نانپارہ، بہرائچ،محمد رضوان ندوی(یواین اے نیوز 28فروری2020)تمام علوم حاصل کریں، شریعت منع نہیں کرتی لیکن بنیادی دینی تعلیم ضرور حاصل کریں،تعلیم کی روشنی سے جہالت، ناانصافی اور ظلم کا خاتمہ ہوگا، بغیر تعلیم کے انسان اپنے امتیاز اور اختصاص پر باقی نہیں رہ سکتا،ان خیالات کا اظہار مولانا ظفر کمال مظاہری نے جامعہ کاشف العلوم نانپارہ بہرائچ کے سالانہ اجلاس بعنوان اصلاح معاشرہ اور فضیلت قرآن میں اپنے صدارتی خطاب کے دوران کیا.انھوں نے کہا کہ حالات سے ہرگز نہ گھبرائیں، قرآن کی بلندی اور عظمت و اہمیت کا اندازہ تو یورپ اور امریکہ کو بھی ہے، اس انقلابی کتاب سے باطل طاقتیں تھراتی اور کانپتی ہیں، جب اللہ کی گرفت آتی ہے تو بڑی بڑی سلطنتیں پامال ہوئی ہیں، قرآن صرف حفظ کرنے کی اور برکت حاصل کرنے کی کتاب نہیں ہے بلکہ یہ دستور حیات ہے، ہم ظاہر پر نہ جائیں اصل کامیابی آخرت کی کامیابی ہے،انھوں نے کہا کہ ہم حقوق و فرائض اسی وقت بخوبی جان سکتے ہیں جب قرآن سے ہمارا گہرا تعلق ہوگا، حالات کی سازگاری اور امن و امان کی دعائیں کریں، ظالموں کو ڈھیل دی گئی ہے لیکن اللہ کی مدد آئے گی اور ظالموں کا ظلم ختم ہوگا،جب تک اللہ کی مرضی نہیں ہوگی اسلام بے شمار حالات کے باوجود نہیں مٹ سکتا۔
پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا،مقرر خصوصی مولانا حارث عبدالرحیم فاروقی نے کہا کہ قرآنی تعلیمات کو ہم سب جب تک اپنی زندگیوں میں نہیں اتاریں گے پریشانیاں بڑھیں گی اور آزمائشیں آتی رہیں گی، اس لئے قرآن کو بہر لمحہ اپنی زندگی میں اتاریں اور فتنوں کا سد باب کریں، مہمان خصوصی مفتی محفوظ الرحمن قاسمی نے کہا کہ اس وقت حالات اتنے خراب ہیں کسی بھی موضوع پر بات کرنے سے پہلے دل حالات ہی کی طرف چلا جاتا ہے، حیرت کی انسانی خون کتنا ارزاں ہو گیا ہے، انسان انسان کی بستیاں جلا رہے ہیں، انسان انسان کے خون سے ہولی کھیل رہے ہیں، اس سے ترقی کے راستے بند ہو جاتے ہیں، خراب حالات کی وجہ سے ملک بہت پیچھے چلا گیا ہے، ہمیں تمام بھائیوں کے پاس سچائی اور محبت و اتحاد کی بات پہونچانی پڑے گی، آپس کی دوریاں مٹاکر ہی اس ملک میں امن و امان اور کامیابی و ترقی کا راستہ ہموار کیاجا سکتا ہے۔
جامعہ کے بانی و مہتمم مولانا عبدالقیوم قاسمی کے شکریہ اور دعائیہ کلمات پر جلسہ کا اختتام ہوا، جلسہ کا آغاز قاری اسرار احمد استاذ انجمن اسلامیہ کی تلاوت قرآن پاک سے ہوا، نعت اور حمد کا نذرانہ عمر عبد اللہ بارہ بنکوی اور طارق لکھیم پوری نے پیش کیا، اس موقع پر مدرسہ کے طلبہ تعلیمی اور ثقافتی پروگرام بھی پیش کیا جس میں نوشاد احمد نانپاروی کا مکالمہ خاص طور سے بہت پسند کیا گیا.اس موقع پر کنوینر اجلاس قاری اسامہ نوری، مولانا عقیل اختر قاسمی، مولانا رئیس احمد قاسمی، مولانا محمد رضوان ندوی، قاری محمد یوسف امام شاہی جامع مسجد نانپارہ، مولانا محمد الیاس قاسمی وغیرہ کے علاوہ کثیر تعداد میں سامعین موجود تھے۔


کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں