تازہ ترین

ہفتہ، 18 جنوری، 2020

پانی کو بلا وجہ بہانا اور ضائع کرنا

بقلم: مفتی محمدعطاءاللہ سمیعی


حتی کہ وضو اور غسل میں بھی اسراف و فضول خرچی یعنی پانی ضرورت سے زیادہ بہانا درست نہیں ہے، آپ نیچے آنیوالی احادیث کا مطالعہ فرمائیں;حدثنا موسى بن إسماعيل، ‌‌‌‌‌‏حدثنا حماد، ‌‌‌‌‌‏حدثنا سعيد الجريري، ‌‌‌‌‌‏عن ابي نعامة، ‌‌‌‌‌‏ان عبد الله بن مغفل، ‌‌‌‌‌‏سمع ابنه يقول:‌‌‌‏ اللهم إني اسالك القصر الابيض عن يمين الجنة إذا دخلتها، ‌‌‌‌‌‏فقال:‌‌‌‏ اي بني، ‌‌‌‌‌‏سل الله الجنة وتعوذ به من النار، ‌‌‌‌‌‏فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول:‌‌‌‏ "إنه سيكون في هذه الامة قوم يعتدون في الطهور والدعاء".(رواہ ابو داؤد)ترجمہ;ابونعامہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے کو کہتے سنا: اے اللہ! میں جب جنت میں داخل ہوں تو مجھے جنت کے دائیں طرف کا سفید محل عطا فرما، آپ نے کہا: میرے بیٹے! تم اللہ سے جنت طلب کرو اور جہنم سے پناہ مانگو، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”اس امت میں عنقریب ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو طہارت اور دعا میں حد سے تجاوز کریں گے“ ۱؎۔تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/الدعاء ۱۲ (۳۸۶۴)، (تحفة الأشراف: ۹۶۶۴)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۴/۸۶) (صحیح)۔

وضاحت: ۱؎: طہارت میں حد سے تجاوز کا مطلب یہ ہے کہ وضو، غسل یا آب دست میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ’’تحدید‘‘ سے زیادہ بلا ضرورت پانی بہایا جائے، اور دعا میں حد سے تجاوز کا مطلب ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعائیں چھوڑ کر دوسروں کی تکلفات سے بھری، مقفی اورمسجّع دعائیں پڑھی جائیں، یا حد ادب سے تجاوز ہو، یا صلہ رحمی کے خلاف ہو، یا غیر شرعی خواہش ہو۔شیخ ابن باز سے فضول پانی بہانے کے بارے میں معلوم کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ حدیث میں پانی ضائع کرنے سے منع کیا گیا ہے حضرت عبداللہ ابن عمرو ابن عاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت سعد کے پاس سے گزرے وہ وضو میں پانی بہت بہارہے تھے تو آپ نے فرمایا اے سعد یہ فضول خرچی کیوں کررہے ہو؟ حضرت سعد نے عرض کیا کیا وضو میں بھی فضول خرچی ہوتی ہے؟ تو آپ نے فرمایا پانی میں فضول خرچی نہ کرو چاہے تم نہر کے کنارے پر ہو یعنی جتنی ضرورت ہو اتنا پانی استعمال کرو روى الإمام أحمد (6768) وابن ماجة(419) عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رضي الله عنهما (أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِسَعْدٍ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ فَقَالَ : مَا هَذَا السَّرَفُ يَا سَعْدُ ؟ قَالَ : أَفِي الْوُضُوءِ سَرَفٌ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، وَإِنْ كُنْتَ عَلَى نَهْرٍ جَارٍ)اسکے بعد ابن باز نے قرآن کی آیت کلوا واشربوا ولا تسرفوا ان اللہ لایحب المسرفین (کھاؤ اور پیو لیکن فضول خرچی نہ کرو،اللہ فضول خرچی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا) ذکر فرمائی اور اس سے استدلال کیا کہ ضرورت سے زیادہ کسی بھی چیز میں خرچ کرنا فضول خرچی ہے، اور فرمایا کہ مسلمان کو ہر چیز میں میانہ روی کا حکم دیا گیا ہے۔

ابن باز کا جواب نیچے ملاحظہ فرمائیں
الجواب: نعم، يروى عن سعد بن أبي وقاص عن النبي ﷺ أنه نهى عن الإسراف ولو كان على نهر جاري والآية تعم ذلك، الله قال: وَلا تُسْرِفُوا [الأعراف:31]، فالآية تعم ذلك، وقال النبي ﷺ: كل واشرب والبس وتصدق في غير سرف ولا مخيلة، فالمؤمن مأمور بالاقتصاد في كل شيء منهي عن الإسراف في كل شيء، حتى الماء حتى في الوضوء والغسل يقتصد. نعم.المقدم: جزاكم الله خيراً.اللہ تبارک وتعالی نے فضول خرچی کرنے والوں کو شیطان کا بھائی قرار دیا ہےان المبذرین کانوا اخوان الشیاطین وکان الشیطن لربہ کفورا، نیز فضول خرچی کرنے سے بے برکتی پیدا ہوتی ہے فرمایا اللہ تعالی نے ولاتبسطہا کل البسط فتقعد ملوما محسورایعنی نہ ہاتھ کو بالکل کھول دے (فضول خرچ نہ کر) ورنہ تو تو ملامت زدہ ہوکر اور حسرت میں ہوکر بیٹھ جائیگا یعنی تیرے پاس کچھ نہ بچیگا،آج پانی کے حصول کیلئے جتنی آسانی ہوگئی۔

 سمبر سیبل لگ گئے جسمیں منٹوں میں کئی سو لیٹر پانی نکل جاتا ہے یہ اللہ کی بڑی نعمت ہے لیکن اسی کے ساتھ ہماری فضول خرچی بھی بڑھ گئی، ہمیں نہانے میں دو بالٹی کی ضرورت ہوتی ہے لیکن ہم سمبر سیبل کیوجہ سے دس پندرہ بیس بالٹی پانی فضول بہادیتے ہیں وہ بھی اسطرح کہ وہ بہنے والا پانی ہمارے بدن سے لگتا بھی نہیں یونہی فضول بہہ جاتا ہے، ہم وضو کرتے ہیں ہمیں ضرورت ایک دو لوٹے کی ہے لیکن ہم دسیوں بالٹی پانی سمبر سیبل چلاکر ضائع کردیتے ہیں، اگر ہمیں تازہ پانی یا زیادہ پانی کی ضرورت ہے تو ہمیں چاہئے کہ اوپر کا ٹینک بھرلیں یا دوتین بالٹیاں بھرکر رکھ لیں اس سے نہائیں تاکہ ضیاع نہ ہو اور ہمیں آخرت میں جواب نہ دینا پڑے،بچے بڑوں کے نقش قدم پر چلتے ہیں لہذا کل کو ہماری نسل بھی اسی فضول خرچی کی عادی ہوجائیگی اور سب کا گناہ ہمارے سر ہوگا، اللہ ہمیں عمل کی توفیق عطاء فرمائے۔

وماعلینا الالبلاغ

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad