دارالعلوم نسواں دیوبند میں منعقدسالانہ جلسہ تقسیم انعامات اور مظاہرہئ خطابت سے معلمات کا خطاب
دیوبند(یواین اے نیوز11مارچ2020)تعلیم نسواں کی مرکزی درسگاہ دارالعلوم نسواں دیوبندکے زیر اہتمام سالانہ جلسہ تقسیم انعامات اور مظاہرہئ خطابت کا انعقاد کیا گیا۔جس کی صدارت دارالعلوم نسواں دیوبند کی پرنسپل بریرہ لطیف نے کی ،پروگرام کا آغاز فردوس آس محمد کی تلاوت اور شاذیہ یونس کی نعت پاک سے ہوا۔ نظامت کے فرائض دورہئ حدیث کی طالبہ منتشاء رضوان نے انجام دیے ۔گذشتہ سال سالانہ امتحان میں کامیاب ہونے والی طالبات کو معلمات کے ہاتھوں سے رپورٹ کارڈ گرانقدر کتابی اور نقد انعامات تقسیم کئے گئے، اس موقع پر دارالعلوم نسواں کی پرنسپل بریرہ لطیف نے طالبات سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ضروری علوم کے حصول کے ساتھ خطابت وصحافت سے وابستگی بھی طالبات کے لئے ضروری ہے۔کیوں کہ دین اسلام کی تبلیغ واشاعت میں یہ دونوں ہی فنون انتہائی موـثر اور مفید ثابت ہوتے ہیں۔انہوں نے سالانہ امتحان اور مسابقہ خطابت میں پوزیشن حاصل کرنے والی طالبات کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہاکہ آپ کا وقت بہت قیمتی ہے، اللہ نے آپ کو دینی تعلیم کے لئے منتخب کیا یہ آپ کیلئے بڑی سعادت ہے۔آپ اس نعمت کی قدر کریں۔
دارالعلوم نسواںکی معلمہ گلفشاں خان نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اسلام کی تعلیمات کو سنجیدگی کے ساتھ اپنی زندگیوں میں لانا ہوگااورملک میں مسلمانوں کے روشن اور تابناک مستقبل کے لئے ٹھوس لائحہ عمل بنانا ہوگا، انہوں نے کہا کہ ملک کے موجودہ حالات مسلمانوں کےلئے ایک سخت آزمائش ہیں، ہمیں اپنی تعلیمی ،تربیتی اور اخلاقی حیثیت کو مضبوط کرناہے۔اس موقع پرادارے کی معلمہ عجوبہ ناظر نے کہا کہ جو علم مفید ہو اسے حاصل کرنا مرد وعورت پر ضروری ہے۔ہمیں نئے عہد کے نئے چیلنجوں کا سامنا کرناہے،اور اس کے لئے ہمیں عہد حاضر کے جدید علوم میں بھی دسترس حاصل کرنی چاہئے۔معلمہ خوش نصیب یوسف نے طالبات سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ ایک کارخانہ ہے جہاں آپ کی شخصیت کو تراش کر اس قابل بنایا جاتاہے کہ آپ معاشرے کی اصلاح کا فریضہ انجام دے سکیں۔
عالمہ سعدیہ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ بیش قیمت کتابیں جو آپ کو انعام کی شکل میں دی گئی ہیں انہیں صرف الماریوں کی زینت نہ بنائیں بلکہ ان کا مطالعہ کرکے ان پر عمل بھی کریں۔قبل ازیں طالبات نے مظاہرہئ خطابت میں مختلف عناوین پر تقاریر پیش کیں۔ پروگرام پیش کرنے والی طالبات میںعائشہ شاہرین، ارجینا مقبول،ارم دین محمد،تبسم اسلام، ثمرین خلیل،زینت فیض، رہنما جمیل، سمیہ عبدالواجد،صبائ، مصباح عبدالرحمن،تنظیم احسان،عائشہ اسلام، عرشی شاہرین، مہوش واجد،مسکان اعجاز،کاشفہ ناظر،شمع یوسف، نیشا تصور،کلثوم عبدالقیوم،صبیحہ عمران، آفرین فرمان،نازیہ انتظار،ثناء عارف ،شمع تصور،ثانیہ شاہنواز، علمہ طیب،منتشاء غیور، سدرہ خورشید،اسماء کرامت، سمیہ مبین وغیرہ کے نام قابل ذکرہیں۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں