لدھیانہ/مستقیم(یواین اے نیوز 13مارچ2020)این پی آر پر پارلیمنٹ میں ہوم منسٹر سری امت شاہ کی جانب سے دی گئی صافی کافی نہیں ہے اگر مودی حکومت کی نیت واقعی اپنے ملک کی عوام کیلئے صاف ہے تو انہیں چاہئے کہ پارلیمنٹ کے دونون ایوانوں میں این پی آر میں اصلاح کی قرارداد پیش کر کے اسے منظور کریں یہ بات آج یہاں لدھیانہ شاہین باغ کے 31ویں دن مظاہرین کو خطاب کرتے ہوئے مجلس احرار اسلام کے قائد و پنجاب کے نائب شاہی اما م مولانا محمد عثمان رحمانی لدھیانوی نے کہی، نائب شاہی امام نے کہا کہ قانون بنانے والے لگتا ہے قانون کا مطالعہ نہیں کر رہے ہیں این پی آر میں واضع طور پر لکھا ہے کہ آپ کاغذ مانگنے پر انگر نہیں دکھاتے تو آپ سے زبرستی نہیں کی جائیگی لیکن متعلقہ افسر یہ بات رجسٹر میں لکھ دیگا کہ آپ کاغذات پئش نہیں کر سکے اور یہی بات بعد میں این آر سی کا اولین صٹپ ثابت ہوگی، انہوں نے کہا کہ شاہین باغ اندولن ملک کی تمام اقوام کا ندولن ہے اور سبھی لوگ یہ چاہتے ہیں کہ ان کی طرف سے چنی گئی حکومت ان کو ہی شک کی نگاہ سے نہ دیکھے۔
انہوں نے کہا کہ یہ اچھا قدم ہیکہ دیش بھر میں اندولن کے دوران سرکار نے اپنا رویہ تبدیل کرنا شروع کر دیا ہے، اس موقعہ پر نوجوان بھارت سبھا کے جس پریت سنگھ نے کہا کہ سی اے اے میں اگر مودی سرکار انسانیت کی بات کرتی تو ٹھیک تھا لیکن حکومت نے سیاسی فائدے کی بات کی ہے اور یہ پہلی ایسی سرکار ہے جس نے دنیا بھر میں بھارت کی جمہوری ساخ کو زبردست نقصان پہنچایا ہے، انہوں نے کہا کہ شہید بھگت سنگھ نے جس آزادی کی بات کی تھی اس میں این پی آر اور این آر سی کیلئے کوئی جگہ نہیں ہے، انہوں نے کہا کہ بھارت کی جنگ آزدی میں سبھی کا خون شامل ہے یہاں تمام مذاہب کے لوگ پیار و محت اور اخوت سے رہتے ہیں انہیں شرارتی عناصر کی سازشیں توڑ نہیں سکتی ہیں، اس،وقعہ پر پھولیوال مسجد کے صدر حاجی انیس محمد اکرم، حافظ حصیب الرحمن، نوشاد عالم، جے سنگھ صاحبہ نوری ادیبہ خاتون، عاصمہ خاتون، گلشن، محمد مصطفی، عائشہ خاتون، سجاد عالم، جوگندر رائے، ارشاد محمد، نے بھی خطاب کیا ۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں