تازہ ترین

پیر، 20 اپریل، 2020

الہ آباد میں مؤذن کی مردہ لاش مسجد میں برآمد قوم کی بے حسی وبے غیرتی تو دیکھئیے

ولی اللہ سنابلی، مسلم قوم کے لئے انتہائی شرمناک واقعہ پیش آیا، اترپریش کے الہ آباد شہر کی ایک مسجد میں مؤذن صاحب کی لاش برآمد ہوئی، اور بے حس اور بے غیرت قوم کو یہ بھی نہیں معلوم کب ان کاانتقال ہوا، پولیس رپورٹ کے مطابق مقامی لوگوں کے بیان کے مطابق جمعرات تک ان کے اذان کی آواز سنائی دی، جمعہ کو پورے دن اذان کی آوازنہیں سنائی دی، اور ہفتہ کے روز ان کی لاش برآمد ہوئی، راہ گیروں کوجب بدبو محسوس ہوئی توپولیس کواطلاع دی گئی،

 تو پتہ چلا کہ مؤذن صاحب کاانتقال ہوگیاہے، یقینا یہ افسوس ناک اور شرمناک واقعہ ہے، جب مقامی لوگوں نے پولیس کے لوگوں کواطلاع دیا کہ جمعرات کو آخری بار اذان سنائی دی گئی، توکیا جمعہ کے دن کسی کو جاکر ان کی حالت معلوم نہیں کرنی چائیے تھی کہ آخر اذان کیوں نہیں ہورہی ہے، افسوس توان بے غیرت اور بے حس لوگوں پر بھی ہوا تواس بات کو لکھ کر معاملہ کوجھوٹاثابت کرنے کی کوشش کررہے تھے کہ وہ امام نہیں تھے، کیا وہ امام نہیں تھے توانہیں مسجد میں یوں ہی چھوڑدیاجائے، کہ انتقال کرجائیں اور قوم کو ان کے انتقال کی اطلاع تک نہ ہو، کیااسلام کی یہی تعلیم ہے، مؤذن کو مسجد میں بھوکا پیاسا چھوڑدو مرجائے پھر اپنی بے حسی وبے غیرتی چھپانے اور بدنامی کے ڈر سے یہ لکھو کہ امام نہیں تھے، کیا امام نہیں تھے کیا ان کوبے یارومددگار چھوڑدینا جائز ہوگیا،

 ان کو مسجدمیں یوں ہی مرتاچھوڑدیاجائے، کوئی حال خبر نہ لے، کچھ بے غیرت قسم کے لوگ اس معاملہ پر قوم کی بے حسی اور بے غیرتی کوچھپانے کے لئے کہہ رہے ہیں وہ امام نہیں تھے، مؤذن توبہرحال تھے، کچھ لوگ یہ کہہ کردفاع کررہے ہیں مسجد مارکیٹ میں تھی کوئی نماز نہیں پڑھنے آتا تھا تو متولی کی ذمہ داری تھی کہ ایسی جگہ جہاں کھانے پینے کانظم ہو لاک ڈاؤن میں کسی کورکھے، اگر متولی نے مؤذن صاحب کورکھاتومتولی کی پوری ذمہ داری بنتی ہے کہ مؤذن صاحب کاہر طرح سے خیال رکھیں، تمام ضروریات کے سامان مہیا کریں، اگر یہ سب ممکن نہیں تھا تومسجد میں موذن صاحب کورکھنے کی ہی کیاضرورت تھی،

 ان کواپنے گھر بھیج دیاجاتا، لیکن افسوس قوم کو اس حادثہ پرافسوس کااظہار کرناچائیے تھا، لیکن بے غیرت وبے حس لوگ قوم کی ایک بے حسی میں سپورٹ کررہے ہیں، مؤذن کو بے یارومددگار چھوڑدینا اس حالت میں کہ ان کاانتقال ہوجائے کیا اسلام کی یہی تعلیم ہے، ایسے ہی بے غیرت لوگ اسلام کوبدنام کررہے ہیں، متولی کوجب معلوم تھا کہ مؤذن صاحب جب بیمار ہیں لاک ڈاؤن میں انہیں ہرگز ہرگز مسجد میں نہیں رکھناچائیے تھا اگر رکھاتو پوری طرح خیال رکھنا چائیے تھا، یہ نہیں کہ اس کوبے یارومددگار چھوڑدیں اس حالت میں ان کاانتقال ہوجائے، ایسے بے غیرت وبے حس متولی اور اس مسجد کےتمام مقتدیوں کوقوم سے معافی مانگناچائیے، اور اس شرمناک حرکت پر اللہ سے سچی توبہ کرناچائیے تھا، اللہ اس بے غیرت وبے حس قوم کو اپنے اماموں کاقدرداں بنائے...آمین..

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad