تازہ ترین

اتوار، 12 اپریل، 2020

یہ زندگی تونہیں زندگی کاماتم ہے

ازقلم-مولانامحمدقمرانجم قادری فیضی، ریسرچ اسکالر سدھارتھ یونیورسٹی سدھارتھ نگر
آج دنیاکےمنظرنامےپرغوروفکر کی نظر ڈالی جائے تو پتہ چلتاہے کہ ہر کوئی خوف ودہشت سے کانپتاہوا نظرآرہاہے اور لاک ڈاؤن میں قید ہو کر گھر کےاندر زندگی گزارنےپر مجبورومقہور ہیں۔ماحول اتناخراب ہوگیاہے،غریب۔یتیم،بےکس ومجبور، مزدورموت کے آغوش میں جاتے ہوئے نظرآرہے ہیں، آج زندگی قید تنہائی میں جکڑ دی گئی ہے،لاک ڈاؤں کی وجہ سےبہت سارےمزدوراپنےگھرجاتےہوئے400-1000 کلو میٹرز کاسفر کرتےہوئے موت کے منھ میں جارہے ہیں، ہرطرف موت ہی موت نظرآرہی ہے،ہر کوئی آج پریشان حال نظر آرہاہےمعاشیات ٹھپ ہےکاروبار بند ہے، کھانےپینےکی اشیاء کےانتظام میں صبح وشام گزرتاہوا نظر آرہے،ہندوستان کا حال اتنا بھیانک وخطرناک ہے۔جب کہ دوسرے ممالک پرنظرڈالی جائےتو اس سےبھی زیادہ پریشانی وہاں پر اس کوروناوائرس سے پھیلی ہے۔مگر ان سب کے باوجودگودی میڈیااس وائرس کومسلم بنانےکی کوشش میں سرگرداں ہے،،تبلیغی جماعت والوں کو سب مل کرسازش کےتحت بدنام کررہے ہیں،جب کہ ان میں سےکوئی بھی کورونا کا شکارنہیں ہے۔لیکن میڈیاوالے کورونا کو مسلمان کرکےہی دم لیں گے. اگر ہم‌موجودہ حال کے تناظرمیں دیکھیں۔

توہم‌جس دورسےگزر رہے ہیں اسے قیامت صغری کا نام دے سکتے ہیں، بیان کرنےکی ضرورت نہیں، ہرطرف خوف ودہشت کاعالم ہے، تباہیوں اور بربادیوں کا ایک سیلاب رواں دوں ہے جس کی سرکش موجوں نےقوت انسانی کو مضمحل اور لاغرکردیا ہے معاشی،غریبی ،اقتصادی بےروزگاری،بھوک مری،بےروزگاری اور اس وقت پیسوں کی قلت کا دباؤ اتنابڑھ گیاہےآج زندگی کے لیے توازن برقرار رکھنا،وقت کا اہم ترین مسئلہ بن چکا ہےآج کاماحول بہت ڈراؤنا ہوگیاہےبھوک ،فاقہ کشی بے روزگاری کے بے رحم ہاتھوں نے زندگی کا ساراجمال، اورحیات کےساری رعنائی اس طرح چھین لی ہےکہ کوروناوائرس کی وجہ سے ساراعالم پریشان حال نظرآرہاہے، لوگوں کادائرہ فکر ،معشیات ومعاشرتیات کے اردگردمحدود ہوکررہ گیاہےپھرمسلمان! جس کی زندگی کا تبسم وقت کی تیز دھوپ نے پہلے ہی جلا کر رکھ دیا ہے حالات کی نئی افتاداورموجودہ قیامت کوروناوائرس نے اسکے لئے زندگی کےسارےدروازےبندکردئیےہیں،آج اس قوم کی صبح وشام‌ میں مسرت کی چاندنی ،تمناؤن کی روشنی،اورامیدوں کی سنہری کرن کی بجائے زخموں کی کراہ ،مصائب کی تاریکی اور مایوسیوں کی دبیزاندھیاری ہے،اب نہیں کہہ سکتے کہ مدارس ومکاتب کا مستقبل کیاہوگا،مسجدوومحراب ومنبر کاکیاحال ہوگا۔

 کسی شاعر نےکیاخوب کہاہے
؏وہ شورشیں کہ نظام حیات برہم ہے
  یہ زندگی تو نہیں زندگی کا ماتم ہے

اِس وقت مدارس ومکاتب اور مساجدکی دنیا کی زندگی میں قدم قدم پر نہ جانے کتنی دشواریاں اور مصیبتیں ہیں اس  کا صحیح اندازہ وہی لگا سکتے ہیں جو اس راہ کے مسافر ہیں۔ علماء کرام اور دینِ اسلام کی نشرواشاعت کرنےوالوں کو قدم قدم  پرآزمائشوں کی تیز دھوپ کا سامنا کرناپڑتاہےاور آزمائش کی راہوں میں چلنےکےلئے ،اور منزل تک پہنچنے کےلئےکوئی مشعلِ راہ  بھی نظر نہیں آرہاہے،مسلمان اس حقیقت کوخوب اچھی طرح سےسمجھ لیں کہ یہ تاریک ترین وخوفناک وقت جانی مالی بربادی کاوقت نہیں ہے، اس میں ملازمت وتجارتوں کابھی سوال ہے،مزید یہ دور ہمارےسب سے انمول سرمایہءِ دین وایمان‌کےلئےکھلا چیلینج ہےایک‌منظم‌سازش کے تحت،پری پلان‌ منصوبےکےتحت، مسلمانوں کےبےداغ کردارپرغلط اور گمراہ کن پروپیگنڈہ پھیلایاجارہاہے،اوراب میڈیاکےذریعےسےکوروناوائرس کوبھی مسلم بنانےکی سعئی لاحاصل کی جاری وساری ہے، ،ہماری مسجدوں پرقفل لگادئےگئےہیں،ہمیں مسجدوں میں جانےسےمنع کیا جارہاہے، ہمارے مدرسوں کوآئسولیشن کاگھربنای اجارہا ہے،ہماری مسجدوں کے میناروں سےآذان بند کرایاجارہاہےاورمزارات اولیاء کو بھی لاک ڈاؤن کی وجہ سے تالے لگادئےگئےہیں،یہ ہمارےلئے کتنی شرمناک وافسوسناک بات ہے،  یہ بھی ہمارےبرےاعمال کےنتیجوں کی ایک اہم کڑی ہیں اگر ہم نے اسی طرح اپنے تغافل روویئوں سے کام لیا تو آنے والے نسل کاحال کیا ہوگا،اور قوم کدھر جائے گی۔مسلمان،مسلمان‌بھی رہےگایہ بھی کہنا محال ہے،کیونکہ‌برہمنیت کےچیلوں نےتوایک ایسا ہندوستان‌،نیوڈیجیٹل انڈیا"بنانےکی کوشش کی ہےکہ جیسے وہ سب لوگ ہیں،کوروناوائرس کی بڑھتی ہوئی تباہی رکنےتھمنےکا نام نہیں لے رہی ہے کوروناوائرس سے اب تک 180 لوگوں کی جانیں گئیں،،مریضوں کی کل تعداد5927 ہوئی،540نئے معاملے درج کئے گئے جب کہ 565مریض صحتیاب ہوکرگھروں کولوٹے پوری دنیامیں مرنے والوں کی کل تعداد88ہزار502تک پہونچی، جبکہ متاثرین کی کل تعداد15؍لاکھ18ہزار719ہوئی*امریکہ میں کل مریضوں کی تعداد4؍لاکھ 35؍ہزارسے زائد،مرنے والوں کی تعداد14؍ہزار795، اٹلی میں مرنے والوںکی کل تعداد17669،اسپین میں14792،چین میں3335،ایران میں3993اورانگلینڈمیں7097ہے۔ممبئی: 9؍ اپریل(بی این ایس؍ایجنسی)عالمی مہلک وباکوروناوائرس جہاں پوری دنیاکے لئے خطرہ بناہواہے وہیں ہندوستان بھی اس وائرس سے لڑنے میں پوری طرح جٹاہواہے۔کوروناوائرس جیسے مہلک مرض سے ملک کوچھٹکارادلانے کے لئے پورے ملک میں لاک ڈاؤن کردیاگیاہے،لیکن اس کے باوجودروزانہ کورانہ کے نئے معاملے تیزی سے بڑھتے جارہے ہیں۔ تازہ ترین اپڈیٹ کے مطابق اب تک 180؍لوگوں کی جانیں جاچکی ہیں۔کچھ دیرقبل تک کی تازہ اپڈیٹ کے مطابق کل540نئے معاملے ریکارڈکئے گئے۔اب تک متاثرین کی کل تعداد5927ہوچکی ہے۔وہیں ایک اچھی خبریہ بھی ہے کہ اب تک565 مریض صحت یاب ہوکراپنے گھروں کولوٹ چکے ہیں۔تازہ ترین اعدادوشمارکی روشنی میں سب سے زیادہ متاثرین مہاراشٹرمیں پائے گئے ہیں جہاں متاثرین کی کل تعداد1135ہوچکی ہےاورمرنے والوں کی کل تعداد72تک پہونچ چکی ہے۔اس کے بعد738مریضوں کے ساتھ تملناڈوملک میں کوروناسے متاثرہ ریاستوں میں دوسرے نمبر پرہے۔کوروناسے ہونے والی اموات کی بات کریں توسب سے زیادہ اموات مہاراشٹرمیں ہوئی ہے۔مہاراشٹرمیںاب تک کل72؍لوگ کوروناسے مرچکے ہیں جب کہ موت کے معاملے میں مدھیہ پردیش دوسرے نمبرپرہے جہاں اب تک کل24؍اموات ہوئی ہیں۔گجرات تیسرے نمبرپرہے جہاں اب تک16؍لوگوں کی موت ہوچکی ہے۔تلنگانہ 11 افرادکی موت کے ساتھ چوتھے نمبرپرجبکہ دہلی 9؍لوگوں کی موت کے ساتھ پانچویں نمبرہے۔حالاںکہ دہلی میں متاثرین کی تعداد669ہے جب کہ تلنگانہ میںصرف453متاثرین ہیں۔کیرالہ میں345 جبکہ راجستھان میں 383افراد کوروناسے متاثرہیں ۔جب کہ کیرالہ میں2؍افرادا ورراجستھان میں 3؍افراد کی موت ہوچکی ہے۔اترپردیش میں361متاثرین ہیں اور4؍لوگوںکی موت ہوئی ہے۔گجرات میں 186؍متاثرین اور16؍لوگوں کی موت،کرناٹک میں 181متاثرین اور5؍فردکی موت۔جموں کشمیرمیں 158متاثرین ،3؍کی موت،مدھیہ پردیش میں 341؍متاثرین،24؍افرادکی موت،ہریانہ میں 167؍متاثرین ،2؍فردکی موت ، آندھراپردیش میں 348؍متاثرین،3؍فردکی موت،مغربی بنگال میں 99؍متاثرین،5؍کی موت، بہارمیں 39؍متاثرین،1؍کی موت،لداخ میں 14،جزیرہ انڈمان نکوبارمیں،11،چنڈی گڑھ میں18، اتراکھنڈمیں 35،چھتیس گڑھ میں10،گوا میں7،اڈیشہ میں42،متاثرین اور1؍فردکی موت ہوئی ہے۔منی پور2، آسام28، جھارکھنڈ9،میزورم، تریپورہ،دادراورنگرحویلی اوراروناچل پردیش میں ایک ایک فردمتاثرہے اوران ریاستوںمیں کسی کی موت نہیں ہوئی ہے۔پانڈیچری میں 5؍ اورہماچل پردیش میں 27؍متاثرین پائے گئے ہیں اوروہاں اب تک 2؍فردکی موت کی خبرہے۔اسی بیچ ایک اچھی خبر یہ بھی ہے کہ اب تک 565؍افرادکوروناجیسی مہلک وباسے صحتیاب ہوچکے ہیں۔واضح رہے کہ ہندوستان جیسے کثیرآبادی والے ملک جہاں ایک ارب 30؍کروڑسے زیادہ لوگ بستے ہیں ،اب تک صرف 1؍لاکھ 27؍ہزارکوروناسیمپل کاہی ٹیسٹ ہوپایاہے جوکہ اپنے آپ میں قابل تشویش ہے۔انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ کی رپورٹ کے مطابق 10؍اپریل شام کے 9؍بجےتک 1؍لاکھ 27؍ہزار919کوروناسیمپل ہی ٹیسٹ ہوپائے ہیں۔رپورٹ کے مطابق صرف 10؍اپریل کےدن 13143 کوروناسیمپل ٹیسٹ کئےگئے۔اگرکوروناکے ٹیسٹ کی یہی رفتاررہی توپورے ملک کے ٹیسٹ میں کئی سال لگ جائیں گے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad