وزیر توانائی شیلندر کمار یادو عرف للئی سے بات کر نے پر کہا گیا کہ انتظامی افسران فون ریسیو نہیں کر رہے ہیں اگر بڑی مشکل سے فون اٹھ بھی جا تا ہے تو تھوڑی دیر بعد کال کر نے کی بات کہی جا تی ہے۔

 سوال یہ بھی پیدا ہو تا ہے کہ کیا واقعی حزب اختلاف کے لیڈر بے بس ہیں؟ یا اکثریتی ووٹ بینک کی خاطر بے بسی بیاں کی جا تی ہے؟ یہ بھی حقیقت ہے کہ وقت پڑنے پر لوگ مدد کے لئے اپنوں کو ہی تلاش کیا کر تے ہیں سیاسی لیڈران کو یہ بات سمجھنا ہو گا

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad