تازہ ترین

ہفتہ، 29 فروری، 2020

سوشل میڈیا پر مسلمانوں کے لئے ایک نئی آفت،قرآن مجید میں بال نکلنے پر لوگوں میں توہم پرستی میں اضافہ!

چاند پور/محمد شاہد(یواین اے نیوز 29فروری2020) کئی دنوں سے سوشل میڈیا پر مسلمانوں میں قرآن مجید میں سے بال نکلنے کی خوب بحث چل رہی ہے،بعضوں کا خیال ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بال مبارک ہیں،اس لئے وہ لوگ اس کو عطر لگا کر رکھ رہے ہیں ،کہیں پراس پر درود خوانی ہورہی ہے ،اس کی زیارت کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے،بعض کہتے ہیں کہ یہ کسی بزرگ کی کرامت ہے،لہذا اس کی تعظیم ضروری ہے ،چاند پور علاقہ میں اسوقت بحث گرم ہو گئی جب ایک مفتی صاحب نے جب وہاٹس اپ پر ایک اپنی آڈیو جاری کردی کہ جسمیں انہوں کہا کہ جو بال قرآن شریف سے متصل والے ہو گئے ہیں برکت والے ہو گئے ہیں ان بالوں کومرد اور خواتین اپنے سروں میں رکھ لیں اور ٹوپی و دوپٹہ اوڑھ لیں ، اور نمازوں کا اہتمام کریں ، جب مذکورہ معاملہ میں اس نمائندہ نے جب اس کی سچائی جاننے لئے علمائے کرام سے رابطہ کیا تو اس معاملہ میں جامعہ شاہ عبد اللہ کے مہتمم مفتی شکیل قاسمی سابق امام جامع مسجد چاند پور نے کہا کہ کو ئی جگہ بالوں سے خالی نہیں ہے،سر کے بھنوو ں کے۔

مونچھ کے ڈاڑھی اور بدن کے ہزاروں لاکھوں بالوں میں سے نہ معلوم روز کتنے بال گرتے ،ٹوٹتے ہیں، منڈوائے اور کتروائے جاتے ہیں وہ ہوا میں اڑکر ادھر ادھر گر جاتے ہیں،قرآن شریف برسوں سے پڑھے جاتے ہیں اور گھنٹوں کھلے رہتے ہیں ان میں گھر میں گرے ہوئے بال ہوا سے اڑکر اور پڑھنے والے کے سر کے بال کھجلانے سے ٹوٹ کر گر جاتے ہیں اور برسوں اوراق کی تہہ میں دبے رہتے ہیں پس اگر تلاش کرنے کے بعد کوئی بال مل جائے تو اس میں حیرت کی کیا بات ہے بلکہ استعمال شدہ قرآنوں میں بال کا نکلنا حیرت ناک ہے،قرآن مجید سے نکلے ہوئے بالوں کو پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک بال سمجھ لینا،ان پر درود خوانی کرنا ،ان کی زیارت کرنا ،کروانا ایمان کھونے جیسی حرکت ہے اور اسے کرامت سمجھنا بھی جہالت ہے ،ہر حیرت کی بات کرامت نہیں ہوتی بلکہ استدراج اور شیطانی حرکت بھی ہوسکتی ہے،اور ہر ایک تعجب خیز چیز کو کرامت سمجھ لینا یہ گمراہی کی علامت ہے دجال کے کرشمے بڑے تعجب خیز ہونگے ،مردوں کو زندہ کرنے کا کرشمہ دکھائے گا،اس کے ساتھ اس کی جنت اور دوزخ بھی ہوگی ،جو اس کو مانے گا اس کو جنت میں اور نہ ماننے والوں کو دوزخ میں ڈالے گا ،سخت قحط سالی کے زمانے میں اپنے ماننے والوں کو غلہ اور بارش سے سیراب کریگا،ایسے حالات میں آجکل کے بال پرست اور ضعیف العقیدہ لوگ اپنا ایمان کیونکر محفوظ کر سکیں گے۔

 مفتی عباس قاسمی، مفتی عدنان قاسمی نے کہا کہ یہ جہالت ہے اور مفتی صاحب نے جوبات کہی ہے وہ نہایت غلط ہے ایسے جید عالم کو ایسی بات نہیں کہنی چاہئے تھی بلا تحقیق کے مسئلہ بیان نہیں کرنا چاہیے اگر مفتی صاحب نے ایسا کہا ہے تو ان کو چاہئے کہ اس سے رجوع کر لیں ۔ مولانا جابر مظاہری نے کہا کہ قرآن شریف اللہ کا قانون ہے یہ ایک کامل اور بہترین دستور العمل ہے اس میں بھلائی اور ہدایت کا راستہ تلاش کرنا چاہئیے جسے اختیار کرکے دین اور دنیا کی بھلائی حاصل کرسکتے ہیں،مگر کتنے افسوس کی بات ہے کہ آج ہم نیکی اور ہدایت کے راستہ کہ تلاش چھوڑ کر قرآن شریف میں بالوں کو تلاش کرنے لگے ہیں اور اگر اتفاق سے کوئی بال نکل آتا ہے تو اس کی پرستش میں لگ جاتے ہیں (معاذ اللہ)کتنے افسوس کامقام ہے ۔مولانا آصف قاسمی نے کہا کہ ہمارے ملک میں یہ کسی نے افواہ پھیلائی ہے کہ قرآن میں بال نکل رہیں،،اور یہ غیروں کی چال بھی ہوسکتی ہے کہ مسلمان اس جانب لگ جائیں اور وہ اپنے مشن میں کامیاب ہوجائیں، اس افواہ پر توجہ نہ دیں یہ محض ایک عقیدہ خراب کرنے والی بات ہے جس کا ہمارے ایمان سے کوئی تعلق نہیں ہے اللہ ہم سب کو نیکی کی توفیق عنایت فرمائے۔

 مفتی سالم قاسمی چاند پوری نے یہ مفتی عبد القادر صاحب کی احمقانہ گفتگو ہے ، انھونے کہاں سے ثابت کیا ہے کہ ان بالوں کو سر میں لگاو ¿،ارے بھائی انکو دفن کرنے حکم دونہ کہ سر میں لگانے کااور فتنہ کا دروازہ مت کھولو۔اس کا مطلب یہ ہوا توجودھول اور گردوغبار قرآن سے لگ جاتا ہے اسکو بجائے کپڑے سے جھاڑنے کے اسکو چاٹ لینا چاہیے۔اور جوبال کھانا کھاتے وقت کبھی روٹی میں آجاتے ہیں انکا کیا کریں یا پانی پیتے وقت گلاس میں آجاتے ہیں انکا کیا کریں یا جو بال صبح بیدار ہوتے وقت تکیہ پر ملتے ہیں انکا کیا کریں یہ حماقت ہے اس کے علاوہ کچھ نہیں شریعت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے ۔ ایسی افواہوں پر کوئی دھیان نہ دیکر مسلمان نماز کی پابندی کریں اسی میں نجات ہے ۔ ادھر معلوم ہوا ہے کہ مفتی صاحب نے اس سے رجوع کر لیا ہے ،لیکن ابھی تک ان کی جانب سے کوئی بیان ، آڈیو ، ویڈیوشوشل میڈیا پر نہیں ڈالی گئی ہے ،۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad