تازہ ترین

جمعہ، 13 مارچ، 2020

دیوبند:رات بھر خواتین ٹپکتے ہوئے پنڈال میں بیٹھی رہیں:شہریت ترمیمی قانون کے خلاف دھرنا جاری رہا

دیوبند:دانیال خان(یواین اے نیوز 13مارچ2020)شہریت ترمیمی قانون اور مجوزہ این پی آر اور این آر سی کے خلاف متحدہ خواتین کمیٹی کے زیر اہتمام دیوبند کے عیدگاہ میدان میں شاہین باغ کی طرز پر جاری احتجاجی دھرنا آج 47ویں دن میں داخل ہو گیا۔کل دیر شام اچانک سے موسم میں تبدیلی واقع ہوئی،تیز ہواؤں کے ساتھ ہوئی جھما جھم بارش کے سبب سڑکیں پانی سے بھر گئیں،اس دوران احتجاجی کیمپ میں بھی پانی بھر گیا اور برقی سربراہی مسدود ہو گئی ساری رات خواتین ٹپکتے ہوئے پنڈال میں بیٹھی رہیں اور صبح ہوتے ہوتے شامیانے بھی گر گئے۔ والنٹیئر،طلبہ مدارس،شہر کے لوگوں اور منتظمین نے دوبارہ شامیانوں کی ایستاد گی عمل میں لائی اورمیدان میں بھرے پانی کو بالٹیوں اور ٹیوب ویل کی مددسے باہر نکال کر احتجاجی دھرنے کو جاری رکھا۔شام کے وقت جامعہ ہمدرد دہلی کی طالبہ صباء شاداب نے جائے احتجاج پہنچ کر خواتین کے اس احتجاج کو تاریخی اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک کے دستور کو بچانے کے لئے خواتین کا یہ اقدام قابل ستائش ہے،انہوں نے کہا کہ متنازع قوانین کے خلاف ملک بھر میں عوام بلا لحاظ مذہب و ملت احتجاج کر رہے ہیں۔

 لیکن مودی حکومت عوامی جزبات کا احترام کرنے سے قاصر ہے،حکومت قانون کے بارے میں عوامی رائے حاصل کرنے کو تیار نہیں ہے اور حکومت پر تنقید کرنے والوں کے خلاف سنگین دفعات کے تحت مقدمات دائر کئے جا رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ملک کو در پیش مسائل سے توجہ ہٹانے کے لئے متنازعہ قوانین کا سہارا لیا جا رہا ہے، معاشی شعبہ میں حکومت بری طرح ناکام ہو چکی ہے، اسی لئے مذہب کی بنیاد پر عوام کو تقسیم کرنے کے لئے شہریت قانون وضع کیا گیا ہے۔ ارم عثمانی،عذرا خان،زینب عرشی،فوزیہ سرور اورفریحہ ناز نے کہا کہ دستور اور جمہوری اصولوں کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے لیکن افسوس کہ آرایس ایس کے اجینڈے کے مطابق مودی حکومت کام کر کے شہریت ایکٹ کے خلاف مسلمانوں کے احتجاج کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے،حالانکہ یہ قانون غیر دستوری ہے مذہب کی بنیاد پر حکومت کو شہریت دینے کا اختیار نہیں ہے،انہوں نے مزید کہا کہ بی جے پی حکومت نے بابا صاحب امبیڈکر کے بنائے گئے دستور سے چھیڑ چھاڑ کرکے ملک میں موجود کروڑ ہا شیڈیول طبقات کے افراد اور سیکولر ذہن رکھنے و الوں کی دل آزاری کی ہے جو ناقابل معافی ہے۔

 جس کا خمیازہ جلد یا دیر مودی حکومت کو بھگتنا ضرور پڑے گا۔متحدہ خواتین کمیٹی کی صدرآ منہ روشی،اقراء بانوں،شمع پروین،خالدہ خانم اور افشاں قریشی نے کہا کہ آج ہمیں دہشت گرد اور غیر قانونی طریقہ سے ملک میں داخل ہونے والے کہا جا رہا ہے مگر یہ گوڑسے کے ہم درد بھول گئے ہیں کہ ان کی ہی پارٹی کے لال کرشن اڈوانی ہندوستان میں پیدا نہیں ہوئے اور آزادی کے بعد وہ ہندوستان آئے تھے،اسی طرح گجرات کے وزیر اعلی وجئے روپانی بھی نیپال کے بھوٹان میں پیدا ہوئے اور اگر اس ملک سے باہر کرنا ہے تو ایسے لو گوں کو باہر کرنا چاہئے،ہمارے آباو اجداد کی قربانیوں کی گواہ سرزمین ہند کی مٹی ہے،انہوں نے کہا کہ شہریت ایکٹ میں کی جانے والی ترمیم ہمارے آئین کے پورے تصور کے خلاف ہے اس لئے حکومت کو چاہئے کہ وہ ان سیاہ قوانین کو فوری طور پر واپس لے۔دختران ملت نے آج کے اس احتجاج کے دوران اپنی تقاریر،نعروں اور انقلابی شاعری کے ذریعہ سب کو متاثر کیا، دوران تقاریرفضاء میں انقلابی نعرے گونج تے رہے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad