متھرا ۔(یو این اے نیوز 29فروری 2020)گورکھپور کے ڈاکٹر کفیل خان کی اہلیہ ، ڈاکٹر شبستہ خان ،علی گڑھ مسلم
یونیورسٹی میں سی اے اے پر اشتعال انگیز تقریر کرنے کے الزام میں متھرا جیل میں بند ہیں ،ڈاکٹر کفیل خان کی اہلیہ ڈاکٹر شبستہ خان نے جیل میں بند کفیل کو قتل کیئے جانے کا خدشہ ظاہر کیا ہے ۔اس سلسلے میں ، انہوں نے حکومت کے چیف جسٹس سمیت ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو خط لکھا ہے ، اور جیل میں بند شوہر کے تحفظ کا مطالبہ کیا ہے۔ خیال رہے کہ ڈاکٹر کفیل اس وقت این ایس اے کے تحت متھرا جیل میں بند ہیں۔ڈاکٹر شبستہ خان نے ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو لکھے گئے خط میں لکھا ہے کہ ان کے شوہر 13 فروری سے متھرا جیل میں بند ہیں۔ ان کے ساتھ جیل میں انسانی وقار کے خلاف سلوک کیا جارہا ہے۔ جیل میں قتل کرنا عام بات ہوگئی ہے۔اس لئے انھیں ڈر ہے کہ جیل میں اس کے شوہر کا قتل ہوسکتا ہے۔ ڈاکٹر کفیل کی اہلیہ نے 25 فروری کو یہ خط بھیجا تھا۔ اس سلسلے میں ، سینئر جیل سپرنٹنڈنٹ شیلندر میتریہ نے کہا کہ انہیں خط کے حوالے سے کوئی معلومات نہیں ہے۔
واضح رہے۔ڈاکٹر کفیل فی الحال متھرا جیل میں ہیں۔ پچھلے سال دسمبر میں اے ایم یو میں سی اےاے کے خلاف بیان دینے کے الزام میں ان کو گرفتار کیا گیا تھا۔قابل ذکر ہے کہ انہیں ممبئی میں گرفتار کرنے کے بعد علی گڑھ لایا گیا تھا مگر انہیں فوراً متھرا جیل بھیج دیا گیا تھا۔ اس کے بعد انہیں ضمانت مل گئی تھی۔اپنی گرفتاری کے بعد ڈاکٹر کفیل خان نے ممبئی میں عدالت میں اس خدشے کا اظہارکیا تھا کہ اتر پردیش پولیس کے ذریعے‘‘انکاؤنٹر’’ میں انہیں مارا جا سکتا ہے۔اس دوران خان کے وکیل نے کہاتھا کہ انہیں عدالت میں پیش کیا گیا جس نے انہیں تین دن کی ٹرانزٹ ریمانڈ پر بھیج دیا۔ ان کے وکیل کے مطابق، خان نے عدالت میں دعویٰ کیا تھاکہ یوپی پولیس نے انہیں معاملے میں‘‘غلط طریقے سے’’ پھنسایا ہے۔ وکیل کے مطابق، خان نے عدالت کو بتایاتھا، ‘‘اس بات کا خدشہ ہے کہ انہیں اگر ٹرانزٹ (ریمانڈ) پر بھیجا جاتا ہے تو انکاؤنٹر میں ان کا قتل کر دیا جائےگا’’ اور زور دیا کہ انہیں ممبئی میں ہی رکھا جائے۔ عدالت کے باہر خان کے وکیل نے صحافیوں کو بتایا کہ خان کو انکاؤنٹرکا ڈر ہے ‘‘کیونکہ ان کے پاس پوری جانکاری ہے کہ بچوں کی موت (اتر پردیش کے ایک میڈیکل کالج میں) کا ذمہ دار کون ہے۔’
’این ڈی ٹی وی کے مطابق ،اس معاملے میں متھرا جیل میں بند کفیل کو ضمانت مل گئی تھی، لیکن ابھی تک انہیں رہا نہیں کیا گیا تھا۔ ضمانتی حکم کے تاخیر سے پہنچنے کی وجہ سے جمعرات کو متھرا ڈسٹرکٹ جیل سے رہائی نہیں ہو پائی تھی۔متھرا جیل کے جیلر ارون پانڈے نے بتایا تھا، ‘چونکہ کفیل خان کی رہائی کا حکم دیر شام کو ملا ہے اس لیے ان کی رہائی جمعرات کو نہ ہوکر جمعہ کی صبح ہو پائےگی۔’ لیکن ان کی رہائی سے پہلے ہی یوپی پولیس نے ان پر این ایس اے لگا دیا۔ کفیل کے بھائی عادل احمد خان نے سوشل میڈیا کے ذریعے چیف جوڈیشیل مجسٹریٹ کی طرف سے دس فروری کو جاری رہائی کے حکم کی کاپی فراہم کراتے ہوئے ان کی ضمانت کی جانکاری دی۔کفیل خان کے وکیل نے کورٹ میں ان کی ضمانت کی عرضی ڈالی تھی، جس پر 10 فروری کو سی جی ایم کورٹ نے ڈاکٹر کفیل کو ضمانت دے دی تھی۔ عدالت نے 60 ہزار روپے کے دو بانڈ کے ساتھ مشروط ضمانت دی تھی۔ ساتھ ہی کہا تھا کہ وہ مستقبل میں اس طرح کے کسی واقعے کو نہیں دوہرائیں گے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ان پراین ایس اے اس لیے لگایا گیا کیونکہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں شہریت قانون کے خلاف مظاہرہ جاری ہے اور علی گڑھ جیل میں کفیل خان کے ہونے سے شہر میں نظم ونسق کی صورت حال اور خراب ہو سکتی ہے۔بتا دیں کہ پچھلے مہینے 29 جنوری کو اتر پردیش کے ایس ٹی ایف نے شہریت قانون (سی اےاے) کے خلاف علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو)میں دسمبر میں مبینہ طور پر اشتعال انگیز خطاب دینے کے معاملے میں ڈاکٹر کفیل خان کو ممبئی ہوائی اڈے سے گرفتار کیا تھا۔ وہاں وہ سی اےا ے مخالف ریلی میں حصہ لینے گئے تھے۔ممبئی پولیس کے ایک افسر نے کہا تھا، ‘اتر پردیش ایس ٹی ایف کے حکام نے ڈاکٹر کفیل خان کوآئی پی سی کی دفعہ 153 اے (کمیونٹی کے درمیان عداوت کو بڑھاوا دینے)کے اہتماموں کے تحت سول لائن میں درج معاملے میں گرفتار کیا۔ ہماری پولیس ٹیم نے اتر پردیش پولیس کی گزارش پر ان کی مدد کی۔’
انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ خان نے پچھلے سال 12 دسمبر کو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے باہر باب سید پرمظاہرہ کے دوران 600 سے زیادہ طلبا کے سامنے مبینہ طورپر اشتعال انگیز بیان دیے تھے۔ڈاکٹرخان 2017 میں اس وقت سرخیوں میں آئے تھے جب بی آرڈی میڈیکل کالج، گورکھپور میں 60 سے زیادہ بچوں کی موت ایک ہفتےکے اندر ہو گئی تھی۔ڈاکٹرخان کو 2017 میں گورکھپور کے بابا راگھو داس میڈیکل کالج سے برخاست کر دیا گیا تھا کیونکہ انسفلائٹس سے متاثر کئی بچوں کی موت ہو گئی تھی۔ ان کو انسفلائٹس وارڈ میں اپنی ذمہ داریوں کی مبینہ خلاف ورزی کے لیے اور ایک نجی پریکٹس چلانے کے لیے بھی گرفتار کیا گیا تھا۔ حالانکہ، پچھلے سال انہیں عدالت نے سبھی الزاموں سے بری کر دیا تھا۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں