تازہ ترین

جمعرات، 27 فروری، 2020

ابھی وقت ہے بابا بھیم راؤ امبیڈ کر کے بنائے ہوئے قانون کی حفاظت کر لو:صبیحہ

مین پوری،حافظ محمد ذاکر(یواین اے نیوز27فروری2020)این پی آر ہی این آر سی کی پہلی سیڑھی ہے،جو لوگ اس پہیلی کو سمجھ گئے ہیں،یا جولوگ حکومت کی منشاء اسکے مقصد سے بخوبی واقف ہو چکے ہیں،وہ این پی آر،این آر سی،یا سی اے اے کولیکر فکر مند ہیں۔در اصل ابھی کثریتی طبقہ کو اس نئے ایکٹ کے تئیں یہ بد گمانی ہے کہ یہ موجودہ بی جے پی کی مودی حکومت صرف اقلیتی طبقہ یعنی مسلمانوں کو نشانہ بنا رہی،اس ملک سے یا تو ان مسلمانوںکو بے دخل کر دیگی،یا پھر حق رائے دہی کا استعمال واپس لے لیگی، اس نئے ایکٹ سے اکثریتی طبقہ یعنی ہندو ؤں کو کسی طرح کا کوئی نقصان نہ ہوگا؟یہ خیال سراسر اکثریتی طبقہ کے لئے ایک بہت ہی بڑا فریب ثابت ہو گا، مستقبل میں اکثریتی طبقہ کے لئے یہ بہت بڑی تاریخی بھول ہوگی،جس ایکٹ کو وہ آج صرف مسلمانوں کے لئے تباہی سمجھ رہے ہیں،مستقبل میں وہ خود خون کے آنسوں رو ئیںگے۔ان باتوں کا اظہار خیال سماجی کار کن صبیحہ خاتون نے نمائندے کے سامنے کیا،انہو نے کہا کہ حکومت کی منشاء اس نئے ایکٹ سی، اے، اے، اور این،پی،آر،سے واضح طور پر یہ ہے کہ اپنے سیاسی مخالفین اور وہ ووٹر جو اپنی حمایت بی جے پی کو نہیں دیتے ان کو اگر ملک سے نہ نکال سکیں تو کم از کم دوئم درجہ کا شہری بنا کر چھوڑ دیں۔

تاکہ حق رائے دہی کا حق ان سے چھین لیا جائے،ووٹ کے استعمال سے ان کو روک دیا جائے۔ یعنی ووٹنگ کے عمل میں حصہ نہ لے سکیں۔آسام میں ہوئی این،آر،سی،سے بی جے پی حکومت کو بہت بڑا سیاسی جھٹکہ لگا،وہ سمجھ رہی تھی کہ کہ آسام میں سب سے زیادہ مسلم گھس پیٹھئے(غیر ملکی) ہو نگے،مگر وہاں توحکومت کی سوچ کے بالکل برعکس ہوا آسام میں تو ایک بڑی تعداد غیر مسلموں کی این،آر،سی،سے باہر ہو گئی۔ صبیحہ خاتون میں مانتی ہوں کہ وہاں سرحدی ملکوں کے لوگ بس گئے ہونگے،مگر اتنی کثیر تعداد میں نہیں ہونگے؟در اصل این،آر،سی،کی فہرست میںنام نہ آنے کی وجہ ہے کہ غریبوں،مزدوروں، کے پاس دستا ویزوں کو محفوظ نہ رکھ پاکر پیش نہ کرپانا وجہ رہی ہے۔خدا نخواستہ اگر یہ تعداد مسلم کی ہوتی تو ابھی تک یہ بی جے پی حکومت مسلمانوں کو ملک بدر کر نے کے لئے ایڑی سے چوٹی کا زور لگا دیتی۔جب حکومت نے دیکھا کہ اکثریتی طبقہ کی ایک بڑی تعداد غیر ملکی ثابت ہو گئی تو اسکو کس طرح ملک میں جگہ دی جائے،تب حکومت نے آناًفاناً میں سی،اے،اے(سٹیزن امینڈ مینٹ)قانون لاکر جس میں کہا گیا کہ مسلم کے سوا چنندہ مذاہب کے لوگ ہندوستان کی شہریت حاصل کر سکیں گے۔

اس نئے ایکٹ سی،اے،اے،میں مسلم کو نظر انداز اس لئے کیا گیا کہ یہ ووٹ بی،جے،پی کے حق میں نہیں جاتا،بی جے پی اس ملک کو ہندو راشٹر بنا نا چاہتی ہے،اسی لئے وہ نئے نئے ایکٹ نافذ کر کے ان لوگوں کو ہی ملک میں رکھنا چاہتی ہے جو خالص بی جے پی کے نام کی مالا جپیں۔ صبیحہ خاتون نے کہا کہ این آر سی کی فہرست سے باہر ہوئے لوگوں میں سب سے زیادہ تعداد ذیلی ذاتوں کی ہے،اسی بات سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ سیاسی کھیل بہت بڑے بڑے دانشوروں نے ترتیب دیا ہے۔جب یہ ذیلی ذاتیں جس میں اوبی سی،دلت،وغیرہ ہیں،ان کو دوبارہ پھر غلام بنا نے کی سازش رچی جا رہی ہے،بڑے ہی غور فکر کی بات ہے کہ جب این آر سی کی فہرست سے باہر ہوئے دلت،او،بی، سی،(جوکہ ہندو ہیں)کو سی،اے،اے کے تحت شہریت دی جائیگی،اس وقت یہ مذکورہ ہندو ذات کے لوگوں کی کیٹا گری کیا ہو گی؟کس زمرے میں رہیں گے،؟کیا ملک کے آئین نے جو دلتوں،یا اوبی سی کو جو ریزر ویشن دینے کا تذکرہ کیا ہے،کیا ان مذکورہ ذاتوں کو سی سی اے کے تحت ملنے والی شہریت کے بعد بھی پھر یہی سب کچھ حاصل ہوگا؟ 

صبیحہ خاتون نے کہا کہ یہ بات نہایت ہی غور طلب ہے کہ جب اسی ملک کا ہندو وہ کسی بھی ذات سے تعلق رکھتا ہو،جب وہ ہو دوبارہ شہریت حاصل کر نے کیلئے سی اے اے کے فارم پ،ر کریگا،تو اسی وقت یاثابت ہو جائیگا کہ آپ ابھی تک غیر ملکی یعنی گھس پیٹھئے تھے۔سی اے اے کا فارم پ،ر کر تے ہی آپ دویم درجہ کے شہری کہلائیں گے۔کیونکہ آپ خود اس ملک کی شہریت مانگ رہے ہیں،گویا کہ آپ اس سے قبل اس ملک کے باشندے نہیں تھے۔اب آپ شہریت مانگ کر دویم درجہ کے شہری بن جائیں گے۔پھرآپ کو (دلت،اوبی سی وغیرہ) لوگ تمام سر کاری ملازمتوں،اور تمام سرکاری مراعات سے محروم کر دئے جائیں گے،یہی وہ وقت ہوگا جب آپ خون کے آنسو روئیںگے،اسی لئے کہا جارہا کہ اس ایکٹ کو سمجھ لیجئے اس کے خلاف آواز بلند کیجئے ورنہ وہ دن دور نہیں جب غلامی آپ کا اور آپ کی نسلوں کا مقدر بن چکی ہو گی،بڑی ذاتوں کے سامنے بیٹھنا،مشکل ہوجائیگا،پھر آپ پیچھے چھاڑو اور آگے پیپپہ باندھ کر چلنا لازمی ہو جائیگا، ابھی وقت ہے بابا بھیم راؤ امبیڈ کر کے بنائے ہوئے قانون کی حفاظت کر لو۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad