مظفر نگر/شاہد حسینی(یواین اے نیوز 28فروری2020)دار العلوم دیوبند سمیت یوپی اور دلی کے تمام مدارس کے طلبہ کو مع اساتذہ وملازمین غیر میعادی چھٹی کا فورا حکم جاری کرنا چاہیے اور اس احتجاج میں پوری آب وتاب کے ساتھ مجاھدانہ شرکت کو یقینی بنانا چاہیے یہ وقت کی اہم ضرورت ہے اگر ارباب مدارس اپنے طلبہ کو امانت سمجھتے ہیں اور ان کے والدین کی رکاوٹ کا اندیشہ رکھتے ہیں تو اس کا حل یہ ہیکہ طلبہ کو مکلف کریں کہ وہ اپنے والدین سے اس کی اجازت لیں اور ملک کو بچانے کے لئےدوسری جنگ آزادی میں حصہ لیں ان خیالات کا اظہار امین افسر کیرانوی مقیم حال بنگلور نے سوشل میڈیا پر اپنے قلم کے ذریعہ کیا انہوں نے لکھاامید ہیکہ طلبہ اس میں کوئی کسر نہ چھوڑیں گے اگر اس وقت کی شرکت اور میدان میں اترنے سے طلبہ وعلما کی جان کو خطرہ ہے تو اس کی پرواہ کرنا عین بزدلی سمجھی جائیگی اور شہداء آزادی کے ساتھ غداری شمار ہوگی نیز ملک کی عوام کے اعتماد کو آئندہ بیسیوں سالوں تک کے لیے ٹھیس پہنچانے کے مترادف ہوگا۔
آج حالات یہ ہیں کہ مدارس اور علما سے عصری تعلیم یافتہ نیز عوام کی اکثریت کٹ چکی ہے اور سخت بیزار ہے اس میں مزید اضافہ ہی ہوگا دین مدارس میں محفوظ کیا جاتا ہے سر آنکھوں پر لیکن مدارس میں دین کی حفاظت مدینے کے ابتدائی دور سے زیادہ نہیں جس دور میں بدر واحُد برپا کی گئی تھی لیکن دین ختم کیا ہوتا مزید مضبوط ہوا اور پھیلا جانیں گئی لیکن آج تک ہر شہید زندہ ہےاگر مدارس اور اہل مدارس اپنے آپ کو وارثان رسول سمجھتے ہیں تو انہیں اس سرد جنگ میں حصہ لینا ہوگا قبل اس کے کہ بھگوائی دنگائی مدارس کے در توڑ کر گھس جائیں اور بزدلی والی موت کا منہ دیکھنا پڑے اگر اسوقت اس جنگ سے علما طلباء پیچھے رہ گئے تو یاد رکھنا چاہیے کہ آئندہ دعوت دین کی استعداد سے محروم ہوجائیں گے اور حفاظت دین محض ایک دعوی بن کر رہ جائیگا اتر پردیش اور دہلی کے علاوہ مدارس میں یہ کام خوب ہورہا ہے آپ لوگ دین کے ضائع ہونے کی فکر کو ابھی نہ کریں خدا کے واسطے ملک کے مسلمانوں کی جانیں مائیں اور بہنوں کی عزتیں گنوادینے کے جرم کا ارتکاب نہ کیجیے انہوں نے مدارس کے ذ مہ دران کو متوجہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ٹھیک ہے اس سال سالانہ امتحان نہ ہو حرج کیا ہے۔
مدینے کا جنگی ضرورت پر مدینے کا محراب کئی نمازوں کو قربان کرسکتا ہے تو ہمارے مدارس امتحان کیوں قربان نہیں کرسکتے یاد رکھیں یہ آخری موقع ہے اور آپ کا لشکر آخری لشکر ہے پھر اس کے بعد لاشوں کے سوا کچھ نظر نہیں آتا اگر اتر پردیش و دہلی کے یہ جوان طلباءوعلما نکل کھڑے ہوئے جن کی تعداد کم وبیش تیس ہزار ہو سکتی ہے تو دشمن کی ہمت چکنا چور ہوگی اور ان کی ماؤں نے دودھ نہیں پلایا جو وہ آنکھ بھی اٹھا کر دیکھ لیں اس وقت اگر اس جنگ سے جی چرایا گیا تو پھر نہ مدرسے رہینگے نہ مساجد نہ وراثت رسول ہی باقی رہیگی نہ حفاظت دین کا کوئی ذریعہ خدا را اپنی قدر جانو اور اپنی طاقت کو آزماؤ ورنہ روز محشر خالد وضرار کا سامنا مشکل ہوگا حمزہ وعلی سے نظریں چرانے پڑیں گی اب جتنا بس میں ہے اسے کر گذرو جان اللہ کی دی ہوئی ہے وہ لے لے یا دےدے دین اس کا اتارا ہوا ہے وہ حفاظت کرے گا ہم میدان میں آئیں تو سہی

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں