تازہ ترین

اتوار، 19 اپریل، 2020

ترک سیرل ارطغرل کو دیکھنے سے متعلق دارالعلوم دیوبند کا بڑا فتویٰ!

دیوبند 19 اپریل (دانیال خان)ترکی حکومت کے زیر اہتمام خلافت عثمانیہ کی پوری کہانی بیان کرنے والے سیریل *دیریلیش اِرطَغرَل*کے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں دارالعلوم دیوبند نے کہا ہے کہ جائز کھیل تماشہ بھی اگر فرائض و واجبات میں کوتاہی کا سبب بننے لگے تو وہ ناجائز ہو جاتا ہے۔سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہے فتوی میں دارالعلوم دیوبند سے ایک شخص نے تحریری طور پر دریافت کیا ہے کہ کیا شریعت ایسے سیریل بنانے اور ان کو دیکھنے کی اجازت دیتی ہے؟ ایسا سیریل بنانا اور اس کا دیکھنا دونوں کا کیا حکم ہے؟ مزید یہ کہ جو قوم آج کل فحش فلمیں ننگے ناچ دیکھنے کی عادی ہو چکی ہے اسے اسکے بجائے کیا یہ سیرئل دیکھنے کی اجازت ہوگی؟ واضح ہو کہ ترکی حکومت کے زیر اہتمام ایک سیریل بنام *دیریلیش اِرطَغرَل* یو ٹیوب اور ترکی کے قومی ٹی وی چینل پر دکھایا جا رہا ہے،جس کی 2014 سے اب تک متعدد قسطیں آچکی ہیں، اکثر قسط کا دورانیہ دو گھنٹے کے کم و بیش ہے جو کہ پوری دنیا میں بہت دیکھا جارہا ہے خصوصاً مسلمانوں میں زیادہ رائج ہے۔ عوام کے ساتھ ساتھ بعض خواص بھی اس سیریل کے دیکھنے کے بہت عادی ہوگئے ہیں۔ تْرک حکومت یہ سیریل اس واسطے بنوارہی ہے کہ لوگوں کو خلافت عثمانیہ کی پوری کہانی معلوم ہوجائے۔ اس سیریل کا حال یہ ہے کہ اس میں عشق و معشوقی کو بھی رکھا گیا ہے۔ خوبصورت لڑکیوں اور عورتوں نے اس سیریل میں اپنے کردار انجام دیئے ہیں اور ہر قسط کے آخر میں دعاء بھی کی جاتی ہے۔ 

طیب اردگان اور ترک کے وزیر اعظم وغیرہ اس سریل کے حمایتی ہیں۔ملک کی مؤ قر ترین دارال افتاء سے مستفتی کے ذریعہ پوچھے گئے سوال کے تحریری جواب میں مفتیان کرام نے کہا ہے کہ سیریل یا فلم کیسی بھی ہو اس میں کم از کم تین خرابیاں، یعنی ویڈیو گرافی، رقص وموسیقی اور اجنبی عورتوں کی موجودگی ضرور پائی جاتی ہیں، اور یہ تینوں امور ناجائز ہیں، چنانچہ تصویر کے بارے میں حدیث میں آیا ہے کہ تصویر بنانے والوں کو قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا، ان سے کہا جائے گا کہ جو تم نے بنایا ہے اس کو زندہ کرو! (بخاری، اللباس، عذاب المصورین، رقم: ٠٥٩٥) اور میوزک کے بارے میں آپ علیہ السلام فرماتے ہیں کہ اللہ نے مجھے تمام جہانوں کے لئے رحمت بناکر بھیجا، اور لہو و لعب اور گانے بجانے کے آلات کو ختم کرنے کا حکم دیا، (مشکاۃ، حدود، بیان خمر، فصل ثالث: ٤٥٦٣) اور بے پردہ اجنبی عورتوں کی موجودگی میں جو قباحت ہے وہ محتاج بیان نہیں۔ پھر وہ فلمیں جن میں سلاطین اسلام کی تاریخ بیان کی جاتی ہے ان میں ایک مزید خرابی یہ ہے کہ لوگ ایسی فلمیں دیکھنے کو گناہ ہی نہیں سمجھتے، یا ہلکا سمجھتے ہیں، اور گناہ کو ہلکا سمجھنا یا گناہ ہی نہ سمجھنا زیادہ خطرناک گناہ ہے اور سلسلہ وار فلموں کے دیکھنے کی لوگوں کو جو لت لگتی ہے اس میں ضیاع وقت، نمازوں کا چھوٹنا، اور دیگر ضروری کاموں سے غفلت، مذکورہ بالا خرابیوں پر مستزاد ہیں۔ جب کہ یہ بات معلوم ہے کہ کوئی جائز کھیل تماشہ بھی اگر فرائض و واجبات میں کوتاہی کا سبب بننے لگے تو وہ ناجائز ہو جاتا ہے۔ اس طرح کی تاریخی فلموں میں ایک خرابی یہ ہوتی ہے کہ بہت سارے واقعات محض فرضی یا مبالغہ آمیزی پر مبنی ہوتے ہیں۔ جس میں کذب و افتراء اور غیبت تک کی نوبت آجاتی ہے۔مختصرا یہ کہ سوال میں مذکورہ نوعیت کے سیریل، تصویر کشی، موسیقی، بے پردہ اجنبی عورتوں کی موجودگی، کی وجہ سے ناجائز ہیں، اور گناہ کو ہلکا سمجھنے، فرائض و واجبات میں غفلت اور دوسری خرابیوں کی وجہ سے اس حرمت میں اور شناعت آجاتی ہے۔ مذکورہ سیریل فحش فلموں سے بچنے کا حل نہیں ہیں، اس لئے کہ یہ سیریل خود ناجائز ہیں، گویا دونوں زہر ہیں کوئی ہلکا کوئی تیز۔ لہٰذا ضروری ہے کہ دونوں سے بچنے کی فکر کی جائے۔ اور یہ انسان کے اپنے ارادے اور عادت بنانے پر مبنی ہے۔ اس کے لئے ناجائز چیزیں اختیار کرنے کی ضرورت نہیں؛ بلکہ مباح ذرائع اختیار کیے جاسکتے ہیں، مثلاً: قرآن کریم کی تلاوت اور اس کے معانی اور تفسیر، اچھے بامعنی اشعار اور نعتیہ کلام سننا مجاہدین اور اولیاء اللہ کے حیرات انگیز واقعات کو پڑھنا، سننا اپنایا جاسکتا ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad