تازہ ترین

ہفتہ، 29 فروری، 2020

دلی حکومت کا سیڈیشن کیس کی اجازت دینے کے لئے شکریہ ۔کنہیا کمار

نئی دلی۔(یو این اے نیوز 28 فروری 2020)دہلی پولیس اور سرکاری عہدیداروں سے گزارش ہے کہ وہ اس کیس کو سنجیدگی سے لیں ، فاسٹ ٹریک عدالت میں جلد مقدمہ چلایا جائے اور ٹی وی والی  'آپکی عدالت' کی جگہ  قانون کی عدالت میں انصاف کو یقینی بنائیں۔سیڈیشن  کیس میں فاسٹ ٹریک عدالت  مقدمے میں تیزی سے کاروائی کرنے کی ضرورت اس لئے ہے کہ ملک کو یہ معلوم ہو سکے کہ سیاسی فوائد کے لئے اور لوگوں کو ان کے بنیادی مسئلوں سے بھٹکانے کے لئے اس پورے معاملے میں کا استعمال کیا گیا ۔واضح رہے یہ سب باتیں کنہیا کمار نے اپنے فیس بک اور ٹوئٹر پر لکھی ہے۔ 

آپ کو معلوم رہے 9فروری 2016  کو  جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں مبینہ طور پر بھارت مخالف نعروں کا معاملہ سامنے آیا تھا۔  اس معاملے میں ، کنہیا کمار ، عمر خالد اور انل بارن کے علاوہ پولیس نے سات دیگر لوگوں  پر الزام عائد کیا تھا اور غداری کا مقدمہ درج کیا تھا۔ دلی  پولیس نے عدالت میں چارج شیٹ داخل کی ہے ، اس کید  کو چلانے کے لئے دہلی حکومت کی اجازت ضروری ہے۔  دہلی حکومت نے ابھی تک اس کی اجازت نہیں دی تھی۔

 کچھ دن پہلے سپریم کورٹ میں ایک عرضی بھی دائر کی گئی تھی ، جس میں عدالت سے اپیل کی گئی تھی کہ وہ دہلی حکومت کو اس کیس کو چلانے کا حکم دے۔  لیکن سپریم کورٹ نے اس درخواست کو خارج کردیا تھا۔اب جاکر دہلی حکومت نے اس کی منظوری دے دی ہے ، لہذا کنہیا کمار ، عمر خالد ، انل بارن اور دیگر کے خلاف غداری کامقدمہ چلانے  کا راستہ صاف ہوگیا ہے۔ یہ منظوری دہلی حکومت نے 19 فروری کو دہلی پولیس کی طرف سے بھیجی گئی ایک درخواست کے بعد دی ہے۔  دہلی حکومت کے پاس   دہلی پولیس  کی منظوری والی  درخواست 14 جنوری 2019 سے اٹکی پڑی تھی
 دہلی بی جے پی کے صدر منوج تیواری نے کیجریوال حکومت کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔

 دہلی پولیس نے اپنی چارج شیٹ میں جے این یو طلباء یونین کے سابق صدر کنہیا کمار ، عمر خالد ، انل بارن بھٹاچاریہ کے خلاف بھی بھارت مخالف نعرے بلند کرنے کا مقدمہ درج کیا تھا۔ اس کے علاوہ چارج شیٹ میں عاقب حسین ، مجیب حسین ، منیب حسین ، عمر گل ، رئیس رسول ، بشیر بھٹ اور بشارت کے نام شامل ہیں۔ چارج شیٹ میں کیا ہے؟ دہلی پولیس نے عدالت سے اپیل کی ہے کہ وہ کنہیا کمار سمیت 10 افراد کے خلاف مقدمہ شروع کرے۔  اگرچہ چارج شیٹ میں مجموعی طور پر 36 افراد کے نام ہیں ، لیکن  باقی کے خلاف اتنے ثبوت نہیں ہیں۔  عدالت چاہے تو ان کو سمن بھیج سکتی ہے

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad