تازہ ترین

ہفتہ، 21 مارچ، 2020

عیدگاہ میدان میں جاری خواتین کا دھرنا 55ویں دن میں داخل

دیوبند:دانیال خان(یواین اے نیوز21مارچ2020)ِشہریت ترمیمی قانون اور مجوزہ این پی آر اور این آر سی کے خلاف متحدہ خواتین کمیٹی کے زیر اہتمام دیوبند کے عیدگاہ میدان میں جاری غیر معینہ دھرنا آج55ویں دن میں داخل ضرور ہو گیاہے لیکن خواتین کے حوصلوں میںآج بھی وہی تازگی اور جزبہ بنا ہوا ہے جو احتجاج کے پہلے دن تھا خواتین کے جوش میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔حسب روایت احتجاج گاہ میں تلاوت قرآن ہوئی،آئین کی تمہید پڑھی گئی اور بارگاہ رسالت میں نزرانہ عقیدت پیش کیا گیا۔بعد ازاں ایک طالبہ شفاء مریم نے فیض احمد فیض کی نظم ہم دیکھیں گیں اور علامہ اقبال کا ترانہ سارے جہاں سے اچھا سناکر ماحول کو انقلابی کر تے ہوئے لکھنؤ گھنٹہ گھر پر پر امن مظاہرہ کر رہی خواتین پر پولیس کارروائی کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔منتظمہ کمیٹی میں شامل فوزیہ سرور، زینب عرشی،فریحہ عثمانی اور ارم عثمانی نے کہا کہ مردم شماری کے اعداد وشمار خفیہ ہوتے ہیں لیکن این پی آر کے ذریعے جمع کیا جانے والا ڈیٹا منتقل کیا جاسکتا ہے۔ اسے کسی کے ساتھ بھی شیئر کیا جاسکتا ہے جس سے ہماری پرائیویسی کو خطرہ ہوسکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ این آرسی آسام کا پرانا مسئلہ ہے۔ 1971 میں مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان کے درمیان جنگ ہوئی تھی جس کے بعدآسامی لوگوں کا کہناتھاکہ بہت سارے بنگلہ دیشی آسام آگئے ہیں۔ آسام کی ایک تنظیم آسو نے تحریک چھیڑ دی اور راجیوگاندھی حکومت نے 1986 میں آسام اکارڈ پر معاہدہ کیا۔اس کے بعد انتہاء پسند لیڈورں اور بی جے پی کے رہنماؤں نے اسے ہندومسلم کا مسئلہ بنادیا جبکہ شروع میں یہ آسامی غیر آسامی کا مسئلہ تھا۔سلمہ احسن،آمنہ روشی،فوزیہ عثمانی اور عرشی شیخ نے کہا کہ جب سے حکومت نے سی اے اے کو منظو ری دی ہے تب سے بی جے پی حکومت والی ریاستوں کو اپنے صوبے میں این آرسی کرانے کا شوق بھی سوار ہونے لگا ہے۔ ہریانہ،یوپی سمیت کئی ریاستوں کے وزرائے اعلی نے اعلان کیاہے کہ ہم اپنے یہاں این آرسی کرائیں گے۔ ملک کے وزیر داخلہ امت شاہ پورے ملک میں این آرسی کرانے کی بات کررہے ہیں،ان کا کہناہے کہ دنیا کے ہر ملک میں تمام شہریوں کی تفصیلات لی جاتی ہے پھر ہندوستان میں ایسا کیوں نہیں ہوگا۔ مرکزی حکومت نے2021 میں مردم شماری کا اعلان بھی کر دیاہے۔

دوسری طرف آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت نے اعلان کیا ہے این آرسی سے ہندوؤں کو گھبرانے کی ضرروت نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ امت شاہ کا بیان،بی جے پی کے ریاستی وزراء کا اعلان اور موہن بھاگوت کا اسٹیٹ منٹ مسلمانوں کو خوف زدہ کرانے،ڈرانے اور دہشت میں مبتلا کرنے کی سازش کا حصہ ہے۔فہمیدہ بیگم،شبانہ خان،درخشاں،بے بی قریشی،نغمہ انصاری اور کہکشاں گوڑ نے کہا کہ حکومت کورونا وائرس کے پیش نظر ہمارے احتجاج کو ختم کرانا چاہ رہی ہے،اگر حکومت کو ملک کی عوام کی اتنی ہی فکر ہے تو وہ کیوں این پی آر کی تاریخ کو آگے نہیں بڑھا رہی ہے،انہوں نے کہا کہ جب اسکول کالج بند کرائے جا سکتے ہیں اور عوامی کرفیوں لگایا جا سکتا ہے تو متنازع قوانین بھی واپس ہو سکتے ہیں۔اس دوران خواتین سیاہ قوانین وپس لو،ہٹلر شاہی نہیں چلے گی،انقلاب زندہ آباد اور ہندوستان زندہ آباد جیسے فلک شگاف نعرے لگاکر با آواز بلند کہتی رہی کہ جب تک متنازع سیاہ قانون واپس نہیں ہوں گے تب تک ہماری لڑائی جاری رہے گی۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad