تازہ ترین

جمعرات، 9 جنوری، 2020

طلباء پر حکومت کی بربریت نے ہمارے ضمیر کو جھنجھوڑ کررکھ دیا: کویتا کرشنن۔

نیودہلی(یواین اے نیوز9جنوری2020)کمیونسٹ لیڈرکویتا کرشنن نے ملک کے حالات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کسی کو معلوم تھا کہ 5 اگست کے بعد خواتین اتنی بڑی تعداد میں سڑکوں پر اتریں گی خواتین نے یہ بتادیا ہے کہ وہ ظلم کے خلاف میدان میں اترنے کا مادہ رکھتی ہیں ۔ انہوں نے ملک میں فسطائی طاقتوں کی بربریت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ نقاب پوش غنڈے کبھی جامعہ ملیہ اسلامیہ میں طلبہ کو نشانہ بناتے ہیں تو کبھی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو کبھی جواہر لال نہرو یونیورسٹی پر حملہ کرتے ہیں اورکسی کی آنکھ پھوڑتے ہیں تو کسی کا پیر توڑتے ہیں تو کسی کا کچھ اور محترمہ کرشنن نے الزام لگایا کہ حکومت حد سے زیادہ جھوٹ بول کر عوام کو گمراہ کر رہی ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ مودی کہتےہیں کہ این آرسی کے بارے میں 2014 کے بعد کوئی بات نہیں ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مغربی بنگال کی ریلیوں ں میں مودی نے بار بار این آرسی نافذ کرنے کی بات کہی ہے۔ انہوں نے دعوی کیاکہ کسی جمہوری ملک میں این آری نافذ نہیں ہوتا ہے، این آری و ہیں نافذ ہوتا ہے جہاں جمہوریت نہیں ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت نافذ ہونے والے این پی آر میں بابوؤں کو حق ہو گا کہ بغیرکسی وجہ کے بھی آپ کے نام کے مشتبہ لکھ دےاورنہ لکھنے کے لئے آپ سے بھاری رشوت طلب کرے گا اور رشوت نہیں دیں گے تو آپ کے نام کے آگے مشتبہ لکھ دے گا۔ ٹریڈ یونین کی جنرل سکریٹری سو بیاراج نے اس موقع پر کہا کہ ہماری لڑائی انگریزوں کے دلالوں سے ہے اور انہوں نے امید ظاہر کی کہ شاہین باغ ، جامعہ نگر اور بٹلہ ہاؤس کی خواتین ہراول دستے کا کام کریں گی۔ 

شاہین باغ میں بھی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ، جامعہ ملیہ اسلامیہ جے این یو وغیرہ کے طلبہ کے ساتھ دیگر لوگوں نے خاتون مظاہرین سے خطاب کیا۔ اس کے علاوہ شاہین باغ خاتون مظاہرین جہاں جے این یو پر طلبہ پر حملے کے بارے میں فکر مند ہیں وہیں ان کا مطالبہ ہے کہ بھیم آری کے چیف چندر شیکھر کو رہا کیا جائے ۔ اس کے علاوہ شاہین باغ میں پورےہندوستان کا سنگم نظر آئے گا۔ اسی کے ساتھ جامعہ نگر کے ذاکر نگر ڈھلان پر مغرب بعد خواتین بڑی تعداد میں کینڈل جلا کر قومی شہریت قانون کے خلاف مظاہرہ کر رہی ہیں۔ خاتون مظاہرین کا دائرہ وسیع ہو رہا ہے اور دہلی کے جعفر آباد،سلیم پور میں بھی خواتین اس قانون کے خلاف مظاہرہ کررہی ہیں ۔ 

اس کے علاوہ ملک کے دیگر حصوں اور جمشید پور سے بھی خواتین کے مظاہر ہ کرنے کی خبریں ہیں،جمشید پور میں سمودھان بچاؤ سنگھرش سمیتی کے تحت خواتین میں بیداریکے لیے جمشید پور کی بڑی مسجدوں میں سے ایک امام حسینی مسجد ذاکر نگر میں اس کو منعقد کیا گیا جس میں کئی خواتین نے خطاب کیا، بالخصوص محترمہ عرشی اختر صاحبہ جے، این ،یو اسٹوڈنٹ محترمہ امن صالحہ صاحبہ، جامعہ ملیہ سے محترمہ فاطمہ فیض کشفی صاحبہ اسٹوڈینٹ کریم سیٹی کالج جمشید پور، ڈاکٹر محترمہ انجم پروین صاحبہ پروفیسر وومینس کالج جمشید پور، اور کئی جانی مانی مشہور خواتین نے شرکت کی، مردوں میں بھی بہت سارے قابل ذکر حضرات بھی شامل تھے۔ تقریبا دو ہزار سے زیادہ خواتین تھیں۔ ہزار سے زیادہ مرد حضرات بھی کھڑے تھے جو خواتین کو لیکر آئے تھے بڑے ہجوم نے کھڑے ہو کر اطمینان و سکون سے سنا۔ ان میں 90 سالہ آمنہ بی بی اور 65 سالہ نابینا خاتون خورشیدہ بھی شامل تھیں۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad