تازہ ترین

اتوار، 12 اپریل، 2020

کروناوائرس اور گودی میڈیاکاظالمانہ کردار

ازقلم۔قمرانجم فیضی 
وبائی مرض کوروناوائرس کوبھی کچھ شرپسند عناصرنے مسلمانوں کےخلاف دشمنی پھیلانے کے لئے سوچی سمجھی سازش کےتحت وسیلہ بنادیاہےفیس بک ،وہاٹس اَیپ۔ٹوئٹر،یوٹیوب پر ایسے میسیجزعام کئے جارہے ہیں ،جس میں یہ کہا جارہاہےکہ یہ وباکوروناوائرس مسلمانوں کی وجہ سے پھیلی ہے،اس لئے تمام لوگوں سےگذارش ہے کہ مسلم دکانداروں سےکسی چیزکی خریداری نہ کریں۔ان سے کسی چیزکالین دین نہ کریں۔مزید ان سے سوشل ڈیسٹینسنگ بنانےکےرجحان میں مزید اضافہ پیداکریں۔کئی گاؤں اور دیہاتوں میں مسلمانوں کےداخلےپرپابندی عائدکردی گئی ہے،بڑےبڑےپوسٹرزلگائےگئےہیں جسمیں صاف صاف لکھاہے کہ "مسلم نو اینٹری"مزید برآں گودی میڈیااس وائرس کومسلموں سےجوڑنےکی مذموم وذلت آمیزکوشش کررہی ہے۔نیز تبلیغی جماعت والوں کو سب مل کرسازش کےتحت بدنام کررہے ہیں،جب کہ ان میں سےکوئی بھی کورونا کا شکارنہیں ہے۔لیکن میڈیاوالے کورونا کو مسلمان کرکےہی دم لین گے۔نیوزانڈیاکا گودی ٹی وی اینکر جناب امیش دیوگن ہے، وہ توبےچارہ اپنے آرپار*تکرار نیوزکی ٹی آرپی کوبڑھانےکےلئے کوروناکومسلمان بناکےہی چھوڑےگا،،اور کون سا مسلمان؟ ہندوستانی مسلمان نہیں،بلکہ پاکستانی مسلمان، اسکی ایک ویڈیودیکھی جس میں وہ کہہ رہاہے کہ یہ تبلیغی جماعت والے ملیشیامیں ایک پاکستانی خاتون آمنہ بلوچ سے ملے تھے وہاں پر ایک اجتماع کا انعقادہواتھا، اور وہی تبلیغی جماعت والے یہاں دہلی مرکزنظام الدین میں بھی شامل تھے، تبلیغی جماعت والوں  نےبھی اس بات کی تصدیق کی تھی، کہ ہاں ملیشیامیں اس پاکستانی خاتون آمنہ بلوچ سے ملاقات ہوئی تھی"جماعت نےپھیل کیالاک ڈاؤں کاایجنڈا*پورادیش ساتھ جماعت نے کیاگھات*یہ سب اسکی خاص خاص ڈیبیٹس ہے۔اسکےجیسےخاص میڈیاوالے مسلمانوں کےخلاف زہر اگل رہے ہیں.

ان سب چیزوں سے ایک بات کا ضرورشدت سے مسلمانوں کو احساس ہواہے کہ کہ جب آج چاروں طرف سے گھر چکےہیں تب بہت ہی شدت کےساتھ احساس ہورہاہے کہ ہمارابھی ایک میڈیا ہاؤس ہوناچاہئے، آج ہرمحب وطن قلم کاراور ارباب علم وفن کواس معاملات کوطول پکڑتےہوئےدیکھ کراور تبلیغی جماعت والوں کے اوپر کوروناوائرس کولانے کا الزام،ان سب چیزوں کو بروئے کارلاتےہوئےاپنا بھی ایک میڈیاہاؤس ہونا ضروری ہے،، تاکہ ہم گودی میڈیاکےخلاف انکےہرسوال کاجواب بہترین طریقے سےدے سکیں۔مزید یہ بھی معلوم ہواہے کہ دیوبند میں کوروناوائرس کافرضی مریض بنایاگیا۔نیزمیڈیا کے ذریعے دوغلی پالیسی کا استعمال کیاگیاہے، جن لوگوں کےنام درج ہیں،ان کا ٹیسٹ ہی نھیں ہوا،بدنام کرنے کے لیےفرضی فہرست جاری کردی گئی ہے فہرست میں جس کا نام ہے وہ پندرہ سال پہلے دارالعلوم میں زیر تعلیم تھا  لکھنؤ پولیس کمشنر کے دفتر سے جاری ہوئی کورونا پوزیٹیو افراد کی فہرست سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد یہاں عالم اسلام کی ممتاز دینی درسگاہ دارالعلوم دیوبند سمیت پورے علاقہ میں کھلبلی مچ گئی،جاری فہرست میں دارالعلوم دیوبند کے ا یک طالب علم کو کورونا سے متاثر ہونا ظاہر کیاگیاہے، جبکہ وہ طالب علم نہ تو لکھنؤ کی جماعت میں گیاہے  گزشتہ پندرہ سال قبل دارالعلوم دیوبند کا طالب علم رہ چکاہے، بلکہ وہ آج بھی اپنے گاؤں سڑک دوھلی میں واقع اپنے گھرمیں موجودہے ۔ لکھنؤ پولیس کمشنر کے دفتر سے جاری فہرست میں 20؍ تبلیغی افراد کو کورونا پوزیٹیو ہونے کی فہرست سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے، جس کو سہارنپور کے ڈی ایم اور ایس ایس پی کو بھی بھیجا گیاہے، اس فہرست میں شامل تمام 20 افراد کو لکھنؤ کے طبی معائنے میں کورونا مثبت بتایا گیا ہے۔ فہرست میں 16؍ ویں نمبر پر آفتاب عالم کا نام ہے ،جس کے پتہ کے طورپر دارالعلوم دیوبند بتایا گیاہے۔ جبکہ آفتاب عالم پندرہ سال پہلے دارالعلوم دیوبند میں شعبہ تجوید کا طالب علم رہاہے اور اب وہ اپنے گاؤں سہارنپور کے موضع سڑک دوھلی میں ہے۔ بتایاگیاہے کہ مذکورہ آفتاب عالم تو جماعت میں بھی نہیں گیا تھا اور وہ اپنے گھر پر موجود ہے۔ جاری فہرست میں فون نمبر کی بنیاد پر ، جب اس سے بات چیت کی گئی تو اس نے بتایا کہ وہ لاک ڈاؤن سے پہلے سے ہی اپنے گاؤں میں ہے اور کہیں نہیں گیا ،اس کے مطابق ، اس کا کوئی میڈیکل چیک اپ بھی نہیں ہوا ہے۔ اس نے حیرت کا اظہار کیا کہ گاؤں دودھلی کے زیادہ ترلوگوں کے نام فرضی ہیں ان کی کوئی بھی میڈیکل جانچ نہیں ہوئی ہے ۔ ایس ڈی ایم دیوبند دیویندر پانڈے نے بتایاکہ اس سلسلہ میں معلومات جمع کررہے ہیں، ہم نے دارالعلوم دیوبند سے رابطہ کیا ہے ،ان کاکہناہے کہ یہ طالبعلم یہاں سے 15؍ سال پہلے ہی جاچکاہے۔ اس پر دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مفتی ابوالقاسم نعمانی نے کہاکہ یہ سنگین معاملہ ہے،جس سے پر دارالعلوم دیوبند ہی نہیں بلکہ ضلع بھی بدنام ہورہاہے، ایسے وقت میں جبکہ پورا ملک کوروناکے خلاف لڑائی لڑ رہاہے ،اس طرح کے فرضی معاملے دارالعلوم دیوبندسے جوڑنا حکومت کو انتظامیہ کو سخت اقدامات اٹھانے چاہئے،کیونکہ یہ طالب علم دارالعلوم دیوبند کانہیں ہے، پندرہ سال پہلے یہ یہاں پڑھتا تھا۔ واضح رہے کہ مسلمانوں کی تعداد کورونا پوزیٹیو دکھانے کے پیچھے کوئی بڑا کھیل کھیلا جارہاہے، جس سے انہیں بدنام کیا جاسکے، اس کی سیدھی مثال سڑک کے دودھلی کے لوگوں کو کورونا پوزیٹیو دکھایا گیاہے۔ جبکہ لاک ڈاؤن کے سے قبل زیادہ تر وہ افراد اپنے گھروں میں ہی موجود ہیں اوران کی کوئی میڈیکل جانچ نہیں ہوئی ہے ۔ہندوستان میں سخت گیر ہندو تنظیمیں اور میڈیا کا ایک حلقہ کورونا وائرس کے نام پر مسلمانوں کو بدنام کرنے میں لگا ہے جسکی وجہ سےاقوام متحدہ نے کورونا وائرس کے متعلق ہندوستان میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز بیانات کا نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کو اس کی روک تھام کے لیے فوری طور پر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ ہندوستان میں سخت گیر ہندو تنظیمیں اور میڈیا کا ایک حلقہ کورونا وائرس کے نام پر مسلمانوں کو بدنام کرنے میں لگا ہے جس کے سبب مسلمانوں کے خلاف حملوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔
اس سے قبل عالمی ادارہ صحت(ڈبلیو ایچ او)نے بھی ہندوستان میں کورونا وائرس کے تعلق سے مسلم فرقہ کو نشانہ بنائے جانے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سخت نکتہ چینی کی تھی۔ہندوستان میں مقامی غیر سرکاری تنظیموں اور عالمی اداروں کے ساتھ مل کر کام کرنے والے اقوام متحدہ کی ہندوستانی مندوب رینتا لوک ڈیزلن نے  موجودہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو کووڈ- انیس کے تعلق سے،  ایک خاص برادری کے لوگوں کو بدنام کرنے کے خلاف لڑنے اور مہاجر مزدوروں کے مسائل سے فوری طور پر نمٹنے کی ضرورت ہے۔
اس سے قبل عالمی ادارہ صحت نے بھی ہندوستان میں کورونا کو ایک خاص مذہب سے جوڑنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس طرح کی چیزوں کو آخر ہندوستان میں ہی پنپنے کا موقع کیوں ملتا ہے؟  ادارے کے پروگرام ڈائریکٹر مائک رائن کا کہنا تھا، ممالک کو چاہیے کہ وہ نئے کورونا وائرس کے مریضوں کے کیسز کی مذہب یا پھر کسی دوسری بنیادوں پر پروفائلنگ سے گریز کریں۔
دارالحکومت دہلی میں حضرت نظام الدین کے علاقے میں واقع تبلیغی جماعت کے عالمی مرکز میں مقیم بعض افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہونے کے بعد سے بعض سخت گیر ہندو رہنما اور ان کا حامی میڈیا کا ایک حلقہ مسلمانوں کو نشانہ بناتا رہا ہے۔ کورونا وائرس اور تبلیغی جماعت کے حوالے سے ایک خاص طبقہ تمام ہندوستانی مسلمانوں کو ملک دشمن کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ حکمراں جماعت بی جےپی کے ایک رکن پارلیامان نے اسے ”کورونا جہاد“ قرار دے دیا۔اس حوالے سے ہندوستانی میڈیا میں اس قدر پروپیگنڈہ کیا جارہا ہے کہ ملک کے مختلف حصوں سے مسلمانوں پر حملوں کی خبریں آرہی ہے۔دہلی کے بوانا میں کو رونا وائرس پھیلانے کی سازش کرنے کے شک میں لوگوں نے 22 سالہ نوجوان کے ساتھ مبینہ  طور پر بےرحمی سے مارپیٹ کی ۔ پولیس نے بدھ کو یہ جانکاری دی۔انڈین ایکسپریس کے مطابق، اس سے پہلے پولیس نے خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی سے نوجوان کی موت کی بات کہی تھی ۔ حالاں کہ پولیس نے بتایا ہے کہ نوجوان زندہ ہے او ر اس کا علاج چل رہا ہے۔نفرت انگیز بیانات کا اثر یہ ہوا ہے کہ بہت سے علاقوں میں مسلم دکانداروں کا اب بائیکاٹ کیا جا رہا ہے۔ ہندوستان میں اقوام متحدہ کی مندوب نے حکومت سے اس سلسلے میں فوری کارروائی کا مطالبہ کیا جس کے بعد ہندوستانی حکومت نے اپنی ایک ایڈوائزری میں کورونا وائرس کو کسی ایک خاص کمیونٹی سے نہ جوڑنے کا بیان جاری کیا ہے۔ حکومت نے بیان میں کہا ہے کہ اس طرح کے رویے سے لوگوں میں ایک دوسرے کے خلاف تعصب میں اضافہ ہوگا۔ اور ”اس سے آپس میں عداوتیں، بدنظمی اور سماجی انتشار میں اضافہ ہوسکتا ہےہندوستانی محکمہ صحت کی جانب سے ہر روز کورونا وائرس سے متعلق یومیہ بریفنگ دی جاتی ہے اور اس میں بھی حکومت تبلیغی جماعت کی مسجد کا نام لے کر ان کے اعداد و شمار الگ سے پیش کرتی ہے۔ مسلم حلقوں کی جانب سے اس پر بھی اعتراض کیا گیا ہے۔ دہلی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین  ظفرالاسلام خان نے حکومت سے اپنی بریفنگ میں تبلیغی جماعت کانام باربار دہرانے سے باز رہنے کے لیے حکومت کو ایک خط لکھا ہے۔انہوں نے حکومت کے اس رویے پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے لکھا، ”اس طرح کی درجہ بندی سے گودی میڈیا۔ہندوستان میں حکومت نواز میڈیا کو طنزیہ طور پرگودی میڈیا کہاجاتا ہے۔اور ہندوتوا فورسز کے اسلامو فوبیا ایجنڈے کو تقویت ملتی ہے۔ یہ درجہ بندی ملکی سطح پر مسلمانوں پر حملہ کرنے کا ذریعہ بن گیا ہے۔ اسی کے نتیجے میں مختلف علاقوں میں مسلمانوں پر حملے ہورہے ہیں، سماجی سطح پر انکے بائیکاٹ کی اپیل کی جارہی ہیں۔ شمال مغربی دہلی میں ایک مسلم نوجوان کو اسی کے نام پر بھیڑ نے مار مار کو ہلاک کر دیا ہے اور دوسروں پر حملے جاری ہیں۔گودی میڈیاپریہ شعربلکل صادق آرہاہے، پہلےاخبارچھپ کےبکتےتھے۔اب یہ بکنےکےبعدچھپتےہیں۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad