تازہ ترین

بدھ، 19 فروری، 2020

اعظم گڑھ کے حالات اور عوام

میں آج زد پر ہوں تم خوش گمان مت ہونا
            چراغ سب کے بجھیں گے ہوا کسی کی نہیں
شہباز احمد اعظم گڑھ، یوپی
مکرمی! 
         اعظم گڑھ کی دو عزیم شخصیت ایسی ہیں جن کا نام مولانا عامر رشادی مدنی اور مولانا طاہر مدنی ہے۔ جن کی اعظم گڑھ کے مسلمانوں کے لئے دی گئ قربانیوں کو کبھی بھلایا نہیں جا سکتا۔ جن کا مقصد نہ تو سیاست کرنے کا تھا نہ ہی لیڈر بننے کا تھا۔ان کے پاس اچھے بھلے مدرسے ہیں اگر چاہتے تو مدرسے میں بیٹھ کر عیش وآرام کے ساتھ اپنی خانقاہ چلا رہے ہوتے۔ مگر افسوس اہل اعظم گڑھ کے اوپر ایک ایسا وقت آیا کہ ظلم کی ساری حدیں پار کر دی گئیں، ہر طرف ڈر و خوف کا ماحول پیدا ہوگیا تھا، لوگ ایک دوسرے کو رشتہ دار کہنے اور اپنی پہچان بتانے سے بھی ڈرنے لگے تھے، ایسے ماحول میں اعظم گڑھ کا مسلمان جن سیکولر پارٹیوں کو اپنا ووٹ سپورٹ نوٹ یہاں تک کہ ان کو اپنا مسیحا مانتا آیا ان سبھی نے اپنی زبانیں گنگ کر لیں۔ کسی نے اہل اعظم گڑھ کا ساتھ نہ دیا۔ 

جی ہاں ! یہ بات اس ظلم کی ہے جو 2008 میں دلی بٹلہ ہائوس فرضی انکائونٹر میں ضلع کے دو نوجوانوں کو شہید کرنے کے بعد کیا گیا تھا، درجنوں گرفتاریوں کے بعد اعظم گڑھ کو آتنکواد کی نرسری و آتنک گڑھ کا خطاب دیا گیا اس حالات میں یہی دو ایسی شخصیت تھی جو ہمارے لئے کھڑے ہوئے، اپنے ساتھ ساتھ اور بھی علماء کرام و دانشوران کو لیکر راشٹریہ علماء کونسل نامی پلیٹ فارم کے ذریعہ اعظم گڑھ سے دلی تک ایک مضبوط آواز اٹھائ، جس کی گونج پورے ہندوستان میں سنائ دی۔ پھر حالات کچھ بہتر ہوئے تو لوگ پھر سے اپنے آشیانوں میں چلے گئے اور سیکولر سیاسی لیڈر و ان کے حمایتی اپنے آقائوں کے پاس چلے گئے۔ مگر یہ دونوں شخصیتیں واپس اپنی خانقاہوں میں نہ جاکر آج بھی ہمارے لئے کھڑے ہیں اور دکھ درد میں کام آرہے ہیں۔ بدلے میں ہم نے انہیں ووٹ بھلے ہی کبھی نہ دیا ہو مگر دنیا کی ساری برائیاں و خامیاں نکالنے میں کوئ کسر نہیں چھوڑا۔ ایک کو اپنی ذاتی سیاست کو فائدہ پہونچانے کے لئے بلی کا بکرا بنا جیل بھجوا دیا اور دوسرے کو صبح و شام گالیاں، الزامات، طنز و سوالات کے کٹگھرے میں کھڑا کرتے رہتے ہیں۔

 اور آج وہ لوگ یہ سب زیادہ کر رہے ہیں جن کے لئے قربانی دینے میں یہ شخصیتیں کوئ کسر نہ چھوڑی ہو، جن سے ہمیں سوال کرنا چاہیئے ان کے تو ذہنی غلام بن کر ہم جوانی قربان کر رہے ہیں۔ میں یہ نہیں کہتا کہ مولانا ہیں تو فرشتہ ہونگے، آخر یہ بھی انسان ہی ہیں غلطیاں ان سے بھی سرزد ہوسکتی ہیں۔ وقت کا تقاضہ اور آج کے حالات یہی ہیں کہ ان کا ساتھ دے کر انہیں مضبوط کیا جائے۔ کمزور نہ کریں کیونکہ ان کی کمزوری سب کی کمزوری ہے۔ یہ بات آج نہیں تو کل ہمیں ضرور سمجھ میں آئے گی۔ اگر نہیں کچھ کر سکتے تو ہم آزاد ہیں۔ ہم ان کو مظبوط کریں جو صرف ہمارا ووٹ لینا جانتے ہیں، اور صرف ووٹوں کی سیاست کرتے ہیں۔ برے وقت آنے پر ہمارا ساتھ دینا تو دور ہمارے حق میں بولنا بھی گوارا نہیں کرتے۔

             کسی ہم سفر نہ ہم نشیں سے نکلے گا
             ہمارے پائوں کا کانٹا ہمیں سے نکلے گا

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad