دیوبند،دانیال خان(یواین اے نیوز21فروری2020)دیوبند کے عیدگاہ میدان میں خواتین کا غیر معینہ دھرنا26دنوں سے بلا توقف جاری ہے جو پوری طرح وطن پرستی کے رنگ میں رنگا نظر آ رہا ہے،دھرنا گاہ پر بابائے قوم مہاتما گاندھی اورمعمار آئین ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کے بڑی بڑے کٹ آوٹ لگانے کے ساتھ ہی ایک بڑے بورڈ پر آئین کی تمہید بھی لکھی گئی ہے لوگوں کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے وہیں اب خواتین کے بیٹھنے کے لئے لگایا گیا پنڈال بھی ترنگے کے رنگ کا کر دیا گیا ہے جسے لوگ خوب پسند کر رہے ہیں،ساتھ ہی سماجی و سیاسی تنظیموں کے افراد بڑی تعداد میں دھرنا گاہ پہنچ کر خواتین کے ستیہ گرہ کو اپنی حمایت کا اعلان بھی کر رہے ہیںاسی کڑی میں آج راشٹریہ لوکدل کی پشچم پردیش مہیلا مورچہ کی صدر محترمہ رما ناگر کی قیادت میں لوکدل کے ضلع صدر راؤ قیصر سلیم،ریاستی جنرل سیکٹری چودھری دھیر سنگھ،شہر صدر سلیم خواجہ،ریاستی سکیٹری چودھری ارجن،یوا راشٹریہ لوکدل کے راؤ عرفان اور ضلع نائب صدر راؤ فرمان سمیت سیکڑوں کارکنان نے خواتین کی تحریک کو پارٹی اور اپنی جانب سے ہمایت اور بھر پور تعاون کا اعلان کیا۔
اس دوران مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے محترمہ رما ناگر نے کہا کہ شہریت ترمیمی ایکٹ آئین کے منافی ہے،مرکزی حکومت ملک کے امن پسند مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک کر رہی ہے جسے ملک کبھی برداشت نہیں کر سکتا،کیونکہ یہ ملک سب کا ہے،ملک میں مہنگائی اپنے عروج پر ہے لوگوں کو روزگار نہیں مل پا رہا ہے،کسانوں کو فصلوں کو صحیح قیمت نہیں مل رہی ہے اور حکومت در پیش مسائل پر توجہ دینے کے بجائے فرقہ وارانہ فیصلے کر رہی ہے۔انہوں نے مردم شماری اور این پی آر میں فرق کو سمجھاتے ہوئے کہا کہ مردم شماری کا عمل مضرت رساں نہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ احتجاج کا اختیار ہمیں آئین نے دیا ہے نہ کہ حکومت نے، اور جس آئین نے حکومت کو اختیار دیا ہے وہی آئین ہمیں احتجاج کرنے کا بھی حق دیتاہے اور حکومت کو ہماری بات سننی ہی پڑے گی۔
انہوں نے کہاکہ قانون عوام کے لئے ہوتا ہے نہ کہ عوام قانون کے لئے۔ اسی لئے حکومت کو کوئی ایسا قانون نہیں بنانا چاہئے جس سے عوام کو کوئی تکلیف پہنچے۔ سلمہ احسن،زینب عرشی،فوزیہ عثمانی،ارم عثمانی اور عذرا خان نے کہا کہ ہم یہاں کوئی شوق سے دھرنے پر نہیں بیٹھی ہیں بلکہ ہم تکلیف میں ہیں، ہمارا مستقبل تاریک ہونے والا ہے انہوں نے شہریت ترمیمی قانون کو دستور کے خلاف بتاتے ہوئے عدالت سے اس قانون کو جلد از رد کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ملک میں بے روز گاری بڑھ رہی ہے،کسان خود کشی کرنے پر مجبور ہیں،نوجوان روزگار کے لئے در در بھٹک رہے ہیں،خواتین عصمتیں تار تار ہو رہی ہیں،طلبہ پر پولیس کے مظالم میں شدت آ رہی ہے،عوام کی آواز کو دبایا جا رہا ہے،لوگوں کے بولنے کی آزادی کو سلب کیا جا رہا ہے،آئین ہند کے ساتھ کھلواڑ کیا جا رہا ہے،جو بھی حکومت کے نظریہ سے متفق نہیں ہے اسے غدار وطن کہا جا رہا ہے،الغرض کہ جس نازک و پر فتن دور سے ہمارا ملک گزر رہا ہے وہ یاران نکتہ داں سے پنہانہیں ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں