تازہ ترین

اتوار، 19 اپریل، 2020

تبلیغی جماعت اور پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا کا رد عمل

از قلم: انعام الرحمن اعظمی:خادم دارالعلوم تحفیظ القرآن سکھٹی مبارک پور
جیسا کہ احقر نے اپنے پچھلے مضمون (کرونا وائرس اور عالم انسانیت) کے ذیل میں مختصراً میڈیا کے تعلق سے کچھ سطور سپرد قرطاس کیا تھا،اب مذکورہ تحریر میں تبلیغی جماعت اور مسلمانانِ ہند کے متعلق جو خبریں پھیلائی جارہی ہے اس پر تفصیلا کچھ لکھنے کی کوشش کررہا ہوں،ہندوستانی میڈیا کا مسلمانانِ ہند کے ساتھ کیا سلوک ہے اور کس نظر سے مسلمانانِ ہند کو دیکھا جارہا ہے ہم سب بخوبی واقف ہیں،اب سے کچھ سال پہلے ہر شخص اپنے آپ کو محفوظ تصور کیا کرتا تھا اور آپس میں پیارو محبت کے ساتھ زندگی کے شب و روز گزرا کرتا تھا اور یہ سمجھتا تھا کہ یہی ہماری گنگا جمنی تہذیب ہے،لیکن جب سے برسراقتدار حکومت اکثریت میں آئی اسی وقت سے اقلیتی طبقوں کے اوپر خطرات منڈلانے لگے،

آخر یہ خوف و ہراس کیوں اور کیسے ہوا؟ 
اگر یہ کہا جائے کہ الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے ایک طرفہ خبر دیکھانے اور وقفہ وقفہ سے میڈیا کے چینلوں سے کسی نہ کسی خاص طبقہ کو نشانہ بناکر اپنے میشن کو آگے بڑھانے اور اپنے چینل کو فروغ دینے کیلئے تو یہ مبالغہ نہیں بلکہ حقیقت پر مبنی ہوگا،
 کبھی  تین طلاق کے ذریعےمسلمانوں کو نشانے پر لیا گیا اور شریعت میں مداخلت کی کوشش کی گئی اور پھر میڈیا نے اس کو خوب نشر کیا اور مسلمانوں کی ہمدرد بن مسلم خواتین کی مظلومیت کو خوب اجاگر کرکے ان کے ساتھ اظہار محبت کیا گیا، لیکن یہ معاملہ بہت دنوں  تک نہیں چلا اور ساری ہمدردی اور پیارو محبت کو بالائے طاق پر رکھ کر بابری مسجد مقدمے کے ذریعے اپنی دوکان چلانے کی کوشش کی اور کسی حد چلی بھی،
اس کے بعدCAA/NRC/ اورNPR کے ذریعے  ایک خاص طبقہ کو نشانے پر لینے کی کوشش ہوئ لیکن اس مسئلہ میں کسی حد ناکام ہوتی نظر آئ پھر بھی کچھ حد تک کامیاب تھی ہی کہ کرونا وائرس جیسی مہاماری نے ان کی رہی سہی دوکان کو ختم کردیا اور کچھ دن تک ایسے گھروں میں بند ہوۓ کہ پتہ نہیں لگ رہا تھا کہ میڈیا بھی اس ملک  کے اندر ہے بھی، لیکن یکایک ان کو ایک ایسا مدعا ملا جس کی تاک میں" میں" سمجھتا ہوں کہ کافی عرصے سے رہے ہونگے، لیکن ان کو اس میں کامیابی نہیں مل سکی، بالآخر 25/مارچ کی وہ صبح آہی گئی جس صبح نے نہ صرف ان کی منشاء کو پورا کیا بلکہ ان کو ایک ایسا مدعا مل گیا جس کے ذریعے ایک خاص طبقہ کو نشانہ بنایا ہی نہیں بلکہ اس مہاماری کا ذمہ دار ہی تبلیغی جماعت اور مسلمانانِ ہند کے سر باندھ دیا، وہ مہاماری جس کے اوپر اب تک دنیا کی کسی میڈیا نے مذہب و مسلک کی نظر سے نہیں دیکھا لیکن ہمارے پیارے ملک انڈیا کی الیکٹرانک میڈیا نے اسے ایک خاص مذہب سے جوڑ دیا، اور بے ساختہ کہنے پر مجبور ہونا پڑا کہ تقریباً 200/ممالک کا سفر کررہی اس مہاماری کو اب تک کسی بھی ملک کی میڈیا نے اس مہاماری کو کسی دھرم اور مذہب میں شامل کرانے میں کامیاب نہیں ہوسکی لیکن اللہ جزائے خیر دے تبلیغی جماعت والوں کو جہنوں نے اب تک صرف انسانوں ہی کو راہ راست پر لاکر ان کو اسلام اور ایمان کا شیدائی نہیں بنایا بلکہ الیکٹرانک میڈیا کی زبانی تبلیغی جماعت کے لوگوں نے اس مہاماری کو بھی مشرف باسلام بناہی دیا۔ 
اب ذہن میں ایک سوال اسی دن سے گردش کررہا ہے آخر مرکز پر لگے الزامات اور لاک ڈاؤن کے بعد اتنے افراد کا جمع ہونا کہاں تک صحیح ہے، اور میڈیا جو اپنے طور پر بیان کررہی وہ کہاں تک درست ہے؟ 
اب دونوں سوالوں کے جواب کیلیے مرکز کی جانب سے جو وضاحت آئی ہے اس کو بھی باریکی سے سمجھنے کی ضرورت ہے اور میڈیا کے ذریعے چلائ گئی خبروں کو بھی جاننا ضروری ہے کہ ان کی اس خبر میں کہاں تک صداقت ہے،
پہلے مرکز کی وضاحت کو قلم بند کرنے کی کوشش کرتا ہوں تاکہ بعد والی خبر جو میڈیا کے ذریعے چلائ گئی اس کی حقیقت کسی حد تک مرکز کی وضاحت سے صاف ہوجائے،

       (میڈیا کا دعویٰ)

"میڈیا کا دعویٰ ہے کہ 22/مارچ کو جو اعلان کیا گیا اس وقت مرکز میں تقریباً 2500/سو افراد موجود تھے"

(میڈیا کے اس دعوے پر مرکز کی وضاحت)

مرکز نے میڈیا کے ذریعے کئے گئے دعوے کی تردید کرتے ہوئے ہوۓ کہا کہ 22/مارچ سے پہلے 1500/سو افراد اپنے گھروں کو روانہ ہوچکے تھے، پہلی مرتبہ جب جنتا کرفیو کا اعلان کیا گیا اس وقت مرکز میں تقریباً 1000/ سے 1200/سو افراد موجود تھے وہ بھی وزیر اعظم کے اعلان کیوجہ سے کہ وزیراعظم نے اپیل کی تھی کہ جو جہاں ہے وہیں ٹھہر جائے، اب اگر کچھ لوگ وہاں اس بیان کی وجہ سے ٹھہر گئے تو انھوں یا مرکز کے ذمہ داران ان کو روک کر کیا غلطی کی،
جب کہ لاک ڈاؤن کے اعلان کے بعد 23/مارچ کو مرکز نے انتظامیہ کو تحریری طور پر اس بات سے باخبر کیا کہ ہمارے پاس اتنے لوگ موجود ہیں جو اوپر افراد کی تعداد ذکر کی گئی، لیکن انتظامیہ نے ان کی اس درخواست پر کوئی توجہ نہیں دی اور اس کی ویڈیو بھی وائرل ہوئی بلکہ مرکز کے ذمہ داران کی طرف سے اس بات کی بھی پہل کی گئی کہ اگر انتظامیہ کوئی نظم کرتی ہے تو ٹھیک ہے ورنہ ہم ان کی روانگی کا بندوبست کرتے ہیں اور ہمیں اس بات کی اجازت دی جائے تب بھی انتظامیہ کی طرف سے کوئی مثبت جواب نہیں ملا،
لیکن انتظامیہ نے دو ہی دن کے بعد تفتیش شروع کردی اور وہاں سے ایک معتدبہ افراد کو پایا،
اسی وقت سے پوری کی پوری الیکٹرانک میڈیا اور اس بات کو ثابت کرنے میں مصروف ہوگئی کہ یہیں سے کرونا کے کیسسز پورے ملک میں پھیلاۓ گئے ہیں اور پھر طرح طرح کے الزامات کی بارشیں شروع ہوگئیں، "کسی نے کرونا جہاد کے نام سے یاد"، اور کسی نے دہشت گرد کے نام سے یاد کیا اور نہ جانے کیسے کیسے الفاظ استعمال کئے گئے، اسی پر بند نہیں ہوا بلکہ اس کے بعد اس مسئلہ پر میڈیا پر ٹی وی ڈی ویٹ کا دور شروع کردیا اور ان چینلوں کے ذریعے ایسے ایسے سوالات اٹھائے گئے کہ اس سے صاف ہوگیا کہ اس مہاماری کی اصل پرورش و پرداخت اسی مرکز سے ہی ہوئی ہے اور پورے ملک میں کرونا وائرس کی جو کیسسز سامنے آۓ سب انہیں کی وجہ سے وجود میں آئے ہیں، جب اس طرح کے الزامات صرف ایک طبقہ کے اوپر باندھنا شرورع کیا گیا تو کچھ لوگوں نے تبلیغی جماعت کے دفاع میں اپنے اپنے بیانات دینا شروع کیا اور میڈیا کی اس حرکت پر اظہار افسوس کیا اور جہاں تک ہوسکا ہر ممکن کوشش کی کہ اس مسئلہ کو ہندو مسلم کا رنگ نہ دیا جائے ورنہ اس مہاماری کے خلاف ہماری لڑائی کمزور پڑجائے گی، ان دفاع کاروں میں بہت سے ایسے لوگ بھی شامل تھے جن کو تبلیغی جماعت سے نظریاتی اختلاف تھے، لیکن ان حضرات نے اس بات کا اقرار کرتے ہوئے کہاکہ اگرچہ ہمارا اختلاف ہے لیکن اس سے صرف ایک جماعت کے اوپر اثر نہیں پڑتا بلکہ اس کی زد میں تمام مسلمانانِ ہند آرہے ہیں، ان ہی دفاع کاروں میں سے کسی نے میڈیا کے چینلوں کو بہت سخت و سست کہا تو ان میں سے ایک چینل  نے ان کو اپنی ٹی وی اسکرین پر ڈی ویٹ کے لئے مدعو کیا اور اس کے بعد کس طرح کی گفتگو ہوئی سب نے دیکھا اور سنا ہوگا،
ڈی ویٹ کا آغاز صرف ایک اینکر سے شروع ہوا اس کے بعد یکے بعد دیگرے دو اور اینکر ٹی وی اسکرین پر ان کے ساتھ جڑے اور پھر ان پر سوالوں کے پل باندھنا شرورع کردیا،
ان میں سے ایک مسلم اینکر نے اپنی گفتگو کا آغاز (السلام علیکم) سے کرکے یہ ثابت کرنا چاہا کہ میں بھی مسلمان ہوں پھر بھی اس کی مخالفت کرتی اور پھر آیت کریمہ 
( ان اللہ مع الصرین) پڑھ کر مولانا کو صبر کرنے کی تلقین  کی، 
پہلے تو صبر و شکر کی تلقین کو سن کر کچھ مسکراہٹ سی آئی لیکن فوراً بڑا تعجب ہوا کہ ایک طرف بجا الزام تراشیاں اور ایک طرف ہم ہی سے صبر کرنے کی تلقین کی جارہی ہے، (صبر کرنے کا کیا مطلب؟ )
صبر کرنے کا مطلب اس سے زیادہ اور کیا ہوسکتا ہے کہ ہم جو کچھ کررہے ہیں سب خاموشی سے قبول کرتے جاؤ ہمارے بیچ میں بولنے کی ضرورت نہیں ہے، ایک طرف سازش اور دوسری طرف صبر کی تلقین یہ تو
 {الٹا چور کوتوال کو ڈانٹنے والی بات ہے}
اس سے بھی شرمناک خبر یہ موصول ہوئی کہ جماعت سے لوٹے لوگوں کی تلاشی کے لئیے  لکھنؤ پولیس آفس سے ضلع سہارنپور کے 20/لوگوں کی لسٹ جاری کی گئی جن کو کرونا وائرس سے متاثر بتایا گیا تو ان میں سولہویں نمبر پر ایک ایسے شخص کا نام شامل تھا جسکے بارے یہ وضاحت کی گئی کہ یہ دارالعلوم دیوبند سے لوٹا اور اس کے اندر کرونا کے اثرات ہیں، لیکن جب سہارنپور کی انتظامیہ نے دارالعلوم دیوبند کے ذمہ داران سے اس شخص کے بارے میں جاننے کی کوشش تو دارالعلوم دیوبند کے ذمہ داران نہ صرف اس کی تردید کی بلکہ کہا کہ یہ شخص پندرہ سال پہلے یہاں سے فراغت حاصل کرچکا ہے اور فی الحال آپنے گھریلو کام کاج میں مصروف ہے، جب یہ خبر دارالعلوم دیوبند کے ذمہ داران کو موصول ہوئی تو مہتمم دارالعلوم دیوبند حضرت مولانا مفتی ابوالقاسم صاحب نعمانی نے سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک سازش کے تحت ضلع کو بدنام کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، 
بلکہ یہ بات بھی سامنے آئی کہ جس شخص کے بارے میں یہ رپورٹ ہے وہ نہ جماعت سے لوٹا اور نہ 22/مارچ سے پہلے کے بعد اپنے گھر سے نکلا ہے، 
اب اس رپورٹ سے بات اور واضح ہوجاتی ہے اس معاملے کو مکمل طور سے مذہب کی نظر دیکھا جارہا ہے اور مسلمانوں کو اس کا ذمہ دار ٹھہرا کر حکومت کی ناکامی کو چھپانے کی کوشش کی جارہی ہے، 
اسی نفرت آمیز ریپوٹنگ  کا نتیجہ ہے کہ ملک بھر سے کئ ایسی خبریں موصول ہو رہی ہیں کہ مسلمانوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، اور طرح طرح کے حالات سے دوچار ہورہے ہیں، 
میں نے شروع میں بھی یہ بات کہی تھی اور پھر کہہ رہا کہ اس کو ایک مہاماری کو ایک خاص طبقہ سے جوڑنے میں میڈیا کا اہم کردار رہا ہے،لیکن اب تک کسی نے ان پر لگانے کی کوشش نہیں کی، 
بلکہ یہ کہوں کہ صرف الیکٹرانک میڈیا کے خلاف جملے بازی ہوتی رہی کہ انکے خلاف کارروائی ہونی چاہیے اور یہ آواز ایک بار نہیں بار بار اٹھائ گئی، جیسے لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات کے نتائج کے وقت اپوزیشن پارٹیاں صرف یہی کہتی رہیں کہ ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے کیونکہ صرف ایک طرفہ خبریں چلائ جارہی ہیں، لیکن آج تک کسی نے اس بات کی ہمت نہیں کی، کہ ان کے خلاف کوئی مثبت قدم اٹھایا جائے، لیکن قربان جاؤں صدر محترم پر جو صرف مسلمانانِ ہند ہی نہیں بلکہ اقلیتی طبقوں کے دلوں کی دھڑکن، مظلوموں اور بے بسوں کے سہارا ہر وقت اور ہر آن قوم و ملت کی خاطر اپنے آپ کو قربان کردینے والی ذات گرامی مرد قلندر (جانشین شیخ الاسلام قائد ملت اسلامیہ حضرت مولانا سید ارشد مدنی صاحب)  "زیدت حسناتکم"  نے وقت کی ایک اہم ضرورت جو بہت سے لوگوں نے سوچا اور بہتوں کے دلوں میں اس کا خیال بھی گزرا ہوگا لیکن کسی نے اس پر عمل درآمد نہیں کیا لیکن (حضرت صدر محترم ) نے سپریم کورٹ آف انڈیا میں میڈیا ٹرائل کے خلاف پیٹیشن داخل کرکے یہ بات ثابت کردی کہ آج بھی اگر کوئی اقلیتی طبقوں کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کرے گا تو اس کے ساتھ جمعیت علماء تن من دھن کے ساتھ ہے، 
حضرت صدر محترم کی سپریم کورٹ آف انڈیا میں اس عرضی کے داخل کرنے کے بعد الحمدللہ (زی نیوز چینل) نے غلط خبر چلانے کی معذرت کرتے معافی مانگی ہے، لیکن حضرت صدر محترم نے کہا کہ معذرت اور معافی مانگنے سے کیا ہوگا، جو نفرتوں کا بازار گرم ہوا ہے اس کا کیا ہوگا؟ جس کی وجہ کئی جگہوں سے میڈیا کے ذریعے پھیلاۓ گیے وائرس کی وجہ سے انتہائی افسوس کن خبریں موصول ہورہی ہیں، 
الحمدللہ ثم الحمدللہ حضرت صدر محترم کے اس اقدام کے بعد اوروں کو بھی حوصلہ ملا اور اپنے اپنے علاقوں میں میڈیا ٹرائل کی زہر افشانی کے خلاف مقدمات درج کرواۓ_

اللہ تعالیٰ اس نازک وقت میں تمام مسلمانوں کی بالخصوص مسلمانانِ ہند کی ہر شرور و فتن سے حفاظت فرمائے نیز کرونا وائرس جیسی مہاماری سے بھی پورے عالم کی حفاظت فرمائے اور میڈیا جیسے خطرناک وائرس سے بھی حفاظت فرمائے ( آمین) 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad