نئی دہلی(یواین اے نیوزیکم مارچ2020)24فروری کو شمال مشرقی دہلی میں بڑے پیمانے پر فرقہ وارانہ تشدد کے بیچ کچھ ایسے ہیرو بھی سامنے آئے جو دوسرے مذہب سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو اپنے ہی مذہب سے تعلق رکھنے والے لوگوں سے بچانے کی بھر پور کوشش کررہے تھے اپنی برادری سے بچانے کی کوشش کررہے تھے۔ایسے ہی انسان دوست اور جاں باز ہیروں کی کہانی بتانے جارہے ہیں۔۔ جب قومی راجدھانی دلی میں ہر چہار جانب نفرت کی آگ بھڑک رہی تھی لوگ مارے جارہے تھے ایسے میں۔بہت سارے لوگ انسانیت کی مدد کرنے سامنے آئے۔ ان ہیروں میں ایک نعیم علی ہیں جنہوں نے بہت سارے غیر مسلموں کی جانیں بچائیں شیو وہار کے رہائشی 34 سالہ نعیم علی پردھان کانام بطور مسیحا ذکر کیا جارہا ہے۔ انہوں نے 24 فروری کی رات کم از کم 7-8 غیر مسلموں کی مدد کی تھی۔
جس وقت دلی جل رہی تھی آسمان دھواں دھواں ہورہا تھا دنگائیوں کا قہر سر پر چڑھ کر بول رہا تھا ،ایسے میں نعیم علی ان لوگوں کو محفوظ مقامات پر لے گئے۔ قارئین کو معلوم رہے کہ شیو وہار تشدد زدہ علاقوں میں ایک ہے نعیم علی کے مطابق، اسی رات، ہجوم نے سڑک پر موجود درجنوں دکانوں پر حملہ کیا اور بعد میں رہائشی علاقوں میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ اچانک، اس نے گھبرائے ہوئے نوجوانوں کا ایک گروپ دیکھا جو پریشان نظر آرہے تھے۔مایوسی کی حالت میں وہاں سے نکل جانے کا راستہ پوچھ رہے تھے۔نعیم علی نے کہا میں انہیں دیکھ رہا تھا، وہ غیر مسلم تھے، جو بھیڑ سے فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ وہ ہماری کالونی کی گلیوں کے اندر اپنا راستہ بھٹک گئے تھے۔ میں دوسرے مسلم نوجوانوں کے ساتھ ان لوگوں کو قریب کے غیر مسلم علاقے میں لے گیا۔
واضح رہے نعیم علی دلی پولیس کی طرف سے بنائی گئی امن کمیٹی کے ممبر بھی ہیں ایک بھیڑ نے متعدد دکانوں اور کچھ شو روم پر حملہ کیا۔ مین روڈ پر جمع بھیڑ سے یہ غیر مسلم خوفزدہ اور پریشان تھے۔ بھیڑ لوگوں پر حملہ کر رہی تھی۔ وہ سب گھبرائے ہوئے تھے۔ انہوں نے مجھ سے کالونی جانے کا راستہ پوچھا۔کیونکہ وہ سبھی اپنا راستہ بھٹک گئے تھےوہیں دوسری طرف گووند وہار میں گلی نمبر 8 میں انسانیت اور بھائی چارے کی مثال پیش کرتے ہوئے لوگوں نے بنے خان کے اہل خانہ کے 22 افراد کو تشدد کا نشانہ بننے سے بچالیا۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں