تازہ ترین

جمعرات، 16 جنوری، 2020

مرحبا، مرحبا، اے خواتین مرحبا

دیوبند:دانیال خان(یو این اے نیوز 16جنوری 2020)عالمی روحانی تحریک کے سربراہ مولانا حسن الہاشمی نے اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ جامعہ ملیہ کی طالبات نے این آرسی جیسے کالے قانون کے خلاف جس جدوجہد کا آغاز کیا ہے اور جس ذمہ داری کو اس موسم میں نبھایا ہے وہ ہندوستان کی تاریخ میں سنہرے الفاظ میں لکھنے کے قابل ہے۔ مولانا نے کہا کہ جامعہ ملیہ کی طالبات کی آواز اب پورے ملک میں پھیل چکی ہے اور جگہ جگہ سرکار کے خلاف اور سرکار کی ناروا سوچ اور اس کی ہٹ دھرمی کے خلاف خواتین کی طرف سے دھرنے بھی دیئے جارہے ہیں اور احتجاج بھی ہورہا ہے۔ بہار اور بنگال کی عورتیں بھی سڑکوں پر آگئی ہیں اور انہوں نے بھی جرأت مندی کا ثبوت دیا ہے۔ مولانا نے کہا کہ دیوبند کی سڑکوں پر بھی عورتوں کا ایک طوفان امنڈ آیا اور دیوبند کی عورتوں نے بھی سرکار کو آئینہ دکھانے کی کوشش کی۔

 اس طرح سے یہ تو ثابت ہوگیا ہے کہ عورتیں کسی بھی جنگ میں اور حق وباطل کی کسی بھی کشمکش میں مردوں سے پیچھے نہیں ہیں۔ مولانا حسن الہاشمی نے کہا کہ کون نہیں جانتا کہ ملک کی آزادی کی جنگ بھی بیگم واجدعلی شاہ کی کوششوں سے شروع ہوئی تھی، ہوسکتا ہے کہ آزادی کی اس نئی جنگ کا سہرا بھی خواتین کے سر ہی بندھ جائے اور ایک بار پھر رضیہ سلطانہ، لکشمی بائی اور حضرت عائشہؓ کا نام روشن ہوجائے۔ مولانا نے کہا کہ یہ لڑائی منجانب اللہ ہے اور عورتوں اور مردوں کا یہ خرچ اسی جدوجہد کا حصہ ہے جو اس دنیا میں ہمیشہ باطل کے خلاف جاری ر ہی ہے۔ مولانا نے کہا کہ سرکار کو چاہئے کہ وہ ان خواتین کی جدوجہد کو جو اس ملک کی مائیں بھی ہیں اور اس ملک کی بیٹیاں بھی نظر انداز کرنے کی غلطی نہ کرے، ان کے درد کو سمجھے اور اس بل کو واپس لے جو ہندو اور مسلمان دونوں کے لئے باعث تشویش ہے۔ مولانا نے کہا کہ اگر سب کا ساتھ اور سب کا وکاس صرف جملہ نہیں تھا۔

 تو ہمارے وزیر اعظم کو چاہئے کہ ہندوستان کی جنتا کی مانگ پوری کریں اور اس بل کو واپس لینے کا حکم دیں جو سبھی کے لئے تشویش اور تکلیف کا باعث ہے اور جس سے ہندومسلمان اور سکھ عیسائی سبھی ناخوش ہیں۔ مولانا حسن الہاشمی نے کہا کہ ہم ہندوستان بھر کی خواتین کی اس جدوجہد کو سراہتے ہیں جو انہو ںنے سرد موسم کے تھپیڑوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے جاری رکھی اور مردوں کو اس بات کا احساس دلایا کہ حق وباطل کی ہر کشمکش میں وہ مردوں کے شانہ بشانہ ہیں اور ان عورتوں کی مدد اور معیت کے بغیر کسی جنگ میں فتح پانا امر محال ہے۔ مولانا نے کہا کہ تین طلاق کے موضوع پر ہمارے وزیر اعظم مسلم خواتین کے ساتھ ہمدردی کی باتیں کرتے تھے کیا وہ ان ہندو اور مسلمان عورتوں کے درد کو محسوس کریں گے جو ایک مشترکہ درد ہے اور جو درد ان د نوں دلوں سے نکل کر ہندوستان کی سڑکوں پر ایک کرب مسلسل کی طرح بکھرا ہوا ہے؟

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad