نیودہلی(یواین اے نیوز 9جنوری2020)یواین آئی میں چھپی خبر کے مطابق قومی شہریت ترمیمی قانون، قومی شہری رجسڑ اور قومی آبادی رجسٹر کے خلاف جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبہ اور عام شہریوں کے مظاہرے سے خطابکرتے ہو ئے مشہور عالم دین ممتاز دانشور اور مسلم پرسنل لا بورڈ کے سابق ترجمان مولانا خلیل الرحمان سجاد نعمانی نے کہا کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبہ نے وہ کر دکھایا ہے جس کا انتظار گزشتہ 70برسوں سے تھا۔ انہوں نے کہا کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کا قیامناصرف ڈگری دینے اور نوکری کے حصول کےلئے نہیں ہوا تھا بلکہ جنگ آزادی میں حصہ لینے اور جنگ آزادی کا بگل بجانے کے لئے ہوا تھا اور آج اس ادارہ کے طلبہ نے اس بات کو ثابت کر دیا۔
اور ہندوستان ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کو یہ پیغام د ے دیا کہ یہاں کے طلبہ فسطائیت کے خلاف ڈرنے والے نہیں ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ فسطائی طاقوں سے ملک کو آزاد کرانے کے لئے یہاں کے طالب علم اس وقت میدان میں ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت پر نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ تمام طاقتیں جنہوں نے مختلف حربے اور ہتھکنڈے اپنا کر دھوکے سے اقتدار پر قبضہ کرلیا اب یہی عوام انہیں اقتدار سے بے دخل کرنے کے لئے سڑکوں پر آگئے ہیں ۔ انہوں نے شاہین باغ ، جامع نگر کے خواتین اور نوجوانوں کو سلام کرتے ہوئے کہا کہ ان خواتین نے پورے ملک میں سر فخر سے اونچا کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ سمجھتے تھے کہ مسلم خواتین کے اندر ملک کے مسائل کے تئیں کوئی سمجھ نہیں ہے۔
اور وہ اپنے چھوٹے چھوٹے مسائل میں الجھی رہتی ہیں لیکن جب ملک میں آئین کے خلاف کچھ ہوا تو مسلم خواتین نے سڑکوں پر اتر کر دکھا دیا کہ وہ ملک کے مسائل کے تئیں کتنی حساس ہیں مولانا نعمانی نے کہا کہ برداشت کی بھی کوئی حد ہوتی ہے مسلم خواتین نے بہت برداشت کیا۔ تین طلاق قانون کے خلافت سٹرکوں پر نہیں آئیں کشمیر میں دفعہ 370 کے خاتمہ پر سٹرکوں پر نہیں اتریں لیکن جب آئین کو بچانے کا معاملہ آیا تو گزشتہ تین ہفتوں سے زائد پر سٹرکوں پر ہیں اور سخت ترین سردیوں میں سڑکوں پر جمی ہوئی ہیں۔ مولانا سجادنعمانی نے کہا کہ ان نوجوانوں اور یہاں کی خواتین نے واضح کردیا تھا کہ دہ کسی کا ایاکسی پارٹی کا انتظار نہیں کریں گی۔
لاٹھیاں کھائیں گی گولیاں کھائیں گی لیکن ملک اور اپنے حق کے لئے سٹرکوں پر اتریں گی۔ انہوں نے معذرت طلب کرتے ہوئے کہا کہ مجھے اس دن آنا چاہئے تھا جس دن جامعہ کے طلبہ پر لاٹھیاں برسائی گئیں تھیں،لیکن میں بیمار تھا، لڑکوں کے پیر توڑے جارہے تھے، طالبات کے ہوسٹل میں گھس کر حملہ کیا جارہا تھا ٹوائلٹ کے اندر گھس کر بجلی بجھا کربچیوں کے ساتھ مار پیٹ کی جارہی تھی ۔ ایسا تصورکسی مہذب سماج میں ممکن نہیں ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں