نئی دہلی(یو این اے نیوز 16جنوری 2020)سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (SDPI)کا زور تحریک کی سیاست پر رہا ہے ، جس کے ذریعے ایس ڈی پی آئی نے ہندوستانی سیاست میں ایک مضبوط موجودگی درج کی ہے ۔ ایس ڈی پی آئی انتخابی سیاست میں بھی حصہ لیتی رہی ہے اور پارٹی نے آندھرا رپردیش، مغربی بنگال، تمل ناڈو، کرناٹک، کیرلہ، راجستھان جیسے متعدد ریاستوں میں بلدیہ انتخابات میں حصہ لیکر متعدد مقامات میں کامیابی حاصل کی ہے ۔ پچھلی بار ایس ڈی پی آئی نے ملک میں فرقہ وارانہ ماحول کے مدنظر پانچ ریاستوں میں صرف 14پارلیمانی انتخابی حلقوں میں اپنے امیدوار کھڑے کئے تھے۔ جس میں پارٹی کے ایک امیدوار نے 50ہزار سے زیادہ ووٹ لئے تھے اور بقیہ امیدواروں نے بھی کثیر تعداد میں ووٹ حاصل کئے تھے۔
سیکولر ووٹوں کو تقسیم ہونے سے روکنے کیلئے ایس ڈی پی آئی نے صرف منتخب سیٹوں پر امیدوار کھڑے کئے تھے تاکہ فر قہ وارنہ سیاست کو باالواسطہ طور پر بھی فائدہ نہ پہنچ سکے۔ بدقسمتی سے اپوزیشن پارٹیوں نے انتخابات میں اپنے الائنس کے ذریعے آر ایس ایس اور بی جے پی کو فائدہ پہنچایا ہے ۔ ایس ڈی پی آئی کا ماننا ہے کہ ہندوستانی سیاست میں اپوزیشن پارٹیوں کی غیر نظریاتی سیاست کی وجہ سے بڑے پیمانے پر ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ ان حالات کے پیش نظر ایس ڈی پی آئی نے ذات پات، اقربا پروری، فر قہ واریت ، لاقانونیت اور سرمایہ داری کو فروغ دینے والی بوسیدہ سیاست کے متبادل کیلئے اپنے امیدواروں کو میدان میں اتارا ہے ۔
پارٹی میں داخلی جمہوریت پر عمل پیرا اوراپنی ملک گیر موجودگی کے مدنظرایس ڈی پی آئی نے دہلی اسمبلی انتخابات فروری 2020میں 70میں سے صرف 3امیدوار کھڑے کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ پارٹی ہندوستانی سیاست میں ایک متبادل کے طورپر ترقی کرسکے اور ملک کی آئین اور جمہوریت کی حفاظت کرسکیں۔ اس ضمن میں پارٹی ہیڈ کوارٹر میں منعقد ایک پریس کانفرنس میں ایس ڈی پی آئی قومی نائب صدر اڈوکیٹ شرف الدین احمد اور قومی جنرل سکریٹری محمدشفیع نے دہلی اسمبلی انتخابات کیلئے ایس ڈی پی آئی امیدواروں کے نام کا اعلان کیا ۔ جس کے تحت اوکھلا اسمبلی حلقہ سے ڈاکٹر تسلیم احمد رحمانی، دیولی اسمبلی حلقہ سے ڈی سی کپل اور کراول اسمبلی حلقہ سے محمد الیاس ایس ڈی پی آئی کے امیدوار ہیں۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں