دیوبند:دانیال خان(یواین اے نیوز یکم مارچ2020)قومی شہریت ترمیمی قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف دیوبند کے عیدگاہ میدان میں جاری خواتین کے مظاہرے کو آج 35دن مکمل ہوگئے ہیں اس دوران یہاں کی خاتون مظاہرین کو اس مظاہرہ کو جاری رکھنے کے لئے سخت آزمائشوںکے ساتھ ساتھ پولیس کا دھرنا ختم کرنے کا دباؤ، فرضی مقدمات اورموسم کی بے رخی کا بھی سامنابھی کرنا پڑا لیکن خواتین جمہوریت اور سیکولرازم کو بچانے کے لئے ہر امتحان سے سرخرو ہوکر نکلیں۔دیوبند کی خواتین نے گزشتہ27 جنوری سے خانقاہ پولیس چوکی سے صرف 100میٹر کے فاصلے پردیوبند کے تاریخی عیدگاہ میدان میں اپنادن رات کا مظاہرہ شروع کیا تھاجو آج بھی جاری ہے اس مظاہرے کی حمایت کرنے کے لئے سیاسی و سماجی تنظیموں کے لیڈران کے علاوہ جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی،علیگڑھ مسلم یونیورسٹی،درشٹی کالج دہلی اور جے این یو کے طلبہ طالبات مسلسل آتے رہے ہیں۔
اورشہر کے لوگ آپس میں چندہ جمع کر کے مظاہرین کے لئے کھانے اور ناشتہ کا انتظام کررہے ہیں۔ مظاہرہ کی خاص بات یہ بھی ہے کہ یہ کسی منظم کے بغیر ہے، اس کے پیچھے کوئی تنظیم نہیں ہے اور نہ ہی کوئی سیاسی پارٹی ہے۔ اس کے باوجود یہاں کسی چیز کی کمی نہیں ہے۔ کوئی پانی کی بوتلیں لیکر آتا ہے تو کوئی برگر لیکر آتا ہے تو کوئی کھانے کی کوئی اور چیز، اس کے علاوہ بھی بڑے بڑے تھرمس میں شہر کے لوگ چائے بناکر لاتے ہیں اور مظاہرین میں تقسیم کرتے ہیں۔ کوئی انڈا تقسیم کرتا ہے، کوئی بسکٹ لیکر آتا ہے تو کوئی گھر سے بریانی کے پیکٹ لیکرآ تا ہے۔خواتین کے اس غیر معینہ دھرنے میں پڑھی لکھی اور ان پڑھ خواتین کے ساتھ کم عمر بچیاں اور طالبات بھی حصہ لے رہی ہیں،اتنا ہی نہیں اس مظاہرے میں 2ماہ کے بچہ سے لے کر 90 سالہ خواتین بھی شریک ہو رہی ہیں۔ سب کا کہنا ہے کہ ہم آئین کو بچانے کے لئے آئے ہیں۔ جوں جوں رات جوان ہوتی ہیں۔
خواتین اور دیگر مظاہرین کی تعداد بڑھتی جاتی ہے۔ خاتون مظاہرین کا کہنا ہے کہ بات صرف مسلمانوں کی نہیں ہے بلکہ اس ملک کے اتحاد و سالمیت کی ہے جسے ہم کسی قیمت پر نقصان نہیں پہنچنے دیں گے۔خواتین کا یہ بھی کہنا ہے کہ حکومت آتی جاتی رہتی ہے لیکن یہ ملک ہمیشہ رہے گا اور ہم اس ملک کی مشترکہ تہذیب اور ساجھی وارثت کو کسی صورت میں بھی ختم نہیں ہونے دیں گے، کیونکہ اس حکومت کی یہی منشا ہے۔ جو لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ قانون صرف مسلمانوں کو پریشان کرے گا وہ اپنی غلط فہمی دور کرلیں۔منتظمہ کمیٹی میں شامل سلمہ احسن،فریحہ عثمانی،عذرا خان اور ارم عثمانی نے مظاہرے کو ظلم و جبر اور آئین کے حق میں جنگ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کا یہ قانون زیادہ دنوں تک برقرار نہیں پائے گاجس طرح جی ایس ٹی اور دیگر قوانین میں بی جے پی کو ترمیم کرنی پڑی ہے اس طرح اس قانون میں بھی ترمیم ضرورہوگی۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں