دیوبند۔دانیال خان۔(یو این اے نیوز 21فروری 2020) , اسلام کی تعلیمات کا آغاز وحی الہی کے ذریعہ اقرا یعنی علم کی اہمیت سے ہوا۔انسانوں کی تعمیر میں علم نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے،دینوی علوم کے ساتھ ساتھ دینی علوم کا حصول اشد
ضروری ہے۔تمام علوم میں وہ علم بہتر ہے جس سے رب کی یاد تازہ ہوتی ہے۔
ان خیالات کا اظہارمدرسہ اسلامیہ اصغریہ دیوبند کے مہتمم مولانا سید جمیل حسین نے ایک اصلاحی وتربیتی مجلس میں طلبہ سے دوران خطاب کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ مغربی نظام تعلیم کی بنیاد پر فروغ دی جانے والی بے لگام آزادی کی روک تھام کے لئے اسلامی تعلیمات کا فروغ ضروری ہے،انہوں نے کہا کہ قرآن وحدیث کے بہت سے حوالے ایسے ہیں جس پر عمل کرکے مسلمانوں کو پستی سے باہر نکالا جاسکتاہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کے زوال وانحطاط کا علاج بلاشبہ قرآن وحدیث میں موجود ہے۔ انہوں نے اپنے خطاب میں اسلامی تعلیمات کی اہمیت جتاتے ہوئے کہا کہ اسلام امن پسند مذہب ہے اور وہ کسی بھی طرح کی ظلم وزیادتی کو پسند نہیں کرتا۔
مولانا نے کہا کہ اسلام کے بارے میں غلط فہمیاں پھیلائی جارہی ہیں جس کے ازالہ کی کوشش کی جانی چاہئے۔ادارہ کے نائب مہتمم مولانا تجمل حسین نے عالم اسلام اور مسلمانوں کی پسپائی وزبوں حالی کے اسباب قرآن وحدیث کی روشنی میں بیان کئے اور بتایا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشین گوئی ہے کہ ایک وقت ایسا آئے گا جب مسلمان بڑی تعداد میں ہونے کے باوجود بے قدر ہوجائیں گے، سمندر کی سطح پر بہنے والے کثیر فضلے، کچرے اور کباڑ کی مانند بے اثر اور بے اختیار ہوجائیں گے، اگرچہ ان کی تعداد بہت زیادہ ہوگی لیکن ان کی حیثیت کچھ نہ ہوگی، اس وقت یہی صورت حال ہے، مسلمانوں کے مقابلے میں تمام مذہبی اقوام متحد ہیں وہ باہم متصادم بھی ہیں تو مسلمانوں کے خلاف ہر طرح یکجہتی کا ثبوت دیتی ہیں، اس کا علاج بھی قرآن وحدیث کی روشنی میں ملتا ہے۔مولانا سید جمیل حسین کی دعاء پر مجلس کا اختتام ہوا۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں