تازہ ترین

بدھ، 19 فروری، 2020

ممبئی کی ریاستی حکومت سے از سر نو جج لویا کی موت کی جانچ کرائے

ممبئی : سہراب الدین اور تلسی رام پرجا پتی کیس میں ملزم بنائے گئے بی جے پی کے مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ اور دیگر ملزمین کے کیس کی شنوائی کرنے والے جج برج گوپال ہر کشن لویا کی پر اسرار موت ہنوز معمہ بنی ہوئی ہے ۔ جج لویا کی پر اسرار موت پر شروع میں اہل خانہ نے حکومت سے جواب طلب کیا تھا لیکن اچانک انہوں نے خاموشی اختیار کر لی۔ وہیں اب شہر کے چند سماجی رضا کار مسلسل ریاستی حکومت سے جج لویا کی موت کی از سر نو جانچ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔اس سلسلہ میں سماجی رضا کاروں کے ایک وفد نے این سی پی کے سربراہ شرد پوار سے بھی ملاقات کی،اس کے علاوہ اس ضمن میں منگل کو ایک پریس کانفرس کے دوران سماجی رضا کاروں نے آر ٹی آئی کے ذریعہ حاصل شدہ تفصیلات میں موجود کئی ان سلجھے سوالوں  کا جواب اب تک نہیں مل سکا ہے۔

 ذرائع ابلاغ کے سامنے پیش کیا ۔مراٹھی پتر کار سنگھ میں ہوئی پریس کانفرنس کے دوران سماجی رضا کاراشوک پئی نے یکم دسمبر ۲۰۱۴ء کو ناگپور میں ایک شادی کی تقریب میں شرکت کے دوران جج لویا کی موت کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ ’’ انتہائی حیرت انگیز بات ہے کہ شادی کی تقریب میں شرکت کرنے والا جج لویا کو جب دل کا دورہ پڑا تو انہیں بجائے ان کی یا کیس اور کی کار میں اسپتال لے جانے کے رکشا میں اسپتال لے جایا گیا ۔قابل ذکر بات یہ بھی ہے کہ شام کو ۵؍ بجے ہی اہل خانہ کو ان کی موت کی اطلاع دی جاتی ہے جبکہ آر ٹی آئی کے ذریعہ حاصل کردہ رپورٹ کے مطابق ان کی موت شام ساڑھے ۶؍ بجے ہوئی تھی ۔ ‘‘گروپ آف سٹیزن کے نام سے لویا کی جانچ کی مانگ کرنے والے رضا کار جن میں ونود چند ،عابد منن یوسف ، ماجد خان ، راہل یادو ، سمیر روہیکر اور دیگر لوگ شامل ہیں ، نے الزام لگایا کہ مودی اور شاہ اس موت کے’ سوتر دھار‘ ہیں اس لئے اس اس معاملہ کی جانچ انتہائی ضروری ہے۔

یہ صرف ایک جج لویا کی موت کا معاملہ نہیں ہے بلکہ یہ لوگ سہراب الدین ، تلسی رام پرجا پتی ، عشرت جہاں اور دیگر کئی قتل کی سازش کا حصہ ہیں۔اشوک پئی نے یہ بھی کہا کہ دل کا دورہ پڑنے کے باوجود ای سی جی کی رپورٹ تک موجود نہیں ہے ۔ انہوںنے کہا کہ  جج بی ایچ لویا کی موت کی از سر نو جانچ کے لئے وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے کو مکتوب روانہ کرنے کے ساتھ ہی این سی پی کے سربراہ شرد پوار سے بھی ہمارے وفد ذریعہ ملاقات کی بھی اطلاع دی تھی ۔ رضا کار کے بقول اس جانچ کا مطالبہ کرنے میں اہل خانہ کی شمولیت نہ ہونے پر سوال تو اٹھائے جارہے ہیں لیکن ہم ایک شہری ہونے کے ناطے اس پر اسرار موت کا خلاصہ اور سی بی آئی کے ذریعہ شفاف جانچ چاہتے ہیں ۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad