دیوبند،دانیال خان(یواین اے نیوز22فروری2020)دوروز قبل سڑک حادثہ میں ہوئی شادی شدہ کی موت کا معاملہ اب طول پکرتا جا رہا ہے،صبح کے وقت متوفی خاتون شبنم کے اہل خانہ و درجنوں خواتین نے کوتوالی پہنچ کر زبردست ہنگامہ آرائی کرتے ہوئے کہا کہ شبنم کی موت حادثہ میں نہیں ہوئی بلکہ اس کو پلاننگ کے تحت قتل کیا گیا ہے،شبنم کے اہل خانہ نے پولیس سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ملزم شوہر خرم کے خلاف فوری طور پر قتل کا مقدمہ درج کر جیل بھیجا جائے۔ہنگمہ آرائی کر رہے شبنم کے اہل خانہ نے بتایا کہ شبنم کی شادی محلہ نیچل گڑھ کے رہنے والے خرم کے ساتھ ہوئی تھی،الزام ہے کہ شادی کے بعد سے ہی خرم شبنم کو پریشان رکھتا تھا اور اس کے ساتھ اکثر مارپیٹ بھی کرتا رہتا تھا اس دوران اسکے دو بیٹیوں کی پیدائش بھی ہوئی،بیٹیوں کی پیدائش سے ناراض خرم نے دوسری شادی بھی کر لی تھی جس کا پتہ چلنے پر شبنم نے 31مارچ 2017کوکوتوالی میں تحریر بھی دی تھی۔
لیکن محلہ کے ذمہ داران نے میاں بیوی کے درمیان سمجھوتہ کرا دیا تھا،اہل خانہ کے مطابق قریب ڈیڈھ ماہ قبل خرم نے شبنم کو جان سے مارنے کی نیت سے اسکے اوپر مٹی کا تیل ڈال کر آگ بھی لگا دی تھی جس کا علاج اتراکھنڈ کے گوکل پور میں چل رہا تھا۔الزام ہے کہ خرم نے اپنے ایک نامعلوم ساتھی کے ساتھ ملکر شبنم کو قتل کر دیا اور کالی ندی کے نزدیک کار کو کھائی میں گرا کر قتل کو حادثہ کی شکل دینے کی کوشش کی۔اہل خانہ کا یہ بھی الزام ہے کہ ملزم انہیں مقدمہ درج نہ کرانے کی عوض میں موٹی رقم دینے کی بات کر رہا ہے انہوں نے سوالیہ لہجہ میں کہا کہ اگر خرم قصور وار نہیں ہے تو وہ ہمیں رقم کیوں دے رہا ہے۔کوتوالی انچارج یگھ دت شرما نے بتایا کہ ابھی پوسٹ مارٹم رپورٹ نہیں آئی ہے،رپورٹ ملنے اور جانچ کے بعد ہی کچھ کہا جا سکتا ہے،پولیس نے ہر پہلو سے جانچ شروع کر دی ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں