تازہ ترین

اتوار، 1 مارچ، 2020

ریسرچ اسکالرس ہی ہمارا قیمتی سرمایہ ہیں اور وہی مستقبل میں زبان وادب کی بقا کا سبب ہیں : پروفیسر عمر کمال الدین

شعبہئ فارسی لکھنؤ یونیورسٹی کے زیر اہتمام' اودھ میں فارسی ادب ''کے عنوان پر ریسرچ اسکالر سمینار کا انعقاد 
لکھنؤ(یواین اے نیوز 29فروری2020) جس طرح کسی قوم کا مستقبل نوجوانان قوم ہوتے ہیں اسی طرح کسی زبا ن وادب کا مستقبل اور اس کی بقا کا سبب اس زبان کو سیکھنے والے طلبا اور ریسرچ اسکالرس ہوتے ہیںاورریسرچ اسکالر س نہ صرف صدیوں سے چلی آرہی روایات کا تحفظ کرتے ہیں بلکہ زبان وادب کو نئے قیمتی جواہر پاروں سے بھی معمور کرتے ہیں ان خیالات کا اظہار آج پروفیسر عمر کمال ا لدین صدر شعبہئ فارسی لکھنؤ یونیورسٹی نے اوما ہری کرشنا اوستھی ہال ، لکھنؤ یونیورسٹی میں شعبہئ فارسی ،لکھنؤ یونیورسٹی کے زیر اہتمام منعقد ہونے والے ریسرچ اسکالر سمینار میں اپنے صدارتی خطاب کے دوران کیا ۔ انھوں نے ریسرچ اسکالرس کو اس سمینار کی افادیت واہمیت سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ اس سے آپ کے اندر تحقیقی اورتنقیدی شعور پیدا ہوگا اور آپ کے قلم وقرطاس پر گرفت مضبوط ہو گی جس سے آپ مستقبل میں میدان تحقیق کے شہسوار بن سکیں گے۔

انھوں نے موضوع کے حوالہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نوابین اودھ کی فیاضیوں اور ان کی زرپاشیوں نے اودھ کو ایک عظیم ادبی مرکز بنا دیا تھااوریہاں کی سازگار علمی فضا اور شاہان اودھ کی سرپرستی وحوصلہ افزائی کی وجہ سے ادبا ء اور شعرا نے ملک کے مختلف اطراف واکناف سے جمع ہوکر اپنی علمی ضیاء پاشیوں سے اودھ کے افق کو ایسا روشن کیا تھاکہ اس کے البیلے نقوش آج بھی ذہن کے پردوں پر نقش ہیں اودھ میں فارسی ادب کی ہمہ جہتی کا یہ عالم ہے کہ اصناف سخن میں سے کوئی ایسی صنف نہیں ہے کہ جس کو اودھ کی سرزمین پر فروغ نہ ملا ہو ، یہاں تمام اصنا ف سخن کی پذیرائی ہوئی اور ہر صنف کے ماہرین نے اپنے اپنے میدانوں میں اشہب قلم کی جولانی دکھائی جس کی زیراثر نثر ونظم کی ہر صنف کادامن قیمتی جواہرسے پر ہوگیاتھا اب ہماری ذمہ داری ہے کہ اس قیمتی ورثہ کی اپنی قلمی نگارشات سے حفاظت کریں اور اودھ کے جن فارسی ادباء وشعراء کی تخلیقات پردہئ خفا میں ہیں ان کو منصہ شہود پر لائیں ۔اس موقع پر سمینار کے مہمان خصوصی پروفیسر عارف ایوبی، پروفیسر شعبہ ئ فارسی ، لکھنؤ یونیورسٹی وچئیرمین فخر الدین علی احمد میموریل کمیٹی نے طلباء کو روش تحقیق سے روشناس کراتے ہوئے کہا کہ تحقیق کا مطلب صرف مواد کی جمع آوری نہی ہے بلکہ تحقیق کا مقصد مواد کا تجزیاتی اور تنقیدی مطالعہ ہے انھوں نے زور دے کر کہاکہ تحقیقی مضامین کے لئے ایسے موضوعات کا انتخاب کرنا چاہئے جو اب تک تشنہ ہیں ۔

 جن پر اصحاب قلم نے توجہ مبذول نہیں کی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ تحقیق کی زبان سادہ ہونی چاہئے اس میں ملمع سازی اور تصنع کا شائبہ نہیں ہونا چاہئے ۔اس سمینار کے مہمان اعزازی ڈاکٹر غلام نبی ، اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ ئ فارسی ، لکھنؤ یونیورسٹی نے اس سمینار کے انعقاد پر اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ سمینار ان کے دیرینہ خوابوں کی تعبیر ہے اور اس کے لئے شعبہئ فارسی کے تمام اساتذہ اوروہ تمام ریسرچ اسکالرس کو مبارکباد کے مستحق ہیں جنھوں نے ا س تاریخ ساز سمینار کے انعقاد کے لئے کوششیں کیںانھوں نے مزید کہاکہ یہ سمینار شعبہئ فارسی ، لکھنؤیونیورسٹی کی تاریخ میں ایک سنگ میل کی حیثیت کا حامل ہے کیوں کہ یہ پہلا موقع ہے جب شعبہئ فارسی طلبا کی صلاحیتوں کو صیقل کرنے کے لئے'' ریسرچ اسکالر سمینار '' کا انعقاد کر رہا ہے ، اس سے ریسرچ اسکالرس کو مقالہ لکھنے اور پڑھنے دونوں کی مشق ہوگیاور ان کی زبان وقلم میں شستگی اور شائستگی پیدا ہوگی ۔ اس موقع پر ڈاکٹر شبیب انور علوی ، اسسٹنٹ پروفیسر ، شعبہئ فارسی ، لکھنؤ یونیورسٹی نے افتتاحی خطاب میں سمینار کے موضوع اور اس کے اغراض ومقاصد پرروشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ چونکہ ہم سب کا تعلق اس دانشگاہ سے ہے جو قدیم ریاست اودھ کے دوسرے دارالحکومت لکھنؤ میں قائم ہے اس لئے ہمارا اولین فریضہ ہے کہ ہم یہاں کے ادبی ورثہ کے محافظ بنیں اور یہاں شعراء وادباء کے ادبی کارناموں کو منظر عام پر لائےںکیوں کہ اگر ہم نے اودھ کے فارسی شعراء وادباء کو اپنی تحقیق کا موضوع نہیں بنایا تو کوئی ایران سے آکر ان پرتو کام نہیں کرے گا چونکہ ہم یہاں کے باشندہ ہیں اس لئے ہمارا اولین فریضہ ہے کہ ہم یہاں کے فارسی ادبا وشعرا کو اپنی قلمی کاوشوں سے جہان فارسی کو روشناس کرائیں اوراگر ہم نے اس فرض منصبی سے پہلو تہی کی تو آئندہ آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کرے گی ۔

اس لئے اس پہلے ریسرچ اسکالر سمینار کا عنوان '' اودھ میں فارسی ادب '' منتخب کیا گیا ہے تاکہ فارسی کے طلبا اپنے عظیم الشان قدیم ورثہ سے واقف ہو ں اور یہاں کے فارسی شعرا وادبا کو اپنی قلمی کاوشوں سے زندہ کریں ۔ ۔ اس سمینار میں کل دس ریسرچ اسکالرس نے پر مغز مقالے پڑھے ، ۔ جس میں ڈاکٹر ناظر حسین سابق ریسرچ اسکالر شعبہ ئ فارسی لکھنؤ یونیورسٹی نے '' مہاراجہ سنگھ زخمی کی علمی وادبی خدمات ''محمد خبیب ،ریسرچ اسکالر شعبہئ فارسی لکھنو ئ یونیورسٹی نے'' اودھ کے ایک عظیم شاعر عزیز صفی پوری کی نعتیہ شاعری '' ، صالح ظفر نے ،'' پروفیسر ولی الحق انصاری کی فارسی خدمات'' ، عاطفہ جمال نے '' آئینہ حیرت : ایک تنقیدی مطالعہ، عرشی بانو نے '' موہن لعل انیس کی فارسی شاعری''،ثناء ا ظہر نے ''اود ھ میں فارسی زبان وادب کا مقام '' ، مہدی رضانے '' شعراء معروف ذولسانین اودھ '' ، علی عباس نے ''سید العلماء کی نثری خدمات '' ، محمد الیاس نے آزاد بلگرامی کی فارسی شاعری اور فیروز بخش نے حدیقہ ئ عشرت : ایک تنقید ی جائزہ کے موضوعات پر اپنے مقالات پیش کئے ۔ حاضرین نے تمام مقالات کو داد وتحسین سے نوازا اور طلبا کو ان کے کامیاب مستقبل کے لئے دعاؤ وں سے نوازا، اس سمینار کی نظامت کے فرائض صالح ظفر اور مہدی رضا نے مشترکہ طور پر انجام دئے ۔ 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad