مسلم سماج بھی تذبذب کی حالت میں ہے کہ آخرضلع مین پوری سے احتجاج کی آواز بلند کیوں نہیں ہوئی
مین پوری: حافظ محمد ذاکر۔(یو این اے نیوز 20 فروری 2020مسلم سماج کے کچھ نیتاؤں نے ایک بات سیکھ لی ہے،جب بھی کوئی ملی مسائلدرپیش ہو تے ہیں تو ایسے موقعہ پر وہ مدارس،مساجد،مکاتب، خانقاہوں کے ذمہداران کو نشانہ بنا تے ہیں،مسلم لیڈر بنے کا جاگتے میں خواب سجانے والےیہ کیوں بھول جاتے ہیں
کہ کچھ ملی ذمہ داریاں آپ کی بھی ہوتی ہیں،جبعلماء کرام یاسجادہ نشین سیاست میں دخل دیتے ہیں تو یہی سیاسی لیڈر بڑےہی ڈھٹائی کے ساتھ کہتے ہیں کہ علماء کا سیاست سے کیا واسطہ،ان کو چاہئےکہ وہ صرف مسجدوں،مدرسوں، اور خانقاہوں میں روزہ نماز،نیاز فاتحہ کریں،انباتوں کا اظہار آج ہمارے نمائندے کے سامنے ضلع مین پوری کی مشہور روحانی درسگاہ خانقاہ رشیدیہ مین پوری کے سجادہ نشین عبدالرحمان خان چشتی عرف ببلو میاں نے نئے ایکٹ سی اے اے پر ضلع میں اٹھ رہی عوام کی جانب اورسیاسی لیڈران کی اس آواز کے خلاف کیا جس میں کہا جارہا ہے کہ ضلع مین پوری میں کسی بھی مذہبی رہنماء نے ایکٹ کے خلاف آواز بلند نہیں کی،اور یہ بات بھی سچ ہے کہ ضلع مین پوری سے اس نئے ایکٹ (سی،اے،اے)کو لیکر اس کے
خلاف تحریری،تقریری،احتجاجی طور پر سر عام مذہبی رہنماؤں کی جانب سےاظہار نہیں کیا گیا،مین پوری کی عوام کے ذہنوں میں سیاسی لیڈروں نے یہ بات نقش کردی تھی کہ ضلع کے مذہبی رہنماؤں نے جس میں قصبہ بھوگاؤں،قصبہ
کرہل وغیرہ کے لوگ شامل تھے،ان لوگوں نے شروع ایام(جب یہ ایکٹ پاس ہوا) میں ہی اعلیٰ افسران کے ذریعہ طلب کی گئی ایک میٹنگ میں شریک ہو کر کسی طرح کا احتجاج نہ کر نے کا وعدہ افسران کے سامنے کیا تھا، شاید یہی وجہ تھی کہ ضلع سے پھر کسی طرح کی سی اے اے کو لیکر کوئی آواز بلند نہیں ہوئی،اسی ضمن میں آج سجادہ نشین نے سیا سی لیڈران پر اپنے شدیدغصہ کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ آخر ان(سیاسی رہنماؤں) کی بھی کچھ ذمہ داری بنتی ہے،یہ لوگ میدان میں کیوں نہیں آئے؟
کیا مسلم سماج کی ساری ذمہ داریاں ہم جیسے لوگوں پر ہی ہیں؟ووٹ کی سیاست آپ کریں،اور اس کے عیوض میں حکومتوںسے بڑے بڑے مراعات آپ حاصل کریں،اقتدار کے بڑے بڑے عہدوں پر آپ فائزہوں،اور جب کوئی ملی مسائل کی بات ہو تو ہم جیسے علماء سر سے کفن باندھکر سڑ کوں پر نکلیں؟سجادہ نشین حاجی عبد الرحمان خان عرف ببلو میاں نےکہا کہ میں واضح طور پر کہنا چاہتا ہوں کہ جولوگ مجھے کسی سیاسی پارٹی کاطرفدار سمجھتے ہیں وہ اپنی اس خام خیالی کو ہمیشہ ہمیش کے لئے اپنے ذہن ودل سے نکال دیں، مدارس،مکاتب،مساجد،خانقاہوں کے ذمہ داران کو ہر دورمیں،ہر سماج سے،ہر حکومت سے،(چاہیں وہ بی جے پی کی ہی کیوں نہ ہو)عزتہمیشہ ملتی رہی ہے اور ہمیشہ ملتی رہیگی،سجادہ نشین نے کہا کہ میں یہ بھی
واضح کر دینا چاہتا ہوں چاہیں سی،اے،اے،ہو یا این،پی،آر، ہو میں اس کی ہرمحاظ پر مخالفت کر تاہوں کیونکہ یہ آئین ہند کے دستور کے منافی ہے،مذہبکے نام پرہندوستانیوں کو آپس میں تقسیم کر نے والا یہ قانون ہے،جس کی ہم
ہر طریقہ سے مخالفت کرتے ہیں،

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں