مولانا محمد ابوبکر قاسمی ناظم تعلیمات مدرسہ عربیہ دارالعلوم فاروقیہ ڈھکوا،سگرا سندر پور پرتاپگڈھ
جس وقت خاکسار یہ تحریرلکھ رہاہے اس وقت فرمانِ رسول کےمطابق باری تعالی اپنےبندوں کی طرف اپنی رحمتِ تامّه اورمغفرتِ عامّه کےساتھ اپنے بندوں کی دعاؤں کوقبول کرنےکیلئے سماءِ دنیاپرنزول فرما چکاہے اوراس وقت اسکی مغفرت تیزآندھی کی طرح چل رہی ہے قبیلہ بنوکلب کی بکریوں کےبال سےزیادہ لوگوں کوآج شب معافی کاپروانہ ملنےوالاہےاوراب اُس غفّارِذنوب کی جانب سے:
الامن مستغفرلی فاغفرلہ؟
الامسترزق فارزقہ؟
الامبتلی فاعافیہ؟
الاکذا،الاکذا،کےاعلان کےذریعہ اپنےگناہوں میں ڈوبے بندوں کواپنی طرف بلانےکاسلسلہ ایک خاص اہتمام اورشان کےساتھ چل رہاہےاور قبل طلوع فجرتک چلتا رہیگا!
اوراللہ کےخوش نصیب بندے اپنی اپنی ضرورتیں لیکراس کی بارگاہ میں سربسوجود ہورہےہیں
ایک امنگ ہے!
ایک جوش ہے!
ایک جذبہ ہے!
ایک امیدہے!
آج شب کوئی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کےامتی ہونےکاواسطہ دیکراپنےگناہوں کی معافی مانگےگا!کوئی اپنےسفیدبالوں کوپیش کرکےاللہ سےمغفرت کی بھیک مانگےگا!کوئی اپنےمعصوم بچوں کاحوالہ دیکربخشش کاخواستگوارہوگا!کوئی اپنی ذلت وخواری کےکوسامنےرکھ کراللہ سےگناہوں پرمعافی کاقلم چلانےکی درخواست کریگا!کوئی اپنی جوانی کی طاقت کوبھول کراپنی بےبسی کوظاہر کرکےدستِ سوال پھیلائے بیٹھارہیگا!کوئی اللہ کی اپنے بندوں سےمحبت کاذکرکرکےاسکی رضا کوڈھونڈےگا!غرض اینکہ ہرخوش نصیب شخض بتوفیقِ رب بقدر استطاعت رضاءِرب میں مصروف ہوگا لیکن اس مبارک شب میں شیطان بھی اپناکام کریگامجھ جیسے خطاکار اورعاصی کویہ کہہ کر اللہ کی بارگاہ میں جانے سےروکےگا کہ تم نے تو:یہ گناہ کیاہے،یہ گناہ کیاہے،اتناگناہ کیاہےتم کیسےاللہ کےسامنے جاؤگے؟ارے تم توصبح وشام معصیت میں غرق رہتے ہو!قدم قدم پرنافرمانی کرتےہو!تمہارےگناہ توپہاڑ سےزیادہ ہیں!سمندرکےجھاگ سےبڑھ کر ہیں!پھیلائے جائیں توزمین بھرجائے!بلندی میں مثلِ فلک بوس ہیں!کہیں ایسوں کو بھی معافی ملتی ہے؟کہیں ایسےمجرموں کو بھی بخشا جاتاہے؟کیامنھ لےکےجاؤگےبارگاہِ خداوندی میں؟ الحاصل ایڑی چوٹی کازورلگائے گااوراس مبارک شب کی بہاروں کولوٹنےسےمحروم کرنےکی کوشش کرےگا.
لیکن خبردار! خبردار! ہزاربارخبردار!
ہمیں شیطان کےبہکانےمیں ہرگزنہیں آنا!بلکہ جب یہ مردودوسوسے ڈالےتوکہنا:میں تواس شہنشاہِ عالی کےدربار میں جارہاہوں جومجھ سےستّرماؤں سےزیادہ محبت کرتاہے!میں تواس ستّارِ عیوب کی بارگاہ میں گناہوں کوپیش کرکےمعافی کاطلبگار ہوں جومعاف بھی کرتاہے اورشرمندہ بھی نہیں کرتا!میں تواس ارحم الراحمین کی چوکھٹ پربھکاری بن کرجارہاہوں جہاں محرومی اورمایوسی کاگذر نہیں!میں تواس غفّارِذنوب کےدرپرگناہوں میں ڈوبی زندگی پرمعافی کی قلم چلوانےجارہاہوں جسکی شان یہ ہےکہ بندہ گناہ کرتےکرتےتھک جاتاہےلیکن وہ کریم آقامعاف کرتےکرتےنہیں تھکتا!میں تو اس اللہ کےسامنےمعافی کی امیدلیکرجارہاہوں جوسمندرکےجھاگ سےزیادہ گناہوں پرمعافی کاقلم اورپہاڑ سےبڑےگناہ پررحمت کی بارش برساکرختم کردیتاہے! اوراس یقین اورایمان کےساتھ جارہاہوں کہ اسکےدرکےسواکوئی درنہیں جہاں گناہ بخشوائےجائیں !زندگیوں میں انقلاب کاسوال کیاجائے!سئیآت کوحسانات سےبدلوایاجائے !آفات سےعافیت کاسوال کیاجائے!اورپھراسکی شانِ کریمی کےسامنے میرےگناہ کی حیثیت ہی کیاہے۔مثل مشہور ہےایک بیل کی سینگ پرمچھرآکربیٹھ گیااورجب اڑنےلگاتوبیل سےکہتاہے بھائی میں آپکےاوپربیٹھ گیاجس سےآپ پربوجھ پڑاہوگااسلئےمعافی چاہتاہوں توبیل نےکہابھائی مجھےتیرےبیٹھنےکےبوجھ کا اساس تو کجا خودتیرےبیٹھنےکابھی علم نہیں حقیقت تویہ ہے کہ ساری دنیااگراللہ کی نافرمانی پراترجائےتوخداتعالی کی صفات کاملہ کےسامنےسارےجہاں کی نافرمانی اس کاذرہ برابرنقصان نہیں کرسکتی آئیے شیطان کےبہکائےمیں نہ آکراپنےرب کوخوش کریں اوراس شب کابھرپورفائدہ اٹھائیں اوردیکھئےاس شب کی بہاروں کولوٹنےمیں اس عاصی پُرمعاصی کواپنی دعواتِ صالحہ میں فراموش نہ کیجئےگا

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں