ڈاکٹر محمد عمار قاسمی
حضرت مفتی سلمان منصوری صاحب رکن جمعیة علماء ہند حضرت کی آج ایک تحریر پڑھنے کو ملی پڑھ کر بڑی حیرت ہوئی کی حضرت کے والد محترم اور حضرت کے جمعیة کے جنرل سکریٹری صاحب Npr کے بائکاٹ کی اپیلیں جاری کرہے ہیں اور حضرت موصوف مفید اور مضر میں غوطہ لگا رہے ہیں آج ملک کی موجودہ صورت حال میں ملک کی عوام اور خصوصاً مسلم عوام nrp nrc caa کے تعلق سے اپنے مسقبل اپنی شہریت کو لیکر فکر مند ہے ہر فرد پر شہریت کو ثابت کرنے کی تلوار Npr لٹک رہی ہے Npr کا مرحلہ سر پر آچکا ہے حکومت ہند اپنے خفیہ ایجنڈے کو پورے ملک میں علی اعلان نافذ کا ماسٹر پلان تیار کر چکی ہے خصوصاً صوبہ اتر پردیش جہاں حکومت ہند کا ہر خواب پورا ہونے کے آثار ہیں جو حکومت ہند نے سالوں سے سپنے سجائے ہوئے تھے موجود صورت حال جہاں اس صوبہ میں سب سے زیادہ احتجاج ہونا چاہیے وہیں یہاں ہر طرف اندہیرا ہی اندھیرا ہے جس طرف دیکھو ویرانی ہی نظر آرہی ہے سیاسی اپوزیشن پارٹیاں خصوصاً اکھلیش اور مایاوتی نے تو مانو npr کے متعلق نہ بولنے کی قسم کھالی ہو یا ان پر حکومت ایسا خوف طاری ہوگیا ہو جیسے زبان حرکت کی فائلیں بھی حرکتیں کرنے لگیں ایسے صوبہ میں ہر طرف خاموشی سے ماہوس ہوکر جب عوام نے اپنے ملی رہنماوں کی چوکھٹوں کو کھٹکٹھا یا تو یہا ں بھی اسے مایوسی ہی ہاتھ لگی ان ملی رہنماوں نے ابھی تک کوئی لائحہ عمل تیار کرنے کی فرصت نہ مل سکی ملی قائدیں بھی مودی اور امت شاہ کی راہ پر چلتے ہوئے عوام کو الگ الگ بیان جاری کرتی ہے کوئی علی اعلان بائکاٹ کا فرمان جاری کرتا ہے توکوئی بائکاٹ کرنے اور سپورٹ دونوں کی رسی کو تھامنے کا مشورہ دیتا ہے آج جب حضرت کی تحریر نظر سے گزری اور جن خدشات کی طرف نشاندہی کی گئی اور پھر اسکے دفعیہ کے لئے ملی قائدین کے پاس کیا لائحہ عمل ہے؟ یہ تحریر پڑھکر آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا کہ صاحب تحریر خود ہندوستان کی سب سے قدیم جمعیة کے ورکنگ کمیٹی کے رکن ہیں ایک قدیم ادارہ کے علیا کے استاذ ہیں اور وہ یہ سوال کررہے ہیں کہ لائحہ عمل کیاہے ؟
حضرت آپ نے جن خدشات کو ظاہر کیا ہے یہ خدشات عوام کے ذہنوں میں مسلسل گردش کرہے ہیں اور عوام آپ قائدین سے امید لگائے بیٹھی تھی آپ حضرات اسکا کوئی حل نکالینگے مگر افسوس عوام کو ہی اسکا حل تلاش کرنا ہوگا حضرت آپ کن قائدین کو تلاش کرہے ہیں ایک قدم آگے بڑھیے تو آپ کو امیر الھند مل جائینگے دوسرے قدم پہ یوپی جمعیة کے صدر محترم مل جائنگے کچھ اور قدم بڑھائنگے تو آپ کو جنرل سکریٹری صاحب اور ہم سب کے قائد محترم صدر جمعیة الف سے ملاقات ہوسکتی ہے ان سبھی سوالوں کے جوابات اگر ان حضرات کے در پہ نہ مل سکیں تو کہا ں ملیگا؟ حضرت ماضی میں جب کبھی قوم کے قوم اوپر کسی بھی طرح کاخطرہ منڈرایا سب سے پہلی آواز اگر کسی تنظیم نے اٹھائی تو وہ یہی جمعیة اور انکے قائدین نے مشکل سے مشکل مسائل کو اپنے حوصلے سے پست کردیا جمعیة ہندوستان کی واحد تنظیم جسکا ماضی آب زر سے لکھے جانے کے قابل ہے اسکی سو سالہ تاریخ میں آج جیسی حالت سے کبھی نہیں گزرنا پڑا امت مسلمہ جمعة پر آس لگائے بیٹھی تھی کہ ہمارے پاس جمعیة ہے جو کسی بھی طوفان کو ختم کرنے کا حوصلہ رکھتی ہے مگر ہائے افسوس آج جب امت کا فرد جمعیة کی راہ دیکھتے دیکھتے مایوسی کے دلدل میں جا پھنسا آج وقت کا تقاضہ تو یہ تھا جمعیة میدان عمل میں اپنے لاکھوں ممبروں کو لیکر گلی گلی اترتی اور لوگوں کو حوصلہ دیتی اس مشکل وقت میں عوام کے ساتھ کھڑی ہو تی اور حکومت ہند کو اپنا واضح موقف سناتی اپوزیشن پارٹیوں کو دو ٹوک فیصلہ سناتی کہ اگر آج آپ ہمارے سا تھ نہیں تو کل بھی آپ کے ساتھ نہیں مگر ایسانہ ہو سکا وقت ابھی بھی ہے جب جاگو تب سویرا گستاخی معاف آپ سب ہمارے سروں کے تاج ہیں آپ حضرات کل ہمارے تھے آج بھی ہمارے ہیں اور انشاء اللہ آگے بھی رہینگے مگر موجودہ وقت میں جو ہمارے قائدین کا کردار رہاہے وہ بہت سارے لوگوں کو لکھنے تبصرہ اور تنقید پر مجبور کرتی ہے خصوصاً ایسے ماحول میں جب شہریت چھننے اور ڈٹنشن کیمپ آنکھوں کے سامنے دکھ رہے ہوں تو ایسے ماحول میں اگر مگر تحریرں صرف عوام کا حوصلہ توڑ سکتی ہے حوصلہ دے نہیں سکتی

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں