دیوبند۔دانیال خان۔(یو این اے نیوز 21فروری 2020) متحدہ خواتین کمیٹی کے زیر اہتمام دیوبند کے عیدگاہ میدان میں جاری خواتین کا غیر معینہ دھرنا آج 25ویں دن میں داخل ہو گیا مگر خواتین نے ہمت نہیں ہاری ہے اوار انکا حوصلہ برقرار ہے،ہر طرف سے انکی پزیرائی بھی ہو رہی ہے اور سماجی و سیاسی تنظیموں کے افراد بڑی تعداد میں دھرنا گاہ پہنچ کر خواتین کے ستیہ گرہ کو اپنی حمایت کا اعلان بھی کر رہے ہیں،خواتین بھی علاقہ کی عوام سے مل رہی حمایت سے خوش ہیں اور دوگنے جوش کے ساتھ آئین مخالف قوانین کی مخالفت میں سراپا احتجاج ہیں۔
دھرنا گاہ کے اسٹیج سے خطاب کرتے ہوئے متحدہ خواتین کمیٹی کی صدر آمنہ روشی نے کہا کہ بی جے پی کے دور اقتدار میں ملک ترقی کے بجائے تنزلی کی بڑی تیزی کے ساتھ بڑھ رہا ہے اگر اس وقت بھی ملک کے حکمران غیر واضح اور ملک کو توڑنے والی پالیسیوں سے اگر اجتناب نہیں کرتے ہیں تو وہ دن دور نہیں جب عوام خود آگے بڑھ کر ایسی حکمرانوں کو اقتدار سے بے دخل کر دیں گے۔انہوں نے کہا کہ جس طرح سے شہریت ترمیمی ایکٹ کو حکومت کی جانب سے جائز ٹھرایا جا رہا ہے وہ کسی بھی صورت میں ٹھیک نہیں ہے کیونکہ بی جے پی حکومت کو متنازع قوانین لیکر آئی ہے انکے مطابق وی دی پیپل آف انڈیا (ہم انڈیا کے شہری) میں اب مسلمان 'دی پیپل آف انڈیا‘ کا باوقار حصہ نہیں ہیں۔
اس کا دوسرا حصہ جو پوشیدہ ہے اور وہ شہریت ہے اس میں بنیادی طور پر تبدیلی آ گئی ہے وہ عوام سے ہٹ کر مذہب پر لائی گئی ہے اور ایک نئے طرح کا بائنری (دہرا پن) لایا گیا ہے جس میں اسلام بمقابلہ دیگر مذاہب کر دیا گیا ہے۔فوزیہ سرور،ارم عثمانی،زینب عرشی اور عذرا خان نے کہا کہ شہریت ترمیمی ایکٹ کے نافذ ہونے کے بعد مسلمان یہاں کے شہری نہیں بلکہ سبجیکٹ ہوں گے اور ایسے میں انڈیا کے آئین اور قوانین میں جو شہریوں کو حقوق حاصل ہیں وہ انھیں حاصل نہیں ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ یہ دھرنا آئین بچانے کے لئے شروع کیا گیاہے اور جب تک حکومت شہریت ترمیمی ایکٹ اور این آرسی کو واپس نہیں لے لیتی ان کا دھرنا جاری رہے گا۔انہوں نے بی جے پی حکومت کو نااہل حکومت قرار دیتے ہوئے کہا کہ متنازع شہریت کا قانون ان کے نوٹ بندی والے منصوبے جیسا ہے، ان کا کوئی منصوبہ اور کوئی وزن نہیں ان کا کام صرف اور صرف عوام کو ورغلانہ ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں