تازہ ترین

اتوار، 29 مارچ، 2020

آہ یہ کیسی حکومت!

مفتی عبدالقادر خالد (حسامی)استاذ ادارہ اشرف العلوم (ٹرسٹ) حیدرآباد
۲۴مارچ شا م۷ بجےہمارےملک کے وزیرآ عظم ٹی وی پر آتے ہیں اور covid_19سے ملک کی حفاظت کیلئے ۲۱ دن تک سارے ملک میں تالہ بندی کااعلان کرتے ہیں،پبلک ٹرانسپورٹ مکمل طورپربند کردیا جاتاہے،جس کے نتیجے میں ملک تھم گیا ،جو جہاں تھا وہ وہی کا ہوگیا نہ وہ پیچھے جاسکتا ہے نہ آگےاس اعلان کے بعد ملک میں مختلف جگہوں سے اپنے علاقے سے باہرکسی جگہ ضرورت سے گئے لوگوں کے مختلف نظارے دیکھنے میں آنے لگے کو ئی بھوکا پیاسا بس اسٹاپ پر ہے کوئی راستے ہی میں بستر ڈالے اپنے گھر جانے کے لئے بے چین ہے لیکن حیرت کی انتہاء نہیں رہی جب ملک کے نامورٹی وی چینلوں نےدہلی اور اترپردیش کی سرحدکا نظارہ پیش کیا کہ 10000(دس ہزار) سے زائد مزدورجن میں کئی مزدور بچوں اور گھریلو سامان کے ساتھ ہے ۲۰۰ ،۳۰۰ کلومیٹر دور اپنے گھر کی طرف پیدل جارہے ہیں ،جن کے چہرہ بھوک سے مرجھائے ہوئے ہیں ، اس کے دیکھنے کے بعد آنکھیں نم دل مغموم اور ذہن حیران ہے کہ کیا کوئی حکومت ایسی بھی ہوتی ہےجو اپنے ملک کے غریب بے گھر روزانہ مزدوری کرنے والوں کے متعلق غور کئے بغیر اتنا بڑا فیصلہ لے لے ،اور تو اور جب ٹی وی چینل پر یہ خبر چل رہی ہےاسی وقت ملک کےوزیر اطلاعات ونشریات پرکاش جاویڈکرشوشل میڈیا پر گھر میں رامائن سیریل دیکھتے ہوئے اپنی تصویر ارسال کرتے ہیں۔

آخر یہ کیسی حکومت ہیکہ جس کا نعرہ ـ’’سب کاساتھ سب کاوکاس ہے ‘‘،لیکن اپنے کسی بھی فیصلہ میں حکومت سب کاساتھ نبھاتے ہوئے نظر نہیں آتی بلکہ اس حکومت کے اکثرفیصلے ملک کے اکثر عوام کے خلاف ہی ہے ،جبکہ ہمارے ملک کی جمہوریت دنیاکی عظیم جمہوریت مانی جاتی ہے، جس جمہوریت کی تعریف میں ابراہم لنکن نے ’’عو ام کی حکومت عوام کے ذریعے عوام کیلئے‘‘کہا تھا اس جمہوریت کا دعوی کرنے والی حکومت ۲۱ دن پوری ملک میں تالہ بندی کا اعلان کرتی ہے لیکن اس کےپاس اپنے ملک کے بےبس ولاچار غریب مزدوروں کے تعلق سے کوئی منصوبہ نہیں ہوتا ،تالہ بندی ہورہی ہے ملک میں سماجی دوری بنانے کیلئے ادھر حال یہ ہیکہ ۱۰۰۰۰ لوگوں کا مجموعہ کندھے سے کندھا لگائے ایک دوسرے کو دھکا دئے اپنی منزل کی طرف جارہاہے، ایک طرف ملک کروناجیسی بیماری سے بچنے کیلئے گھروںمیںبند ہیں وہیں دوسری طرف بیچارے غریب مزدور اپنی روزی روٹی کے بند ہونے سے پریشان بھوکے موذی وباءسے بے خبر شدید دھوپ میں اپنے گھروں کو پہنچنے کیلئے بے چین ہیں، انہیں اس کی بھی فکر نہیں کہ گھر پہنچیں گے یابھوک سے راستے ہی میں دم توڑدیں گے۔کیا ان حکمرانوں کے سینے میں موجود دل میں کچھ بھی نرمی باقی نہیں ہے،ان کو اپنے ناک کے نیچےاتنے لوگوں کوبے چین ہوتاہوادیکھنے کےبعدبھی کیسے چین کی نیندآجاتی ہے ،یہ کیسے لوگ ہے کہ انسانوں کا سمندر بے چین ہے اوران لوگوں کو کوئی فکر نہیں تاریخ میں کئی حکمراں آئے اور چلے گئےلیکن جس حاکم یا حکومت نے عوام سے بے پرواہ ہوکر اپنی حکومت کو چلایا ،اس کا دور تاریخ میں سیاہ دور سے ہی یاد کیاجاتا ہے چاہے حال میں اس کی کتنی بھی تعریف کیوں نہ کی جائے،مودی سرکار کوسمجھنا چاہئے کہ انسانیت کی ضروریات سے کھیلنا بہت خطرناک ہوسکتا ہے، مفادعامہ کا خیال کئے بغیر کئے گئے فیصلوں کے نتائج انسانیت کو بہت نقصان پہنچاتے ہیں ،بھوکا ،پیاسا انسان مذہب اور خواہشات سب کچھ بھول جاتاہے وہ صرف بھوک مٹانے کی کوشش کرتا ہے ،انسان مرجائیگالیکن اپنی زندگی میں اپنی اولاد کو بھوکا مرتاہوادیکھنابرداشت نہیں کریگا،اگر کسی ملک میں ایسے بھوکے پیاسے لوگ بہت ہوجائیں تو پھر ملک کی صورتحال بھیانک ہوجاتی ہے،حکومت حاصل کر لینا آسان ہے لیکن حکومت چلانا بڑی ذمہ داری کا کام ہے،ملک کوئی کھلونا نہیں ہے کہ جیسے چاہے اسے چابی دے اور یہ چلتا رہے،مودی سرکار کو ابھی بھی وقت ہیکہ وہ ملک کی بگڑی ہوئی صورتحال کو سدھارنے کی فکر کرے چاہے اس کیلئے مخالف جماعتوں سے ہی مدد کیوں نہ لینی پڑے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad